ڈگری سے نکاح نامے تک: کیپٹن صفدر اور احسن بھون آمنے سامنے، شریف خاندان کی عزت ٹکا ٹوکری کرنے والے غیر نہیں دونوں اپنے ہیں ، وکلا سیاست کا نیا تنازعہ جس میں ڈگریاں اور نکاح نامے تصدیق طلب ہیں
پاکستان کی وکلا سیاست میں سپریم کورٹ بار کے انتخابات سے پہلے ایک ایسا غیر معمولی تنازع کھڑا ہوگیا ہے جس میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اور سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن و پاکستان بار کونسل کے رکن وزیر قانون اعظم تارڑ کے دوست اور گروپ کے حمایتی احسن بھون ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں، معاملہ پہلے ایک وکیل امیدوار کی ڈگری سے شروع ہوا، پھر احسن بھون کی تعلیمی اسناد تک پہنچا اور اب سوشل میڈیا پر مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے نکاح نامے تک کے الزامات اچھالے جا رہے ہیں
تنازعہ کا مرکزی نکتہ سپریم کورٹ بار کے صدارتی امیدوار سید امجد شاہ کی تعلیمی اسناد ہیں، جنکا تعلق کیپٹن صفدر کے آبائ علاقے مانسہرہ سے ہے اور کیپٹن صفدر نے ان کی ڈگری پر سوالات اٹھائے ہیں اور ان کے خلاف پہلے سے موجود قانونی تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے احسن بھون اور ان کے گروپ سے مطالبہ کیا کہ وہ امجد شاہ کی حمایت نہ کریں،دستیاب عدالتی ریکارڈ سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ امجد شاہ کی ایل ایل بی ڈگری کے حوالے سے 2022 میں پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہوئی تھی اور عدالت نے انہیں اصل ڈگری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا تھا، تاہم موجودہ تنازعہ میں اس معاملے کی حتمی قانونی حیثیت کو الگ سے دیکھنا ضروری ہے
احسن بھون نے کیپٹن صفدر کے مطالبے کے باوجود امجد شاہ کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا تو صفدر نے خود احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری کی تصدیق کا سوال اٹھا دیا،کیپٹن صفدر کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی گردش کرنے لگا کہ احسن بھون اپنی ڈگری دکھائیں اور اگر وہ اصلی ثابت ہوئی تو کیپٹن صفدر ان سے معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں،ڈگری کے معاملے پر بھون کی جانب سے قانونی کارروائی بھی شروع کی گئی ہے
تازہ اطلاعات کے مطابق احسن بھون نے کیپٹن صفدر کو پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیجا ہے،نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان کی ایل ایل بی ڈگری کو جعلی قرار دینے والا مبینہ بیان بے بنیاد اور ہتک آمیز ہے،بھون کے مطابق انہوں نے مارچ 1989 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی نے جنوری 2026 میں ان کی اسناد کو تصدیق شدہ قرار دیا تھا،یہ بھون کا مؤقف ہے، جبکہ ڈگری پر اعتراض کرنے والے کیپٹن صفدر اپنے سوال پر قائم ہیں اور کہتے ہیں بیان بازی کے ذریعے ڈگری کی سچائ ثابت کرنے کی بجائے ڈگری دکھای جائے
دوسری طرف معاملہ صرف ڈگری تک محدود نہیں رہا،احسن بھون کے قریبی وکیل میاں داؤد نے سوشل میڈیا پر کیپٹن صفدر کے نکاح نامے سے متعلق سوال اٹھایا اور کہا کہ جو شخص احسن بھون کی ڈگری کی تصدیق کا مطالبہ کر رہا ہے، وہ پہلے اپنا نکاح نامہ سامنے لائے،یوں ایک پیشہ ورانہ اور انتخابی تنازع انتہائی ذاتی نوعیت کے الزامات تک جا پہنچا ہے اور اس مہم میں میاں نواز شریف خاندان کی عزت داؤ پر لگا دی گئی ہے اور عزت داؤ پر لگانے والے کوئ اور نہیں ایک میاں نواز شریف کا داماد ہے تو دوسرا انکے سیاسی نظریات کا حمایت کرنے والا
