Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دہلی میں اپوزیشن کا بڑا سیاسی مظاہرہ، دس لاکھ افراد جمع کرنے کا دعویٰ حقیقت نہ بن سکا، بی جے پی نے اجتماع کو ’’ٹھگوں کا میلہ‘‘ قرار دے دیا

دہلی میں اپوزیشن کا بڑا سیاسی مظاہرہ، دس لاکھ افراد جمع کرنے کا دعویٰ حقیقت نہ بن سکا، بی جے پی نے اجتماع کو ’’ٹھگوں کا میلہ‘‘ قرار دے دیا
نئی دہلی میں اتوار کو رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی جانب سے انتخابی فہرستوں اور الیکشن کمیشن کے خلاف منعقدہ احتجاجی اجتماع نے بھارتی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی,کانگریس رہنما راہل گاندھی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور جمہوری اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے،تاہم اجتماع کی سیاسی اہمیت کے ساتھ ساتھ شرکا کی تعداد بھی تنازعہ کا موضوع بن گئی،اپوزیشن کی جانب سے دس لاکھ افراد جمع ہونے کی توقع یا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن دستیاب میڈیا رپورٹنگ اس تعداد کی تصدیق نہیں کرتی
غیرجانبدار خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اجتماع میں دسیوں ہزار افراد کی شرکت رپورٹ کی، جبکہ رائٹرز نے بھی ہزاروں افراد کی موجودگی کا ذکر کیا،بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹنگ میں دہلی پولیس کی جانب سے تقریباً 50 ہزار افراد کی متوقع شرکت کا حوالہ دیا گیا،ان رپورٹوں میں شرکا کی کوئی حتمی اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تعداد سامنے نہیں آئی،رام لیلا میدان کی عملی گنجائش، اسٹیج، نشستوں اور آمدورفت کے راستوں کو مدنظر رکھا جائے تو راہل گاندھی کے خطاب کے وقت 30 سے 40 ہزار افراد کی موجودگی ایک ممکنہ تخمینہ ہے، تاہم اسے سرکاری یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ گنتی قرار نہیں دیا جا سکتا
اپوزیشن اتحاد کا احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف تھا،انڈیا اتحاد کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں سے بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے گئے اور اس عمل سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے،رائٹرز کے مطابق انتخابی فہرستوں سے 130 ملین سے زیادہ نام حذف کیے جانے کا معاملہ بھی احتجاج کا اہم سبب ہے، تاہم الیکشن کمیشن سیاسی جانبداری کے الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ غلطی سے حذف ہونے والے ووٹر دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں
احتجاج سے پہلے اپوزیشن جماعتوں نے 21 جماعتوں کی حمایت کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایک علامتی عوامی مواخذے کی کارروائی بھی کی تھی،راہل گاندھی نے اجتماع سے خطاب میں الزام لگایا کہ گیانیش کمار کے کردار کے بغیر نریندر مودی وزیراعظم اور امت شاہ وزیر داخلہ نہ بن سکتے،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے،یہ راہول گاندھی کے سیاسی الزامات اور دعوے ہیں، جن کی آزادانہ عدالتی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی
راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ممتا بینرجی اور دیگر اپوزیشن رہنما اس احتجاج میں شریک ہوئے،مختلف ریاستوں سے کارکنوں کی آمد، جماعتوں کے پرچموں، نعروں اور رہنماؤں کے مشترکہ مارچ نے دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیوں کو نمایاں کر دیا،مِنٹو روڈ سے رام لیلا میدان تک نکالے گئے مارچ کی تصاویر میں سڑک پر بڑی تعداد میں کارکن دکھائی دیے،تاہم کانگریس کی جانب سے جاری ڈرون تصاویر کو آزادانہ طور پر گنی گئی تعداد کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اجتماع شروع ہونے سے پہلے ہی اپوزیشن کے دعووں کو نشانہ بنایا،دہلی بی جے پی نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹر جاری کرتے ہوئے اجتماع کو ’’ٹھگوں کا میلہ‘‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ اپوزیشن اپنی سیاسی زمین بچانے کے لیے ملک دشمن قوتوں کے اشارے پر افواہیں اور انتشار پھیلانا چاہتی ہے،پارٹی نے ایک طنزیہ پوسٹر میں اسے ’’ٹھگ بندھن‘‘ کا اجتماع بھی قرار دیا،بی جے پی کے ترجمان جے ویر شیرگل نے اسے راہول گاندھی کی دوبارہ سیاسی تشہیر کی کوشش قرار دیا، جبکہ پارٹی رہنماؤں نے دس لاکھ افراد کی متوقع شرکت کے دعوے پر بھی سوالات اٹھائے
اجتماع کے حجم پر بی جے پی کی تنقید کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ جب منتظمین دس لاکھ افراد کی آمد کی توقع ظاہر کر رہے تھے تو میدان میں اس کے مقابلے میں کتنی بڑی تعداد حقیقتاً موجود تھی،دستیاب آزادانہ رپورٹنگ میں دس لاکھ افراد کی شرکت کی تصدیق نہیں ہوئی،تاہم بی جے پی کی جانب سے اجتماع کو ناکام قرار دینے کا دعویٰ بھی کسی آزادانہ تعداد یا باقاعدہ گنتی سے ثابت نہیں کیا گیا،ایسوسی ایٹڈ پریس نے دسیوں ہزار افراد کی شرکت رپورٹ کی، جو اس اجتماع کو محض چند ہزار افراد کا مظاہرہ قرار دینے کے تاثر سے مختلف ہے
اس سیاسی کشمکش میں 1 نومبر کی تاریخ بھی تنازعہ کا سبب بنئ، بی جے پی نے یاد دلایا کہ 1984 میں سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی سمیت مختلف علاقوں میں سکھ مخالف تشدد ہوا تھا اور اسی تاریخ کو اپوزیشن کا بڑا اجتماع منعقد کرنا سکھ برادری کے زخم تازہ کرنے کے مترادف ہے،مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور دیگر بی جے پی رہنماؤں نے کانگریس کے اس فیصلے پر اعتراض کیا،بی جے پی نے اسی روز مغربی دہلی کے علاقے ہری نگر سے 1984 کے متاثرین کی یاد میں اپنا الگ احتجاجی مارچ بھی نکالا،کانگریس کی جانب سے اجتماع کا مقصد انتخابی عمل کے خلاف احتجاج بتایا گیا، نہ کہ 1984 کے واقعات کی یاد سے متعلق کوئی پروگرام
انتخابی فہرستوں کے معاملے پر تنازعہ کی بنیاد خصوصی نظرثانی کا وہ عمل ہے جس کے تحت ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں،اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس عمل سے لاکھوں اہل ووٹر انتخابی حق سے محروم ہو سکتے ہیں اور اقلیتی برادریوں کو غیرمتناسب طور پر متاثر کیا گیا ہے،رائٹرز کے مطابق 130 ملین سے زیادہ ناموں کے حذف ہونے کا معاملہ بھی سیاسی تنازعہ کا حصہ ہے۔ الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ فہرستوں سے دہری، غیرمجاز یا نااہل اندراجات ختم کیے جا رہے ہیں، جبکہ غلطی سے نام خارج ہونے والے شہری دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں
یوں دہلی کا یہ اجتماع اپوزیشن کے لیے انتخابی شفافیت کے مسئلے پر مشترکہ سیاسی قوت دکھانے کا موقع بنا، جبکہ بی جے پی نے اسے اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی، اس کے دعووں اور 1984 کے واقعات کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا،دس لاکھ افراد کی متوقع شرکت اور میدان میں موجود دسیوں ہزار افراد کے درمیان فرق اس اجتماع کا سب سے نمایاں عددی سوال بن کر سامنے آیا،دستیاب شواہد کی بنیاد پر نہ دس لاکھ کی شرکت ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی اسے مکمل ناکام اجتماع قرار دینے کے لیے کوئی مستند عددی بنیاد موجود ہے،اصل سیاسی امتحان اب یہ ہے کہ آیا یہ احتجاج انتخابی فہرستوں کے تنازعہ کو قومی سیاسی بحث میں مزید مؤثر بناتا ہے یا وقت کے ساتھ اس کی اہمیت کم ہو جاتی ہے

قومی خبریں سے مزید