Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران 2 دن میں آبنائے ہرمز کھولنے کو تیار، ٹرمپ نے معاہدے کی امید ظاہر کردی

ایران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی صورت میں 2 دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات پر مثبت اشارے دیے ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوبارہ آغاز کے خدشات اور عالمی توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں برقرار ہیں
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر امریکہ ایران کے مطالبات تسلیم کر لیتا ہے تو آبنائے ہرمز میں سکیورٹی بحال کرنا اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنا مختصر مدت میں ممکن ہو سکتا ہے ان کے مطابق امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور اس منصوبے پر عمل درآمد کا انحصار واشنگٹن کے فیصلے پر ہے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کا ابتدائی منصوبہ 7 دن پر مشتمل تھا، جس میں ایران کی شرائط پوری ہونے پر چھٹے دن آبنائے کھولی جاتی اور ساتویں دن مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے قطر اور پاکستان کے ساتھ مشاورت کے بعد اس منصوبے کو زیادہ عملی بنانے کی کوشش کی گئی اور قطری تجویز پر اسے 2 دن تک محدود کر دیا گیا
ایران کے مطالبات میں امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی شامل ہے تہران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز ایران اور عمان کے درمیان طے شدہ راستے پر سفر کریں اور اس آبی گزرگاہ کی نگرانی ایرانی انتظام کے تحت ہو
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معاملات اچھی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں انہوں نے ایران کی جانب سے جلد معاہدے کی خواہش کا بھی ذکر کیا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ دونوں جانب پیش رفت ہوئی ہے، تاہم مزید کام باقی ہے
قطر میں ایرانی اور قطری حکام کے درمیان مسلسل 3 دن تک مشاورت ہوئی ایرانی مذاکرات کار اتوار کو دوحہ سے روانہ ہوگئے، تاہم حکام نے واضح کیا کہ ان کی روانگی مذاکرات میں کسی ناکامی یا اختلاف کی وجہ سے نہیں تھی پاکستان بھی ان سفارتی کوششوں میں مشاورت کے ذریعے کردار ادا کر رہا ہے
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اس کی بندش نے عالمی توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے اور آبنائے دوبارہ کھل جاتی ہے تو عالمی منڈیوں میں استحکام اور تیل کی ترسیل میں بہتری کی امید پیدا ہوسکتی ہے
تاہم ابھی تک امریکہ اور ایران کے درمیان کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا ایران کی پیشکش امریکی شرائط تسلیم کیے جانے سے مشروط ہے، جبکہ واشنگٹن نے مذاکرات کے باوجود مستقبل میں فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل حملے نہ کرنے کے اعلان کے باوجود انتخابات کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ ہونے کا خدشہ موجود ہے
اس طرح آبنائے ہرمز کو 2 دن میں کھولنے کی ایرانی پیشکش مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور عالمی معیشت کو بحران سے نکالنے کی ایک اہم سفارتی کوشش بن گئی ہے، لیکن اس کا عملی نتیجہ امریکہ کے ردعمل اور دونوں ممالک کے درمیان شرائط پر اتفاق سے مشروط ہے

قومی خبریں سے مزید