کیپٹن صفدر نے اس کے جواب میں بھی بنیادی سوال ڈگری کا ہی رکھا ہے،ان کا مؤقف ہے کہ اگر احسن بھون اپنی ڈگری دکھا دیں تو وہ معافی مانگنے سمیت اپنی بات واپس لینے کے لیے تیار ہیں،یوں دونوں جانب سے قانونی اور ذاتی نوعیت کے الزامات کا سلسلہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہا ہے
اس پورے تنازعہ میں ایک سیاسی پہلو بھی نمایاں ہے،پاکستان مسلم لیگ ن کے لائرز فورم نے سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں احسن بھون کے حمایت یافتہ انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدوار سید امجد شاہ کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے،کیپٹن صفدر نے اس کے مقابل اپنا گروپ بنانے اور وکلا انتخابات میں اپنا سیاسی کردار بڑھانے کا اعلان کیا ہے
ادھر وفاقی وزیر قانون اور احسن بھون کے ہم پیالہ و نوالہ اعظم نذیر تارڑ نے بھی تنازعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کیپٹن صفدر کو بار کے انتخابات سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے، تارڑ کا کہنا ہے کہ صفدر نہ وکیل ہیں اور نہ بار کے رکن، جبکہ ان کے مطابق 2020 کے انتخابات کے دوران احسن بھون سمیت متعلقہ امیدواروں کی ڈگریوں اور کوائف کی تصدیق ہوچکی تھی،تارڑ نے یہ بھی کہا کہ ان کے ذاتی علم کے مطابق احسن بھون کی ڈگری کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ احسن بھون عاصمہ جہانگیر کے نام سے منسوب انڈیپنڈنٹ گروپ کی قیادت کرتے ہیں، جبکہ عاصمہ جہانگیر پاکستان میں انسانی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے ایک نمایاں آواز رہی تھیں، موجودہ وکلا سیاست میں اسی گروپ کو حکومتی و ریاستی حمایت حاصل ہونے کا تاثر زیر بحث ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے لائرز فورم کی جانب سے امجد شاہ کی حمایت بھی سامنے آچکی ہے،دوسری طرف کیپٹن صفدر نے اسی انتخابی صف بندی کو چیلنج کیا ہے
اس سارے منظرنامے میں سب سے غیر معمولی بات یہ ہے کہ تنازعہ اب صرف سپریم کورٹ بار کے انتخاب یا کسی امیدوار کی اہلیت تک محدود نہیں رہا،ایک طرف ڈگریوں کی تصدیق کا مطالبہ ہے، دوسری طرف اربوں روپے کے ہرجانے کا نوٹس، پھر نکاح نامے کے جوابی الزامات اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان،یوں پاکستان کی طاقتور سیاسی اور قانونی اشرافیہ کے دو حلقوں کے درمیان جاری یہ لڑائی اب عوامی تماشے میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے
تاہم ڈگری جعلی ہے یا اصلی، امجد شاہ کی اہلیت پر اٹھائے گئے اعتراضات کا حتمی قانونی نتیجہ کیا ہے، یا نکاح نامے سے متعلق سوشل میڈیا کے دعووں میں کوئی حقیقت ہے، ان سوالات کا فیصلہ الزامات یا سوشل میڈیا کی بحث سے نہیں بلکہ متعلقہ سرکاری، عدالتی اور تعلیمی ریکارڈ سے ہی ہوسکتا ہے،فی الحال یقینی حقیقت یہ ہے کہ کیپٹن صفدر نے سوال اٹھایا ہے، احسن بھون نے اس کی تردید کرتے ہوئے قانونی نوٹس بھیجا ہے، اور دونوں طرف سے تنازعہ مسلسل بڑھ رہا ہے مگر ایک فریق ڈگری دکھانے سے گریز کررہا ہے تو دوسرا نکاح نامہ





