ضمانت کے چند منٹ بعد پھر گرفتاری، اعظم خان کا الزام ’’مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے‘‘، بیٹے عبداللہ آزاد، 426 کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر ای ڈی کی نئی کارروائی
اتر پردیش کے سینئر مسلم سیاست دان، سماج وادی پارٹی کے سابق رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ اعظم خان کی رہائی کا انتظار اس وقت ایک نئے قانونی تنازعہ میں تبدیل ہو گیا جب وہ تقریباً 11 ماہ بعد ہفتے کی شام رام پور جیل سے باہر نکلے، لیکن چند ہی منٹ بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے انہیں ایک دوسرے مقدمے میں اپنی تحویل میں لے لیا،ان کے ساتھ جیل سے باہر آنے والے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو ضمانت پر رہائی مل گئی اور وہ گھر چلے گئے، لیکن 78 سالہ اعظم خان کو جیل کے دروازے پر ہی نئی گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا،اس موقع پر انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ مسلمان ہونے کی سزا ہے،ایک مسلمان نے یونیورسٹی بنائی، بچوں کے لیے اسکول بنائے، یہی ہمارا جرم ہے”
یہ واقعہ 31 اکتوبر 2026 کو پیش آیا، جب الہ آباد ہائی کورٹ نے دو روز قبل 29 اکتوبر کو اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ کو دو پین کارڈ رکھنے اور مبینہ جعل سازی کے مقدمے میں ضمانت دے دی تھی،عدالت نے دونوں کی سزا معطل کر دی، تاہم ان کی سزاؤں اور جرم ثابت ہونے کے فیصلے کو ختم یا کالعدم قرار نہیں دیا،چنانچہ ضمانت کے باوجود ان کی سزا کے خلاف اپیل کا معاملہ بدستور زیر سماعت رہے گا
عدالت کے اس فیصلے کے بعد دونوں کی رہائی کی قانونی کارروائی مکمل ہوئی اور ہفتے کی شام تقریباً 6 بج کر 30 منٹ پر وہ رام پور ڈسٹرکٹ جیل سے باہر آئے،ان کے استقبال کے لیے سماج وادی پارٹی کے کئی سو کارکن اور حامی جمع تھے،تاہم ای ڈی کی ایک ٹیم، جس کے ساتھ سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکار بھی موجود تھے، رہائی سے پہلے ہی جیل پہنچ چکی تھی،اعظم خان کے باہر آتے ہی حکام نے انہیں ایک دوسرے مقدمے میں اپنی تحویل میں لے لیا،عبداللہ اعظم کو جانے کی اجازت دے دی گئی
اتوار یکم نومبر کو اعظم خان کو غازی آباد کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں 14 روزہ عدالتی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم دیا،این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے جیل حکام کو ان کے مناسب طبی علاج کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی،ای ڈی کا مؤقف تھا کہ اعظم خان کے پاس مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق اہم معلومات اور شواہد موجود ہیں اور ان سے تفتیش کے ذریعے مبینہ غیرقانونی رقم کے ذرائع اور اس کے استعمال کا سراغ لگانا ضروری ہے
اعظم خان کے خلاف ای ڈی کی نئی کارروائی کا تعلق رام پور میں قائم مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی اور اسے چلانے والے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ سے ہے،اعظم خان اس یونیورسٹی کے بانی اور ٹرسٹ کے سربراہ ہیں،ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ یونیورسٹی کی تعمیر اور مالی معاملات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں اور سرکاری وسائل کو مبینہ طور پر نجی تعلیمی ادارے کی تعمیر کے لیے استعمال کیا گیا
