آبنائے ہرمز کی رکاوٹ سے 80 سال میں عالمی تجارت کو بدترین خطرے کا سامنا

آبنائے ہرمز کی رکاوٹ سے 80 سال میں عالمی تجارت کو بدترین خطرے کا سامنا

عالمی تجارتی نظام کو گزشتہ 80 سال کے دوران سب سے بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے اور آبنائے ہرمز میں سپلائی کے راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں عالمی سطح پر خوراک اور کھاد کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں عالمی تجارتی تنظیم کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو ایویلا نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی تجارت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے
جنیوا میں عالمی تجارتی تنظیم کے عوامی فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی تجارتی نظام اب بھی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں طویل عرصے تک رکاوٹ برقرار رہنے سے اس کے اثرات عالمی معیشت پر نمایاں ہو سکتے ہیں عالمی تجارتی تنظیم کے 166 رکن ممالک بھی اس صورتحال سے متاثر ہو سکتے ہیں
ان کے مطابق جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کے باوجود رواں سال عالمی اشیا کی تجارت میں 4.6 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ دنیا کی مجموعی تجارت کا 72 فیصد اب بھی عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد کے تحت ہو رہا ہے پورے سال عالمی اشیا کی تجارت میں 1.9 فیصد اضافے کا ابتدائی اندازہ لگایا گیا تھا، تاہم سال کی پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 3.2 فیصد رہی جو توقعات سے زیادہ تھی
عالمی تجارت میں اس اضافے کا ایک اہم سبب مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات اور ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تجارت بھی ہے کم یا صفر محصولات کے معاہدوں کے تحت سیمی کنڈکٹرز اور چپس کی عالمی تجارت تقریباً 3 کھرب ڈالر تک پہنچ چکی ہے تاہم عالمی تجارتی تنظیم کی سربراہ نے خبردار کیا کہ اس تجارت کے فوائد زیادہ تر شمالی امریکا اور مشرقی ایشیا تک محدود ہیں، جس سے عالمی منڈی میں مساوی مواقع کے حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں
آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے ابتدائی اثرات کو مختلف ممالک کے قومی ذخائر نے کسی حد تک محدود رکھا ہے، لیکن اگر یہ صورتحال طویل ہوتی ہے تو زرعی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے عالمی تجارتی تنظیم کے سابقہ اندازوں کے مطابق خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے عالمی تجارت کی شرح نمو میں 0.5 فیصد پوائنٹ کمی آ سکتی ہے، جبکہ موجودہ قیمتیں اس سطح سے تجاوز کر چکی ہیں
بحری جہازوں نے تجارت جاری رکھنے کے لیے متبادل راستے اختیار کیے ہیں، لیکن طویل راستوں کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے عالمی تجارتی تنظیم کی سربراہ کے مطابق اگر اہم بحری گزرگاہوں میں مسلسل رکاوٹیں پیدا ہوتی رہیں تو موجودہ عالمی سپلائی چین کا استحکام طویل مدت میں متاثر ہو سکتا ہے
دنیا کی مختلف حکومتیں مستقبل میں اہم تجارتی راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں سے اپنی معیشتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کر رہی ہیں سپلائی چین میں غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں نے عالمی تجارتی تنظیم کے اندر موجودہ عالمی تجارتی قواعد میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی بحث تیز کر دی ہے
عالمی تجارتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ عالمی اقتصادی ترقی کو زیادہ منصفانہ بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں ان کے مطابق موجودہ عالمی تجارتی نظام ترقی پذیر ممالک کے لیے کئی مواقع پر مؤثر ثابت نہیں ہوا، اس لیے ترقی پذیر ممالک کو نئے تجارتی قواعد کی تشکیل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہ عالمی معیشت میں پیدا ہونے والے نئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں
عالمی تجارتی تنظیم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اگر کثیر ملکی تعاون کا نظام کمزور ہوا اور تجارتی قوانین کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل نہ کیا گیا تو 2050 تک عالمی اقتصادی ترقی کی ممکنہ شرح کا 10 فیصد تک حصہ ضائع ہو سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید