Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران میں پاکستانی سفیر پر حملے کی خبر جھوٹی نکلی، تہران میں پاکستانی سفارتخانے کی تردید

ایران میں پاکستانی سفیر پر حملے کی خبر جھوٹی نکلی، تہران میں پاکستانی سفارتخانے کی تردید

ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستان کے سفیر عمران احمد صدیقی پر حملے اور انہیں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ثابت ہوئی ہیں تہران میں پاکستانی سفارتخانے نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں حقائق کے منافی قرار دیا ہے
پاکستانی سفارتخانے نے اتوار، یکم نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسے سفیر کے بارے میں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر گردش کرنے والی اطلاعات کا علم ہوا ہے، تاہم سفارتخانہ واضح کرتا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں
یہ افواہیں ایک ایسی ویڈیو کے بعد پھیلیں جس میں ایک نامعلوم عمارت کے اندر لوگوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے اور متعدد افراد کو آپس میں ہاتھا پائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے ویڈیو شیئر کرنے والے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی سفیر کو تہران میں ایک تقریب کے دوران حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں انہیں مدعو کیا گیا تھا۔ اسی پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حملے کے بعد سفیر کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا
تاہم اس دعوے کے ساتھ نہ کسی تقریب کی واضح تفصیل دی گئی، نہ حملے کی جگہ بتائی گئی اور نہ ہی کسی مستند ذریعے کا حوالہ پیش کیا گیا۔ پاکستانی سفارتخانے نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا سفیر عمران احمد صدیقی نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ان افواہوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا
بعد ازاں سفارتخانے کی جانب سے سفیر عمران احمد صدیقی کی ایک ایرانی ادارے کے سربراہ سے ملاقات کی تصاویر بھی سامنے آئیں ان تصاویر میں وہ پردیس ٹیکنالوجی پارک کے صدر مہدی سفاری نیا کے ساتھ موجود دکھائی دیے یہ تصاویر ان افواہوں کے برعکس ان کی معمول کی سفارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہیں
عمران احمد صدیقی کو فروری 2026 میں ایران میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا تھا اس سے قبل وہ بنگلہ دیش میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں
پاکستانی سفارتکاروں کے بارے میں اس نوعیت کی افواہیں پہلی مرتبہ سامنے نہیں آئیں گزشتہ ماہ پاکستان کی وزارت اطلاعات نے لندن میں پاکستانی سفیر پر سفید پاؤڈر جیسے مادے سے حملے کی اطلاعات کو بھی مسترد کیا تھا وزارت کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کو غلط عنوان کے ساتھ پھیلایا جا رہا تھا اور اس میں بیان کیا گیا واقعہ درست نہیں تھا
ایران میں پاکستانی سفیر کے خلاف حملے کی افواہ ایسے وقت سامنے آئی جب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ایسے حساس حالات میں کسی پاکستانی سفیر پر حملے کی غیر مصدقہ خبر دونوں ملکوں کے تعلقات، عوامی ردعمل اور خطے کی سفارتی صورت حال کے بارے میں بے چینی پیدا کر سکتی ہے
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ ویڈیوز اور خبروں کے پھیلاؤ کا مسئلہ نمایاں کر دیا ہے کسی ویڈیو کا حقیقی ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کے ساتھ دی گئی تفصیل بھی درست ہو اس لیے ضروری ہے کہ ایسی خبروں کو آگے پھیلانے سے پہلے سرکاری بیانات اور معتبر ذرائع سے ان کی تصدیق کی جائے

قومی خبریں سے مزید