فرانس کی فٹبال ٹیم پر تبصرے کے بعد سابق ہسپانوی وزیراعظم کو نسل پرستی کے الزامات کا سامنا

فرانس کی فٹبال ٹیم پر تبصرے کے بعد سابق ہسپانوی وزیراعظم کو نسل پرستی کے الزامات کا سامنا

میڈرڈ — فرانس کی قومی فٹبال ٹیم کے بارے میں ایک متنازع بیان دینے کے بعد اسپین کے سابق وزیراعظم ماریانو راخوئے کو سیاسی رہنماؤں اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں بعض افراد نے ان کے الفاظ کو نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔

ماریانو راخوئے، جو ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۸ تک اسپین کے وزیراعظم رہے، نے عالمی کپ ۲۰۲۶ کے سیمی فائنل میں اسپین اور فرانس کے مقابلے سے قبل ایک اخباری کالم میں لکھا کہ فرانسیسی ٹیم میں ’’کوئی فرانسیسی کھلاڑی موجود نہیں‘‘۔

ان کے اس تبصرے نے فرانس اور اسپین دونوں ممالک میں بحث کو جنم دیا، کیونکہ فرانس کی قومی ٹیم میں مختلف نسلی پس منظر رکھنے والے کھلاڑی شامل ہیں، جن میں سے کئی فرانس میں پیدا ہوئے اور وہ ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ قومی شناخت کو صرف نسل یا خاندانی پس منظر سے جوڑنا ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق فرانس کی فٹبال ٹیم کئی دہائیوں سے ملک کے کثیرالثقافتی معاشرے کی نمائندہ رہی ہے۔

دوسری جانب راخوئے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے اور وہ ممکنہ طور پر فرانس کی ٹیم کے کھلاڑیوں کے نسلی پس منظر کی طرف اشارہ کر رہے تھے، نہ کہ ان کی شہریت پر سوال اٹھا رہے تھے۔

فرانس اور اسپین کے درمیان عالمی کپ کا سیمی فائنل ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کی فٹبال تاریخ، قومی شناخت اور کھیل میں ثقافتی تنوع ایک بار پھر عالمی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔

یہ تنازع اس وسیع تر سوال کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ جدید کھیلوں میں قومی ٹیموں کی شناخت کو کس طرح دیکھا جائے، جہاں دنیا کے بڑے ممالک کی ٹیمیں مختلف ثقافتی اور نسلی پس منظر رکھنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہیں

قومی خبریں سے مزید