Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت پر دہشت گردی برآمد کرنے کا الزام، عالمی سطح پر کارروائیوں کا حوالہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت پر دہشت گردی برآمد کرنے کا الزام، عالمی سطح پر کارروائیوں کا حوالہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے نئی دہلی پر دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے، گمراہ کن معلومات پھیلانے اور خطے سے باہر بھی ایسی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں
81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی نمائندے کے بیان کے جواب میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت نے پروپیگنڈے کو ریاستی حکمت عملی اور غلط معلومات کو سفارت کاری کا حصہ بنا لیا ہے ان کے مطابق بھارت پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردی اور تشدد کو پالیسی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور خطے میں بالادستی کی کوششوں کے ساتھ ہندو انتہا پسند نظریے کو ریاستی پالیسی میں شامل کر رہا ہے یہ الزامات پاکستان کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور بھارت ان دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے
صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے اور صدی کے آغاز سے اب تک دہشت گردی کے نتیجے میں تقریباً 100,000 پاکستانی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ ملک کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سمیت پاکستان کو نشانہ بنانے والے گروہوں کی مبینہ مالی معاونت اور مدد سے متعلق شواہد بھی پیش کیے ہیں
پاکستانی نمائندے نے بھارت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس کی مبینہ دہشت گردی کی سرگرمیاں اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ عالمی سطح تک پہنچ گئی ہیں اس سلسلے میں انہوں نے سابق بھارتی بحری افسر کلبھوشن جادھو کا حوالہ دیا، جسے پاکستان نے دہشت گردی اور جاسوسی کے الزامات میں سزا سنائی تھی، جبکہ امریکا میں نکِل گپتا نے ایک سکھ رہنما کے قتل کی سازش میں جرم قبول کیا تھا امریکی مقدمے میں امریکی حکام نے گپتا پر بھارتی حکومت سے منسلک ایک شخص کی ہدایت پر قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا صائمہ سلیم نے کینیڈا میں ہونے والی بعض مبینہ ٹارگٹ کلنگز کا بھی حوالہ دیا
کشمیر کے معاملے پر پاکستان نے ایک مرتبہ پھر مؤقف دہرایا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے پاکستانی نمائندے نے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کی صورتحال پر بھی اعتراضات اٹھائے
بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صائمہ سلیم نے بھارتی حکومت اور حکمران بی جے پی سے وابستہ ہندو قوم پرست نظریے پر تنقید کی انہوں نے مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گجرات اور دہلی میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، مسلمانوں کے قتل عام کی مبینہ اپیلیں، اسلام مخالف بیانات اور شہریت سے متعلق متنازع قوانین اسی وسیع تر سیاسی رجحان کا حصہ ہیں
سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر بھی پاکستان نے بھارت پر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا پاکستانی نمائندے نے کہا کہ پانی پاکستان کے 240 ملین سے زیادہ لوگوں کی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اسے سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران خبردار کیا تھا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، کم کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے بھارتی اقدام کی کوئی قانونی بنیاد نہیں، جبکہ بھارت نے پانی کے معاہدے سے متعلق اپنے اقدامات کا دفاع کیا ہے
یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر دہشت گردی، خطے میں عدم استحکام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں اس سے ایک روز قبل بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی ایک پاکستانی صحافی کے سوال کے جواب میں پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے سخت ردعمل دیا تھا

قومی خبریں سے مزید