ایک ننھی مخلوق جو 30 سال تک بھوکی رہ سکتی ہے، نقطۂ انجماد سے لے کر ابلتے پانی کے درجہ حرارت تک زندہ رہتی ہے
زمین پر کچھ جاندار ایسے ہیں جن کی بقا کی صلاحیت سائنس دانوں کو بھی حیران کر دیتی ہے،ان میں سب سے غیر معمولی ایک انتہائی چھوٹی مخلوق ہے جسے ٹارڈی گریڈ (Tardigrade) یا واٹر بیئر کہا جاتا ہے،یہ خوردبینی جاندار دنیا کے سخت ترین ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس کی جسامت عموماً ایک ملی میٹر سے بھی کم ہوتی ہے، لیکن اس کی بقا کی طاقت بڑے بڑے جانوروں سے کہیں زیادہ ہے
برطانوی جریدے ڈسکور وائلڈ لائف میں شائع ہونے والی شیانا ہاروی کی رپورٹ کے مطابق ٹارڈی گریڈ تقریباً 30 سال تک خوراک کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے،یہ انتہائی سرد درجہ حرارت، مطلق صفر کے قریب ماحول، ابلتے پانی کی گرمی، سمندر کی انتہائی گہرائیوں کے دباؤ اور خلا کی تابکاری تک برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
اس کی بقا کا سب سے حیران کن راز اس کا جسمانی دفاعی نظام ہے،جب اس کے اردگرد پانی ختم ہو جاتا ہے تو یہ اپنے جسم سے تقریباً تمام پانی خارج کر کے سکڑ جاتا ہے، اپنی آٹھ ٹانگیں سمیٹ لیتا ہے اور ایک بے حرکت حالت میں چلا جاتا ہے،سائنس دان اس کیفیت کو ٹن اسٹیٹ (Tun State) کہتے ہیں،اس حالت میں اس کا جسمانی نظام انتہائی سست ہو جاتا ہے اور یہ طویل عرصے تک نامساعد حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے،دوبارہ پانی ملنے پر یہ اپنی معمول کی سرگرمیاں شروع کر سکتا ہے
رپورٹ میں ٹارڈی گریڈ کے علاوہ سات دوسرے غیر معمولی جانداروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو قدرتی آفات اور انتہائی سخت ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
آسٹریلیا کا ایکنیڈنا جنگل کی آگ سے بچنے کے لیے زیر زمین بل یا کھوکھلے درختوں میں پناہ لیتا ہے اور اپنے جسمانی درجہ حرارت کو کم کر کے عارضی غنودگی کی حالت اختیار کر لیتا ہے،آگ گزرنے کے بعد بھی یہ اس وقت تک اپنی سرگرمیاں بحال نہیں کرتا جب تک اس کے لیے خوراک دوبارہ دستیاب نہ ہو جائے
منگوز زہریلے سانپوں، خصوصاً کوبرا، کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے،اس کے جسم میں مخصوص جینیاتی تبدیلیاں زہر کو اعصابی نظام کے اہم حصوں پر اثر انداز ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہیں،اس کے علاوہ اس کی پھرتی اور گھنے بال اسے سانپ کے حملوں سے بچاتے ہیں
اونٹ بھی قدرت کے حیرت انگیز زندہ بچ جانے والے جانوروں میں شامل ہے،صحرائی ماحول میں یہ تقریباً دو ہفتے تک پانی کے بغیر گزار سکتا ہے،پانی ملنے پر یہ صرف 13 منٹ میں تقریباً 30 گیلن پانی پی سکتا ہے،اس کا جسم پانی کے ضیاں کو کم کرنے کے لیے پیشاب، پسینے اور سانس کے نظام میں خصوصی صلاحیتیں رکھتا ہے
تابکاری کے مقابلے میں بعض چھوٹے کیڑے بھی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں،رپورٹ میں ہیبروبراکون نامی بھڑ کا ذکر کیا گیا ہے جو انتہائی زیادہ ایکس رے تابکاری برداشت کر سکتی ہے،تجربات میں اس کی بعض اقسام نے ایسی تابکاری بھی برداشت کی جو انسان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے
سمندری مگرمچھ کی جلد بھی قدرتی زرہ بکتر کی طرح کام کرتی ہے،اس کے جسم پر سخت ہڈی نما ساختوں اور حفاظتی تہوں کا جال ہوتا ہے جو دوسرے شکاریوں کے حملوں اور شدید چوٹوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے
یورپ کے غاروں میں پائی جانے والی اولم نامی نابینا آبی چھپکلی بھی غیر معمولی جاندار ہے،یہ مکمل تاریکی میں زندگی گزار سکتی ہے اور خوراک کے بغیر 10 سال تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے،اس کے جسم میں ذخیرہ شدہ غذائی اجزا اور انتہائی سست میٹابولزم اسے طویل عرصے تک بھوک برداشت کرنے میں مدد دیتے ہیں
جنوبی امریکہ کی فائر چیونٹیاں سیلاب کے دوران ہزاروں کی تعداد میں ایک دوسرے سے جڑ کر زندہ بیڑا بنا لیتی ہیں،ان کا یہ اجتماعی ڈھانچہ پانی پر تیرتا رہتا ہے اور چیونٹیاں اپنی جگہیں تبدیل کرتی رہتی ہیں تاکہ کوئی بھی زیادہ دیر پانی کے نیچے نہ رہے،اس طرح پوری کالونی کئی ہفتوں تک سیلابی پانی میں زندہ رہ سکتی ہے
رپورٹ کے مطابق ان تمام جانداروں میں ٹارڈی گریڈ بقا کی صلاحیت کے اعتبار سے سب سے نمایاں ہے،اس کی غیر معمولی خصوصیات نے سائنس دانوں کے لیے زندگی کی حدود، انتہائی ماحول میں بقا اور مستقبل کی خلائی تحقیق کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کیے ہیں




