مشی گن میں ڈیموکریٹس کو بڑا دھچکا، ہلی سٹیونز نے ریپبلکن مائیک راجرز کی حمایت کر دی،
امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کے اہم انتخاب سے صرف 1 روز قبل ڈیموکریٹ کانگریس ویمن ہلی سٹیونز نے اپنی ہی جماعت کے امیدوار ڈاکٹر عبدالسید کے بجائے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کرکے سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے سٹیونز کا یہ فیصلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے غیر معمولی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ خود اسی نشست کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار رہ چکی ہیں اور پرائمری انتخابات میں عبدالسید سے شکست کھا گئی تھیں
ہلی سٹیونز نے یکم نومبر کو ڈیٹرائٹ کے پرفیکٹنگ چرچ میں مائیک راجرز کے ساتھ شرکت کے بعد اپنی حمایت کا اعلان کیا انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ عبدالسید نے انہیں اپنی انتخابی مہم میں شرکت سے روک دیا ہے، اس لیے وہ ان کی مہم کا حصہ نہیں رہیں گی سٹیونز کے مطابق عبدالسید کی انتخابی مہم میں نفرت انگیز مواد اور اسرائیل سے متعلق تنازعات پر ان کے تحفظات دور نہیں کیے گئے
سٹیونز کا کہنا تھا کہ وہ اب مائیک راجرز کی حمایت کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بدستور ڈیموکریٹ ہیں اور اپنی جماعت کے نظریات سے وابستگی رکھتی ہیں ان کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے مقابلہ انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے نتائج امریکی سینیٹ میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
ہلی سٹیونز کی سیاسی پوزیشن اور ان کی انتخابی مہم میں اے پیک کی مالی پشت پناہی بھی اس تنازعے کا اہم پہلو ہے۔ امریکی اسرائیل عوامی امور کی کمیٹی، جسے اے پیک کہا جاتا ہے، نے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات کے دوران سٹیونز کی حمایت کرنے والے سیاسی گروپوں کے ذریعے بھاری مالی وسائل خرچ کیے تھے اے پیک سے وابستہ سپر پی اے سی نے ان کی انتخابی مہم کے حق میں اور ان کے مخالف امیدوار کے خلاف تشہیری سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا
دوسری جانب عبدالسید نے اے پیک کی سیاسی مداخلت اور مالی اخراجات پر سخت تنقید کی تھی اسرائیل اور غزہ سے متعلق ان کے مؤقف نے بھی انتخابی مہم کے دوران اختلافات کو بڑھایا سٹیونز نے عبدالسید پر اسرائیل کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کی مذمت نہ کرنے کا الزام لگایا، جبکہ عبدالسید نے واضح کیا کہ متنازع اشتہار ان کی انتخابی مہم نے تیار نہیں کیا تھا اور وہ اس کے مواد سے اتفاق نہیں کرتے
اے پیک کی جانب سے مائیک راجرز کی حمایت کرنے والے سیاسی گروپوں کے لیے بھی مالی وسائل فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں حالیہ رپورٹوں کے مطابق راجرز کی حمایت کرنے والے ایک گروپ کو تقریباً 9 ملین ڈالر کی مالی مدد فراہم کی گئی اس طرح اے پیک کی مالی سرگرمیاں مشی گن کے سینیٹ انتخابات میں ایک اہم سیاسی موضوع بن گئی ہیں
ہلی سٹیونز کے فیصلے پر مشی گن کی ڈیموکریٹک قیادت نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے ریاستی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کرٹس ہرٹل نے سٹیونز کے اقدام کو جماعت اور ریاست کے محنت کش طبقے کے ساتھ غداری قرار دیا۔ ان کے مطابق مائیک راجرز نے بارہا مشی گن کے محنت کشوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، قومی سطح پر اسقاط حمل پر پابندی کی حمایت کی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے کے وفادار حامی رہے ہیں
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے بھی سٹیونز کے فیصلے کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس عبدالسید کی حمایت میں متحد ہیں شومر کے مطابق راجرز ارب پتی عطیہ دہندگان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں، جبکہ عبدالسید مشی گن کے محنت کش خاندانوں کے معاشی مفادات کا دفاع کریں گے
مشی گن کی ڈیموکریٹ کانگریس ویمن ڈیبی ڈنگل نے بھی سٹیونز کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کو ذاتی اختلافات کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے انہوں نے واضح کیا کہ ڈیموکریٹس کو ریاست بھر میں اپنی جماعت کے امیدواروں کی کامیابی کے لیے متحد رہنا ہوگا
ہلی سٹیونز اور عبدالسید کے درمیان اختلافات کی بنیاد رواں سال ہونے والے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں پڑی تھی دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا، جس میں بیرونی سیاسی گروپوں نے کروڑوں ڈالر خرچ کیے۔ اے پیک سے وابستہ مالی سرگرمیاں بھی اس مقابلے کا اہم حصہ تھیں
پرائمری انتخابات میں شکست کے بعد سٹیونز نے عبدالسید کی حمایت کا وعدہ کیا تھا، تاہم اسرائیل، غزہ اور انتخابی اشتہارات کے معاملے پر اختلافات دوبارہ شدت اختیار کر گئے حالیہ دنوں میں سٹیونز نے عبدالسید سے ایک متنازع اشتہار کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں اسرائیل کے لیے امریکی امداد کو مشی گن میں مہنگائی اور عوامی خدمات کے اخراجات سے جوڑا گیا تھا
عبدالسید نے اشتہار سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی انتخابی مہم کا حصہ نہیں تھا اس کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات ختم نہ ہو سکے اور بالآخر سٹیونز نے ریپبلکن امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا
مشی گن میں سینیٹ کا انتخاب امریکی سیاست کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، جبکہ عبدالسید ڈیموکریٹس کے امیدوار ہیں یہ نشست ڈیموکریٹس کے لیے امریکی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی کوششوں کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتی ہے
ہلی سٹیونز کی حمایت راجرز کو سیاسی فائدہ پہنچا سکتی ہے، خصوصاً ایسے ووٹرز میں جو اسرائیل کے معاملے پر عبدالسید کے مؤقف سے اختلاف رکھتے ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹک قیادت کا خیال ہے کہ سٹیونز کا فیصلہ انتخابی نتائج پر محدود اثر ڈالے گا اور عوام کی توجہ مہنگائی، صحت، روزگار اور دیگر معاشی مسائل پر مرکوز رہے گی
سیاسی مبصرین کے مطابق اس تنازعے نے مشی گن کی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے اسرائیل، غزہ، اے پیک کی مالی مداخلت اور جماعتی اتحاد کے معاملات اب انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں مرکزی اہمیت اختیار کر چکے ہیں
مشی گن کے سینیٹ انتخابات کے نتائج نہ صرف ریاست کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے بلکہ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں






