وینس میں 25 منٹ تک تالیاں، اسرائیل میں فلم سازوں کو دھمکیاں، غزہ پر بننے والی NAZA نے نیا تنازع کھڑا کردیا
وینس فلم فیسٹیول میں غزہ جنگ پر بننے والی دستاویزی فلم NAZA کو 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی، لیکن اسرائیل واپسی پر اس کے اسرائیلی ہدایت کاروں یوول ابراہام اور ریچل سور کو شدید ردعمل، سیاسی حملوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا،فلم نے وینس فیسٹیول میں اسپیشل جیوری پرائز بھی حاصل کیا
گارڈین کی تیار کردہ 80 منٹ کی اس دستاویزی فلم میں 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گمنام ہلاکتیں شامل ہیں،فلم میں ان ذرائع نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے نگرانی اور اے آئی سے معاونت یافتہ اہداف کے تعین کے نظام کے بارے میں دعوے کیے ہیں اور کہا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کو بعض حالات میں پہلے سے متوقع نتیجے کے طور پر شمار کیا جاتا تھا،فلم کے بعض دعوے پہلے کی تحقیقاتی رپورٹس پر بھی مبنی ہیں
فلم کی وینس میں غیر معمولی پذیرائی کے برعکس اسرائیل میں اس پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا،وزیر ثقافت میکی زوہر نے ہدایت کاروں پر ریاست سے غداری کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فلم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،نیتن یاہو نے بعد میں ایسے افراد کی شہریت ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی حمایت کا اعلان کیا جو ان کے بقول اسرائیلی فوجیوں کو بدنام کریں
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے بھی فلم کو حقائق کو مسخ کرنے اور فوجی اہلکاروں کے خلاف سنگین اور جھوٹے الزامات پر مبنی قرار دیا ہے،فلم سازوں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے جن ذرائع سے بات کی، ان کی شناخت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر خفیہ رکھی گئی ہے
اس تنازعہ کے دوران دائیں بازو کے کارکنوں کی جانب سے فلم سازوں اور ان کے خاندانوں کے خلاف دھمکیوں اور احتجاج کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں،دوسری طرف اسرائیلی اور عالمی فلمی صنعت کے ایک بڑے حلقے نے دونوں ہدایت کاروں کے حق میں آواز اٹھائی ہے،گارڈین کے مطابق 1,500 سے زیادہ اسرائیلی فلم سازوں نے ان کی حمایت میں ایک درخواست پر دستخط کیے ہیں
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے والے ہیں اور غزہ جنگ، فوجی کارروائیوں، آزادی اظہار اور حکومت کی پالیسیوں پر اندرون ملک سیاسی بحث جاری ہے،NAZA کی وینس میں پذیرائی اور اسرائیل میں اس کے خلاف شدید ردعمل نے فلم کو محض ایک سینما پروجیکٹ کے بجائے جنگ، فوجی احتساب اور آزادی اظہار سے متعلق جاری سیاسی تنازعہ کا حصہ بنا دیا ہے