ای ڈی کی تحقیقات کے مطابق یونیورسٹی کے 59 تعمیر شدہ عمارتوں کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 494.46 کروڑ روپے لگایا گیا، جبکہ ٹرسٹ نے اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں 2013-14 سے 2024-25 تک مجموعی سرمایہ جاتی اخراجات صرف 78.32 کروڑ روپے ظاہر کیے،اس طرح دونوں اعداد کے درمیان تقریباً 416.14 کروڑ روپے کا فرق سامنے آیا، جس کے ذرائع کی وضاحت ای ڈی طلب کر رہی ہے،ایجنسی نے مبینہ غیرقانونی آمدنی کی مالیت 426.46 کروڑ روپے بتائی ہے اور 28 اکتوبر کو یونیورسٹی کی زمین اور عمارتیں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت عارضی طور پر منسلک کر دی تھیں،ان جائیدادوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 1,170 کروڑ روپے بتائی گئی ہے،یہ ای ڈی کے تحقیقاتی دعوے ہیں، عدالت کی طرف سے ثابت شدہ جرم نہیں
ای ڈی کی تحقیقات میں مزید الزامات بھی شامل ہیں،ایجنسی کے مطابق رام پور کے عظیم نگر تھانے میں درج 26 مقدمات میں کسانوں کی زرعی زمین مبینہ طور پر زبردستی حاصل کرنے کے الزامات سامنے آئے،اس کے علاوہ سنگھن کھیڑا گاؤں میں تقریباً 34 ایکڑ رقبے پر پھیلے دشمن کی چھوڑی ہوئی جائیداد کے 45 پلاٹوں پر غیرقانونی قبضے کا معاملہ بھی زیر تحقیق ہے،ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ بعض سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز یونیورسٹی کی تعمیر پر خرچ ہوئے، جبکہ سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے والی کمپنیوں سے رقم مبینہ طور پر ٹرسٹ کو عطیات کی شکل میں واپس منتقل کی گئی،ایک کمپنی کو محکمہ تعمیرات عامہ کے تقریباً 186 کروڑ روپے کے ٹھیکے ملنے کے بعد اس رقم کا 30 سے 40 فیصد یونیورسٹی کے تعمیراتی سامان پر خرچ کیے جانے کا الزام بھی تحقیقات کا حصہ ہے،یونیورسٹی میں تقریباً 6.60 کروڑ روپے کے کام ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل کے ترقیاتی فنڈز سے کرائے جانے اور ریاستی حکومت کی جانب سے 23.41 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے
اعظم خان کی قید کی تاریخ ایک ہی مسلسل مدت پر مشتمل نہیں،وہ پہلی مرتبہ 26 فروری 2020 کو جیل گئے اور سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت ملنے کے بعد 20 مئی 2022 کو رہا ہوئے،دوسری مرتبہ 18 اکتوبر 2023 کو ایک مقدمے میں سزا کے بعد جیل بھیجے گئے اور 23 ستمبر 2025 کو باہر آئے،تیسری مرتبہ 17 نومبر 2025 کو دو پین کارڈز کے مقدمے میں سزا کے بعد رام پور جیل پہنچے،31 اکتوبر 2026 کو اس مقدمے میں ضمانت پر رہائی ملی، لیکن اسی شام ای ڈی نے انہیں دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا
اس حساب سے ان کی تازہ ترین قید تقریباً 11 ماہ 14 دن رہی، جبکہ 2020 سے اب تک ان کی تین سابقہ قید کی مدتوں کو جمع کیا جائے تو وہ تقریباً 5 سال جیل میں گزار چکے ہیں،تازہ ای ڈی گرفتاری کے بعد ان کی رہائی کا کوئی فوری امکان واضح نہیں
اعظم خان کے خلاف 2019 کے بعد سے مختلف نوعیت کے 92 مقدمات درج ہونے کا ذکر الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے میں موجود ہے،عدالت کے مطابق ان کے خلاف 81 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور وہ پہلے بھی متعدد مقدمات میں سزا پا چکے ہیں،ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے خلاف 46 مقدمات کا ذکر بھی عدالتی ریکارڈ میں آیا ہے، جن میں سے 44 زیر التوا بتائے گئے ہیں،ان مقدمات میں زمینوں پر قبضے، جعل سازی، دھوکا دہی، سرکاری دستاویزات میں مبینہ ردوبدل اور انتخابی اہلیت سے متعلق الزامات شامل ہیں،مقدمات کی تعداد بذات خود کسی شخص کے مجرم ہونے کا ثبوت نہیں ہوتی
باپ اور بیٹے کے خلاف حالیہ ضمانت کا مقدمہ دو پین کارڈز سے متعلق تھا،شکایت کے مطابق عبداللہ کے پاس دو مختلف پین کارڈ تھے، جن پر تاریخ پیدائش الگ الگ درج تھی،ایک کارڈ میں تاریخ پیدائش یکم جنوری 1993 اور دوسرے میں 30 ستمبر 1990 درج تھی،شکایت کنندہ بی جے پی رہنما آکاش سکسینا کا الزام تھا کہ 2017 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں عبداللہ نے اپنی عمر کی قانونی اہلیت پوری کرنے کے لیے مبینہ طور پر غلط تاریخ پیدائش والا پین کارڈ استعمال کیا اور ان کے والد اعظم خان نے اس عمل میں معاونت کی،اس مقدمے میں نومبر 2025 میں دونوں کو سزا سنائی گئی تھی،حالیہ ہائی کورٹ فیصلے نے سزا معطل کرکے ضمانت دی، مگر جرم ثابت ہونے کے فیصلے پر حکم امتناع دینے سے انکار کیا،اس مقدمے میں اعظم خان کو 10 سال اور عبداللہ کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی
