Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مریخ پر انسانی سفر کی تیاری، ناسا کے 4 رضاکار 378 دن تنہائی میں گزارنے کے بعد باہر آ گئے

مریخ پر انسانی سفر کی تیاری، ناسا کے 4 رضاکار 378 دن تنہائی میں گزارنے کے بعد باہر آ گئے

امریکی خلائی ادارے ناسا کے 4 رضاکاروں نے مریخ پر ممکنہ انسانی سفر کی تیاری کے لیے ایک منفرد تجربہ مکمل کر لیا ہے چاروں افراد 378 دن تک ایک خصوصی رہائش گاہ میں دنیا سے الگ تھلگ رہنے کے بعد باہر آ گئے اس دوران انہوں نے ایسے حالات میں زندگی گزاری جنہیں مریخ پر انسانی مشن کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے مشابہ بنایا گیا تھا
یہ تجربہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں واقع ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر میں کیا گیا چاروں رضاکار 19 اکتوبر 2025 کو 3 ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کردہ ایک خصوصی رہائش گاہ میں داخل ہوئے تھے، جہاں انہوں نے 31 اکتوبر 2026 کو اپنا مشن مکمل کیا یہ رہائش گاہ تقریباً 158 مربع میٹر رقبے پر مشتمل تھی
اس مشن کا نام کریو ہیلتھ اینڈ پرفارمنس ایکسپلوریشن اینالاگ، یعنی چیپیا رکھا گیا تھا اس کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ طویل عرصے تک زمین سے دور رہنے، محدود وسائل استعمال کرنے، تنہائی برداشت کرنے اور مشکل حالات میں کام کرنے کے دوران انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں
مشن میں شامل چار افراد میں راس ایلڈر کمانڈر، ایلن ایلس طبی افسر، میتھیو مونٹگمری سائنس افسر اور جیمز اسپائسر فلائٹ انجینئر تھے ان افراد نے رہائش گاہ کے اندر فصلیں اگانے، خوراک اور دیگر وسائل کا انتظام کرنے، ورزش کرنے، رہائش گاہ کی مرمت اور دیکھ بھال کرنے اور مریخ کی سطح پر چہل قدمی کی نقل کرنے جیسی سرگرمیاں انجام دیں
تجربے کا ایک اہم حصہ زمین اور مریخ کے درمیان رابطے میں تاخیر کی نقل تیار کرنا تھا۔ چونکہ مریخ زمین سے لاکھوں میل دور ہے، اس لیے وہاں موجود خلابازوں کو پیغام بھیجنے اور جواب موصول ہونے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے اس صورت حال کو جانچنے کے لیے رضاکاروں اور ناسا کے زمینی مرکز کے درمیان رابطے میں مصنوعی تاخیر رکھی گئی، تاکہ وہ فوری رہنمائی کے بغیر مسائل حل کرنے اور فیصلے کرنے کی مشق کر سکیں
ناسا کے مطابق اس طرح کی تاخیر کے دوران خلابازوں کو زیادہ صبر، محتاط منصوبہ بندی اور خود انحصاری کی ضرورت ہوگی مریخ پر کسی ہنگامی صورت حال میں زمین سے فوری مدد ملنا ممکن نہیں ہوگا، اس لیے عملے کو اپنے دستیاب وسائل اور تربیت کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہوں گے
مشن مکمل ہونے کے بعد طبی افسر ایلن ایلس نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی اور مشکل سال تھا، جس میں رضاکاروں نے اپنی مرضی سے طویل عرصے تک محدود ماحول میں زندگی گزاری مشن کمانڈر راس ایلڈر نے بھی کہا کہ مریخ تک انسانوں کو پہنچانے کے راستے میں بڑے خطرات موجود ہیں، تاہم تحقیق، مضبوط منصوبہ بندی، محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے
ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر کی ڈائریکٹر وینیسا وائیچے نے چاروں افراد کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی رہائش گاہ کو برقرار رکھا اور مریخ پر ممکنہ سرگرمیوں کی کامیاب نقل تیار کی ان کے تجربات مستقبل کے خلائی مشنز کی تیاری میں مددگار ثابت ہوں گے
چاروں رضاکار اب 2 ہفتوں تک طبی معائنے، کارکردگی کے جائزے اور سائنس دانوں کے ساتھ تفصیلی نشستوں میں حصہ لیں گے ناسا ان کے جسمانی اور نفسیاتی حالات، تنہائی کے اثرات، خوراک، ورزش، نیند، باہمی تعلقات اور فیصلہ سازی سے متعلق معلومات کا تجزیہ کرے گا ان نتائج کی مدد سے مستقبل کے خلائی جہازوں، رہائشی مراکز اور خلابازوں کی طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی
یہ ناسا کا دوسرا چیپیا تجربہ تھا اس سے پہلے 2023 اور 2024 کے دوران بھی 4 افراد نے اسی نوعیت کے مشن میں 378 دن گزارے تھے دونوں تجربات سے حاصل ہونے والی معلومات کو مستقبل میں چاند اور مریخ پر طویل مدتی انسانی قیام کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا
ناسا کی خواہش ہے کہ 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کے قابل بنایا جائے اس سے پہلے ادارہ 1972 کے بعد پہلی مرتبہ انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے اور وہاں مستقل انسانی موجودگی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ مریخ تک انسانی سفر کئی ماہ پر محیط ہو سکتا ہے، اس لیے خلابازوں کی صحت، خوراک، ذہنی برداشت اور زمین سے رابطے کے مسائل حل کرنا اس منصوبے کے اہم ترین مراحل میں شامل ہے

قومی خبریں سے مزید