906 اسکوائر کلومیٹر کا اسلام آباد پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان دے رہا ہے، صوبوں کی تقسیم کا تجربہ نہ کیا جائے: ثناء اللہ بلوچ
اسلام آباد : سابق سینیٹر بلوچستان ثناء اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان 906 اسکوائر کلومیٹر پر مشتمل اسلام آباد دے رہا ہے، جہاں سے ملک کو سالانہ تقریباً 6 سے 7 ہزار ارب روپے سبسڈیز، اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (SOEs) کے نقصانات اور دیگر اخراجات کی صورت میں برداشت کرنا پڑتے ہیں
ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ پی آئی اے، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل مل اور دیگر خسارہ دینے والے ادارے بلوچستان یا سندھ کے پاس نہیں بلکہ پاکستان کے پڑھے لکھے بابوؤں اور اسلام آباد کے حکمرانوں کے پاس رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ جب تمام اداروں کو تباہ کر دیا گیا تو صرف صوبوں کی ری آرگنائزیشن، ری کونسٹی ٹیوشن یا سرنو حد بندیوں سے ترقی نہیں آئے گی، انتظامی یونٹس یا نئے صوبے گزشتہ چار سال کی نااہلی تباہی چھپانے کا ایک بہانہ ہے
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 1 واضح طور پر پاکستان کو وفاقی ریاست قرار دیتا ہے،چار وفاقی اکائیوں کو ختم یا ان کی ساخت تبدیل کرنے کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا اور کونسٹی ٹیونٹ اسمبلی بنانی پڑے گی،عوام کی مرضی سے منتخب کونسٹی ٹیونٹ اسمبلی اگر وفاقی وحدتوں کی ساخت تبدیل کرنے کا فیصلہ کرے تو یہ الگ معاملہ ہوگا
ریفرنڈم کے حوالے سے ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ ریفرنڈم محض رائے لینے کا طریقہ ہے، اس کے ذریعے وفاقی وحدتوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا،آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے یا وفاقی اکائی کی تشکیل نو یا حد بندی میں تبدیلی کے لیے متعلقہ ریاست کی مرضی معلوم کرنا ضروری ہے
انہوں نے کہا کہ صوبوں کی ساخت تبدیل کرنے جیسے معاملے کو صرف ‘‘Yes’’ یا ‘‘No’’ کے سوال میں نہیں سمیٹا جا سکتا، کیونکہ اس کے سیاسی، آئینی، معاشی، معاشرتی اور جغرافیائی اثرات ہیں،ان کے مطابق ریفرنڈم معاشی پالیسی، اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز، نیشنل فنانس کمیشن کے تحت وسائل کی تقسیم یا صوبوں کے درمیان انسانی ترقی اور آمدنی کے فرق جیسے معاملات پر ہو سکتا ہے
ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی بڑے مسائل کا شکار ہے،دو وفاقی اکائیوں میں مزاحمت، بغاوت، انسرجنسی اور ٹیررازم ہے جبکہ سندھ میں بھی ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں، اس لیے ملک کے وفاقی ڈھانچے کے ساتھ ایسا کھیل نہیں کیا جانا چاہیے
SIFC کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ چار سال میں مختلف تجربے کیے اور 100 سے 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی بات کی گئی، مگر ابھی تک پاکستان میں ایک ڈالر بھی نہیں آیا،ان کے مطابق پاکستان میں اصل مسئلہ رول آف لا، گورننس، کرپشن اور بیوروکریسی کا ہے
ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ پنجاب میں تقریباً 2500 ارب روپے نان ڈویلپمنٹ اخراجات میں جاتے ہیں جبکہ بلوچستان کے تقریباً 900 سے 950 ارب روپے کے ڈویلپمنٹ PSDP میں سے تقریباً 650 ارب روپے بیوروکریسی کے نان ڈویلپمنٹ اخراجات پر خرچ ہوتے ہیں
انہوں نے ساڑھے 6 ارب روپے کی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں دو دن کے لیے رینٹ پر بھی لی جا سکتی تھیں، ان کے بقول وفاق میں اتنا پیسہ ہے کہ پوچھنے والا اور اکاؤنٹبلٹی موجود نہیں
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیموکریٹک ریفارم، اکاؤنٹبلٹی، رول آف لا، ٹرانسپیرنسی، اکنامک ڈویلپمنٹ اور پولیٹیکل اسٹیبلٹی پر کھلی بحث ہونی چاہیے،، صوبوں کی تقسیم کی بات دراصل گزشتہ تین چار سال کی خامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہے
ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان کا فیڈرل اسٹرکچر تبدیل کرنے کے بجائے ایک انکلوژو سسٹم بنایا جائے، سب کو عزت و احترام دیا جائے اور شفاف انتخابات کرائے جائیں،انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اگر وفاقی ڈھانچے کو ڈسمینٹل کیا گیا تو غیر متوقع اور بہت بڑے فیصلے اور نتائج سامنے آ سکتے ہیں