اس سے پہلے 18 اکتوبر 2023 کو اعظم خان، ان کی اہلیہ تنزین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کو جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ کے مقدمے میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،استغاثہ کے مطابق عبداللہ کے دو مختلف پیدائشی سرٹیفکیٹ بنوائے گئے تھے، ایک میں جائے پیدائش رام پور اور دوسرے میں لکھنؤ درج تھا،الزام تھا کہ ان میں سے ایک سرٹیفکیٹ پاسپورٹ اور بیرون ملک سفر کے لیے استعمال ہوا، جبکہ دوسرا سرکاری ریکارڈ اور یونیورسٹی سے متعلق دستاویزات میں استعمال کیا گیا،اس مقدمے میں بھی اعظم خان اور ان کے اہل خانہ نے الزامات کی مخالفت کی اور قانونی چارہ جوئی جاری رکھی ہے
عبداللہ اعظم کے خلاف پاسپورٹ کے حصول میں مبینہ جعلی دستاویزات استعمال کرنے کا ایک الگ مقدمہ بھی سامنے آیا،5 دسمبر 2025 کو رام پور کی خصوصی عدالت نے انہیں اس مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی،شکایت کے مطابق ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش یکم جنوری 1993 تھی، جبکہ پاسپورٹ میں 30 ستمبر 1990 درج تھی،اس مقدمے میں بھی عبداللہ کے وکیل نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا تھا
اعظم خان کے خلاف زمینوں پر قبضے، تجاوزات، دھوکا دہی اور سرکاری املاک سے متعلق متعدد مقدمات بھی درج ہوئے،مارچ 2024 میں رام پور کے ایک مقدمے میں گھر میں غیرقانونی داخلے اور توڑ پھوڑ کے الزامات پر انہیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،اس کے علاوہ انتخابی مہم کے دوران تقاریر اور دیگر سیاسی واقعات سے متعلق مقدمات بھی ان کے خلاف قائم ہوئے،ان میں سے بعض میں سزائیں ہوئیں اور متعدد مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اعظم خان کی نئی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک بزرگ رہنما کو مسلسل مقدمات میں الجھا کر جیل بھیجنا قابل مذمت ہے،پارٹی کے ترجمان عباس حیدر نے بھی الزام لگایا کہ مرکزی تحقیقاتی اداروں کو اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے،دوسری جانب ای ڈی کا مؤقف ہے کہ وہ یونیورسٹی کی تعمیر، فنڈز کے ذرائع اور مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات قانونی اختیارات کے تحت کر رہی ہے
اعظم خان کی گرفتاری کا تازہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز ہو رہا ہے،وہ ریاست کے ان نمایاں مسلم سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک رام پور اور اتر پردیش کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا،ان کی یونیورسٹی، ان کے سیاسی اثر و رسوخ اور ان کے خلاف درج مقدمات طویل عرصے سے قومی سیاسی بحث کا حصہ ہیں
اس پورے معاملے میں دو حقیقتیں بیک وقت موجود ہیں،اعظم خان اور ان کے بیٹے کو ایک مقدمے میں ہائی کورٹ سے ضمانت ملی، لیکن اعظم خان کو دوسرے مقدمے میں ای ڈی نے دوبارہ گرفتار کر لیا،اور ان کے خلاف سنگین مالی و فوجداری الزامات کی تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں،ان کا یہ کہنا کہ انہیں مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے، ان کا اپنا مؤقف ہے، جبکہ ای ڈی کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حصہ ہے،ان الزامات اور مؤقف کا حتمی فیصلہ عدالتوں میں ہونا باقی ہے




