حماس کے قیام کے پیچھے اسرائیلی پالیسی اور اس کے خطرناک نتائج
1970 اور 1980 کی دہائی میں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں آئیں عرب دنیا میں سیکولر قوم پرستی کمزور ہوئی جبکہ اسلام پسند سیاسی تحریکوں کو فروغ ملا۔ فلسطین میں اس تبدیلی کا گہرا اثر پڑا، جہاں اس وقت اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت زیادہ تر سیکولر اور بائیں بازو سے وابستہ تنظیموں کے ہاتھ میں تھی، جن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن بھی شامل تھی
تاریخی تجزیوں کے مطابق اسرائیل نے فلسطینی قوم پرست تحریکوں، خصوصاً یاسر عرفات کی قیادت والی فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے مقابلے میں اسلامی تحریکوں کو ایک ممکنہ سیاسی توازن کے طور پر دیکھا۔ غزہ میں شیخ احمد یاسین نے 1970 کی دہائی میں اخوان المسلمون سے وابستہ ایک سماجی اور مذہبی نیٹ ورک قائم کیا، جس کے تحت مساجد، اسکول، طبی مراکز اور فلاحی سرگرمیاں شروع ہوئیں اسرائیلی حکام نے ابتدا میں اس سرگرمی کو نسبتاً آزادی دی
1979 میں اسرائیلی فوجی انتظامیہ نے احمد یاسین کی تنظیم المجمع الاسلامی کو باقاعدہ طور پر تسلیم بھی کیا خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب سے ملنے والی مالی امداد نے اس نیٹ ورک کو مزید مضبوط کیا جبکہ 1978 میں غزہ میں ایک اسلامی یونیورسٹی کے قیام کی اجازت بھی دی گئی، جو بعد میں اسلام پسند تحریک کی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن گئی
بعد میں اسرائیلی فوج کے ایک سابق افسر نے اعتراف کیا کہ احمد یاسین کے منصوبے کی مدد کے لیے سرکاری بجٹ بھی فراہم کیا جاتا تھا تاکہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے تاہم یہ حکمت عملی بالآخر اسرائیل کے لیے ہی ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہوگئی
1987 میں پہلی انتفاضہ شروع ہونے کے بعد احمد یاسین اور ان کے ساتھیوں نے اپنی سماجی و مذہبی تنظیم کو مسلح مزاحمتی تحریک میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ 1988 کے آغاز میں اسی نیٹ ورک نے حماس کے نام سے اپنا منشور جاری کیا یوں ایک ایسی تنظیم جو ابتدا میں مذہبی اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے فلسطینی معاشرے میں اثر بڑھا رہی تھی، اسرائیلی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کی ایک بڑی قوت بن گئی
اس تبدیلی کے بعد اسرائیلی حکام کو اندازہ ہوا کہ جس تحریک کو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے مقابلے میں ایک سیاسی توازن کے طور پر برداشت کیا گیا تھا، وہ اب خود ایک طاقتور مخالف بن چکی ہے۔ 1989 میں اسرائیل نے حماس کو غیر قانونی قرار دیا اور احمد یاسین کو دوبارہ گرفتار کر لیا، لیکن اس وقت تک تنظیم غزہ میں مضبوط جڑیں قائم کر چکی تھی
بعد کے برسوں میں بھی حماس اور فلسطینی قیادت کی تقسیم اسرائیلی سیاست کا اہم موضوع رہی۔ 2009 سے 2023 کے دوران غزہ کو قطری مالی امداد کی منتقلی کے معاملے پر بھی یہ الزام سامنے آتا رہا کہ اسرائیلی حکومت نے حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے غزہ میں برقرار رہنے دیا تاکہ فلسطینی قیادت متحد نہ ہو سکے اور مغربی کنارے میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی حیثیت کمزور رہے
اس پالیسی کے ناقدین کے مطابق فلسطینی سیاسی تقسیم کو برقرار رکھنے کی یہ حکمت عملی بالآخر اسرائیل کے خلاف ہی پلٹ گئی۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملے نے اسرائیلی دفاعی اور انٹیلی جنس نظام کی بڑی ناکامی کو ظاہر کیا اور اس کے بعد غزہ میں ایک تباہ کن جنگ شروع ہوئی
اس پوری تاریخ سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کسی سیاسی مخالف کو کمزور کرنے کے لیے ایک دوسرے گروہ کو وقتی طور پر مضبوط کرنے کی حکمت عملی کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتی ہے حماس کا ارتقا اسی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ کسی تحریک کو اپنے مخالف کے مقابلے میں استعمال کرنے کی کوشش مستقبل میں ایک کہیں زیادہ طاقتور اور خطرناک چیلنج پیدا کر سکتی ہے




