Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دہلی میں اپوزیشن کا طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ، راہول گاندھی کی کال پر لاکھوں افراد کی آمد، مودی حکومت کے لیے سیاسی امتحان

دہلی میں اپوزیشن کا طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ، راہول گاندھی کی کال پر لاکھوں افراد کی آمد، مودی حکومت کے لیے سیاسی امتحان
رپورٹ : آفاق فاروقی
نئی دہلی میں یکم نومبر کو ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی بڑی سیاسی ریلی سے پہلے بھارتی دارالحکومت کا سیاسی ماحول غیرمعمولی طور پر گرم ہو گیا ہے,راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس اور اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف ملک گیر احتجاج کی تیاری مکمل کر لی ہے،اس احتجاج کا بنیادی مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات ہے،اپوزیشن جماعتیں الزام عائد کرتی ہیں کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل، جسے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کہا جاتا ہے، کے ذریعے لاکھوں شہریوں کے ووٹ کا حق متاثر ہوا ہے
دہلی میں یکم نومبر کا اجتماع محض ایک جماعتی ریلی نہیں بلکہ مودی حکومت کے خلاف مختلف نظریاتی اور سیاسی اختلافات رکھنے والی جماعتوں کے مشترکہ طاقت کے مظاہرے کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے،کانگریس نے اس اجتماع کے لیے 10 لاکھ افراد کی شرکت کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ دہلی پولیس کی انٹیلی جنس رپورٹوں میں تقریباً 50 ہزار افراد کی آمد کا اندازہ لگایا گیا ہے،پولیس کے مطابق رام لیلا میدان میں کرسیاں، داخلی راستے اور حفاظتی حصار قائم کرنے کے بعد تقریباً 30 سے 40 ہزار افراد کی گنجائش باقی رہ جائے گی
تاہم دارالحکومت پہنچنے والے کارکنوں کی تعداد اور مختلف ریاستوں میں ہونے والی سیاسی نقل و حرکت نے اس اجتماع کی اہمیت بڑھا دی ہے،راجستھان کانگریس نے کم از کم ایک لاکھ کارکنوں کو دہلی پہنچانے کا اعلان کیا ہے،جبکہ ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے اس وقت جے پور اور دہلی کے درمیان سڑکوں پر دو سے ڈھائ لوگ گاڑیوں میں دہلی کے راستے میں ہیں ، پارٹی کی ریاستی قیادت کے مطابق سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت، سچن پائلٹ اور دیگر رہنما اس مہم میں شریک ہیں،اتر پردیش کانگریس کی صدر آرادھنا مشرا کے مطابق ریاست سے کم از کم 10 ہزار کارکن دہلی پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید کئی لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے
دہلی کے اطراف غازی آباد، گڑ گاؤں اور دیگر شہروں میں بھی باہر سے آنے والے کارکنوں کے قیام کے انتظامات کیے جا رہے ہیں،سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ احتجاج میں شرکت صرف کانگریس کے روایتی ووٹروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ طلبہ تنظیموں، مزدور گروپوں، سول سوسائٹی اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے کارکن بھی اس کا حصہ بنیں گے
اس اجتماع کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے اندر موجود پرانے اختلافات کے باوجود انتخابی کمیشن کے معاملے پر جماعتیں ایک مشترکہ سیاسی موقف اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں،مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی، جن کی کانگریس کے ساتھ ماضی میں سیاسی کشیدگی اور اختلافات رہے ہیں، نے بھی ریلی کی حمایت کا اعلان کیا ہے،ان کے دہلی پہنچنے اور ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے ہمراہ شرکت کی توقع ظاہر کی گئی ہے،ترنمول کانگریس نے اپنے پانچ ارکان پارلیمنٹ کو بھی اس مہم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے
پنجاب میں اپنی سیاسی اور انتخابی سرگرمیوں میں مصروف عام آدمی پارٹی کے حوالے سے بھی اس احتجاج کو اہمیت حاصل ہے،انڈیا بلاک کے اندر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان کئی ریاستوں میں سیاسی مقابلہ موجود ہے، لیکن انتخابی کمیشن کے خلاف احتجاج نے دونوں جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے،اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کم از کم اس معاملے پر اپنے انتخابی اختلافات کو پس پشت ڈالنے کے لیے تیار ہیں
اتر پردیش سے آنے والے کارکنوں کی شرکت بھی سیاسی اعتبار سے اہم سمجھی جا رہی ہے،ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے درمیان مبینہ سیاسی اختلافات اور مستقبل کی قیادت سے متعلق قیاس آرائیاں پہلے ہی سیاسی بحث کا موضوع ہیں،اتر پردیش کی آئندہ انتخابی سیاست اور بی جے پی کی داخلی صف بندی کے تناظر میں کانگریس کے اس احتجاج میں ریاست سے بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے،تاہم یوگی اور امیت شاہ کے درمیان اختلافات کی نوعیت اور ان کے سیاسی نتائج کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا
