یمن بحران میں پاکستان نے سعودی عرب کی حمایت کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دے دیا
یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں ایک بڑے فوجی تصادم کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں ایسے حالات میں پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے پاکستانی دفتر خارجہ نے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے
پاکستان کے لیے یہ ایک اہم توازن کی پالیسی ہے کیونکہ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاہدے اور دیرینہ تعلقات ہیں، جبکہ دوسری طرف یمن کی جنگ میں براہ راست اور غیر معینہ مدت تک فوجی طور پر شامل ہونا پاکستان کے لیے پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے
مضمون میں یاد دلایا گیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مغربی ممالک کی فوجی حمایت کے باوجود 2015 سے شروع ہونے والی مہم کے ذریعے حوثیوں کو ختم نہیں کیا بعد ازاں 2022 میں سعودی عرب نے جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی تھی، تاہم موجودہ کشیدگی کے باعث یہ صورتحال دوبارہ خراب ہو گئی ہے
اس تصور کو بھی سادہ قرار دیا گیا ہے کہ حوثیوں کو صرف ایران کا نمائندہ سمجھ کر مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے مضمون کے مطابق حوثی ایک مقامی یمنی گروہ ہیں جن کی یمن میں صدیوں پرانی ثقافتی اور سیاسی جڑیں موجود ہیں اور انہیں ملک کے شمالی علاقوں میں بعض مقامی قبائل کی حمایت بھی حاصل ہے اسی لیے صرف فوجی کارروائی کے ذریعے انہیں ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا اور یمن کے کسی بھی پائیدار حل میں حوثیوں کو مذاکرات کا حصہ بنانا ضروری ہوگا
یمن میں انسانی صورتحال بھی انتہائی سنگین بتائی گئی ہے حالیہ لڑائی کے دوران تقریباً 100,000 افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 20 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ مسلسل جنگ کے باعث یمن کا صحت کا نظام بھی شدید متاثر ہو چکا ہے
بحیرہ احمر میں باب المندب ایک انتہائی اہم عالمی تجارتی راستہ ہے اگر حوثیوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ راستہ مکمل طور پر بند ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف یمن اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت اور پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر اس تنازع میں مزید علاقائی ممالک شامل ہو گئے تو صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتی ہے
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان عمان کے ذریعے مذاکرات کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ رابطہ جنگ بندی کی راہ ہموار کر سکتا ہے ایک ممکنہ طویل مدتی حل کے لیے حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ باب المندب کو تمام ممالک کی تجارت کے لیے کھلا رکھنے اور سعودی عرب پر حملے روکنے کی ضمانت دیں، جبکہ سعودی عرب حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی ناکہ بندی ختم کرے
اس کے بعد ایک وسیع سیاسی مذاکراتی عمل کے ذریعے ایسی یمنی حکومت تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے جس میں ملک کے مختلف قبائل اور مذہبی و سیاسی گروہوں کو نمائندگی حاصل ہو پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی معاہدے میں یمن اور سعودی عرب دونوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور یمن کے تمام اہم فریقوں کو سیاسی نظام میں شامل کیا جائے