دہلی پولیس نے رام لیلا میدان میں ریلی کی اجازت تو دے دی ہے، لیکن راہول گاندھی کی جانب سے مجوزہ پیدل مارچ کے لیے اجازت نہیں دی گئی،پولیس کے مطابق اجتماع یکم نومبر کو صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہ سکتا ہے، لیکن اس کے بعد شرکا کو منتشر ہونا ہوگا،مارچ کو رام لیلا میدان سے آگے کسی دوسرے مقام تک لے جانے کی اجازت بھی نہیں ہے،پولیس نے منتظمین کو واضح کیا ہے کہ اجتماع کے دوران کسی بھی غیرمجاز جلوس یا شہر کے دوسرے حصوں کی جانب پیش قدمی کی اجازت نہیں ہوگی
حفاظتی انتظامات غیرمعمولی ہیں،چار ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں اور مرکزی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کی تیاری کی گئی ہے،میدان کو 14 حفاظتی زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرون نگرانی، میٹل ڈیٹیکٹرز اور اضافی نفری کے ذریعے شرکا کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی،پولیس نے منتظمین سے بسوں، رضاکاروں اور شرکا کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں
اس کے علاوہ دہلی میں آلودگی کے ضوابط کے تحت بیرون شہر رجسٹرڈ پرانی گاڑیوں کی آمد پر پابندی کے نفاذ سے بھی ریلی کے انتظامات متاثر ہونے کا امکان ہے،پولیس اور متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ ان پابندیوں سے کسی سیاسی جماعت کو استثنا نہیں دیا جائے گا،چنانچہ دوسری ریاستوں سے آنے والی بعض بسوں اور گاڑیوں کو دارالحکومت کی سرحدوں پر رکنا پڑ سکتا ہے،تاہم 30 میل دور تمام بڑی گاڑیوں کو لازماً روکنے کے دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی
اس احتجاج کے ساتھ ایک غیرمعمولی سیاسی پیش رفت یہ بھی ہوئی ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف علامتی عوامی مواخذے کی کارروائی کی ہے،یہ کارروائی ہفتے کے روز کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی، جس میں سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے کارروائی کی صدارت کی،اس کا مقصد گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کے الزامات کو ایک علامتی پارلیمانی اور عدالتی کارروائی کی شکل میں عوام کے سامنے پیش کرنا تھا
اس معاملے میں ایک اہم آئینی حقیقت بھی قابل ذکر ہے،بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا طریقہ کار سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقہ کار سے مشابہ ہے،اس کے لیے لوک سبھا میں کم از کم 100 اور راجیہ سبھا میں 50 ارکان کے دستخطوں سے تحریک پیش کرنا ضروری ہے،دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت سے منظوری اور الزامات کی باقاعدہ تحقیقات کے بعد ہی صدر کی جانب سے برطرفی کا حکم جاری ہو سکتا ہے،اپوزیشن نے رواں سال مارچ میں دونوں ایوانوں میں ایسی تحریکیں پیش کی تھیں، لیکن اپریل میں لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین نے انہیں مسترد کر دیا تھا،اس لیے ہفتے کی عوامی مواخذے کی کارروائی کوئی قانونی برطرفی نہیں بلکہ سیاسی اور علامتی احتجاج ہے
یکم نومبر کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا مختلف ریاستوں سے آنے والے کارکنوں کی تعداد اپوزیشن کے دعوؤں کے قریب پہنچتی ہے یا پولیس کے اندازوں کے مطابق اجتماع محدود رہتا ہے،بعض سیاسی تجزیہ کاروں اور منتظمین کے حلقوں میں چار سے پانچ لاکھ افراد کی مجموعی شرکت کے امکانات کا ذکر کیا جا رہا ہے، لیکن اس تعداد کی آزادانہ تصدیق ابھی ممکن نہیں،یہ بھی واضح رہے کہ اتنی بڑی تعداد کی آمد اور رام لیلا میدان میں موجود افراد کی تعداد دو الگ چیزیں ہوں گی
اس سیاسی منظرنامے میں سب سے نمایاں تبدیلی راہول گاندھی کی حیثیت ہے،پارلیمان میں حکومت کو مسلسل چیلنج کرنے، انتخابی عمل پر سوال اٹھانے اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ احتجاج کے لیے متحرک کرنے کے باعث وہ اس وقت اپوزیشن کی سب سے نمایاں قومی سیاسی آواز کے طور پر سامنے آئے ہیں،ممتا بنرجی اور دیگر جماعتوں کی حمایت اس تاثر کو مزید تقویت دیتی ہے
اب سوال صرف یہ نہیں کہ دہلی میں کتنے لوگ جمع ہوں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا یہ اجتماع اپوزیشن کے منتشر سیاسی ڈھانچے کو ایک مؤثر قومی تحریک میں تبدیل کر سکتا ہے؟ اگر مختلف ریاستوں سے آنے والے کارکنوں کی بڑی تعداد واقعی دارالحکومت پہنچتی ہے تو یہ مودی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی پیغام ہوگا،لیکن اگر بڑے دعوؤں کے باوجود اجتماع محدود رہتا ہے تو اس کا اثر خود راہول گاندھی اور انڈیا بلاک کی سیاسی ساکھ پر بھی پڑ سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید