Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہیوسٹن میں تارکِ وطن کو گاڑی سے کچلنے کے الزام میں آئی سی ای اہلکار پر فردِ جرم عائد، ویڈیو نے سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھا دیے

ہیوسٹن میں تارکِ وطن کو گاڑی سے کچلنے کے الزام میں آئی سی ای اہلکار پر فردِ جرم عائد، ویڈیو نے سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھا دیے

ٹیکساس کی ایک گرینڈ جیوری نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکار ماریو البرٹو مورالس پر ہیوسٹن میں ایک تارکِ وطن کو اپنی گاڑی سے کچل کر شدید زخمی کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی ہے،ہیرس کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی شان ٹیر نے جمعہ کو بتایا کہ اہلکار پر مہلک ہتھیار کے ذریعے سنگین حملے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس میں استعمال ہونے والا مبینہ ہتھیار اس کی سرکاری گاڑی تھی
واقعہ 10 اکتوبر کی صبح پیش آیا تھا،میکسیکو سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ میگوئل پارا ہرنینڈز کو آئی سی ای اہلکار نے ہیوسٹن میں ایک کارروائی کے دوران گاڑی سے ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں ان کی ٹانگ سمیت جسم کے مختلف حصوں میں کئی فریکچر ہوئے،وہ اس وقت بھی آئی سی ای کی تحویل میں ایک بحالی مرکز میں زیر علاج ہیں،حکام کے مطابق مورالس کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا جانا تھا
ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے واقعے کی نگرانی کے لیے قریب واقع ایک بیکری کے کیمرے اور خود اہلکار کے باڈی کیمرے کی ویڈیوز حاصل کیں،جمعہ کو نیوز کانفرنس میں دکھائی گئی فوٹیج میں پارا ہرنینڈز کو ایک پارکنگ لاٹ میں بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک بغیر نشان والی جیپ ان کی طرف مڑتی اور انہیں ٹکر مارتی دکھائی دیتی ہے
ویڈیو میں ٹکر کے بعد مورالس کو ایک دوسرے اہلکار سے یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’’میں آگے بڑھ رہا تھا اور اسے گاڑی سے ٹکر مار دی” زخمی شخص زمین پر درد سے کراہ رہا تھا اور کہہ رہا تھا، ’’تم نے مجھے گاڑی سے کچل دیا، میری ٹانگ”
تاہم، کچھ ہی دیر بعد جب مورالس نے ایمرجنسی نمبر 911 پر فون کیا تو اس نے واقعے کی مختلف وضاحت پیش کی،ڈسپیچر کو بتایا کہ وہ ایک شخص کا تعاقب کر رہے تھے، وہ گاڑی سے باہر نکل کر بھاگا اور جب مورالس نے اس کے گرد سے گاڑی نکالنے کی کوشش کی تو اس شخص نے ان کی گاڑی کو ٹکر مار دی،استغاثہ کے مطابق یہ بیان ویڈیو میں دکھائی دینے والے مناظر اور دوسرے اہلکار کے سامنے مورالس کے اپنے اعتراف سے متصادم ہے
شان ٹیر نے کہا کہ واقعے نے پوری کمیونٹی کو صدمے سے دوچار کیا،ان کے مطابق تفتیش کے دوران اہلکار کے سابقہ ریکارڈ اور پیشہ ورانہ تجربے کا بھی جائزہ لیا گیا،ٹیر نے کہا کہ انہوں نے ریاست بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہزاروں ملازمتوں کی درخواستیں اور سی وی دیکھے ہیں، لیکن انہیں کسی ایسے ادارے کا علم نہیں جو مورالس جیسے امیدوار کو ملازمت دیتا
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ واقعے کے وقت مورالس کی گاڑی کی پچھلی نشست پر 2 دیگر زیر حراست تارکینِ وطن موجود تھے،ہیرس کاؤنٹی کے شیرف ایڈ گونزالیز اور ڈسٹرکٹ اٹارنی نے کہا کہ ان افراد کے ہاتھ ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے تھے اور انہوں نے سیٹ بیلٹ بھی نہیں باندھی ہوئی تھی،حکام کے مطابق ایسی صورت حال میں اہلکار کو گاڑی میں موجود افراد کے ساتھ تعاقب میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا
آئی سی ای نے واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے بیان میں فردِ جرم کو ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ قرار دیا اور اہلکار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات کہ مورالس نے جان بوجھ کر پارا ہرنینڈز کو گاڑی سے ٹکر ماری، بے بنیاد اور غلط ہیں،
ادارے کے مطابق اس کے اہلکار خطرناک مجرموں کو گرفتار کرنے اور ملک بدر کرنے کی ذمہ داریاں پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیتے ہیں
شان ٹیر نے کہا کہ آئی سی ای کا بیج کسی اہلکار کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی شخص کو زخمی کرے، قتل کرے یا اس کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرے،ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کا مقصد صرف متاثرہ شخص اور اس کے خاندان کو انصاف دلانا نہیں بلکہ ان اہلکاروں کو بھی واضح پیغام دینا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں قانون سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی آزادی حاصل ہے
یہ مقدمہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے خلاف ریاستی سطح پر فوجداری کارروائی شاذونادر ہی ہوتی ہے،امریکی آئین کی بالادستی کی شق کے تحت وفاقی اہلکاروں کو بعض حالات میں ریاستی مقدمات سے تحفظ حاصل ہو سکتا ہے، خصوصاً جب ان کا اقدام وفاقی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ضروری قرار دیا جائے،اسی قانونی تحفظ کے باعث مقامی استغاثہ کے لیے ایسے مقدمات میں کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے
ہیوسٹن میں یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم تیز کر رکھی ہے اور وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے اقدامات پر ملک بھر میں تنقید اور احتجاج جاری ہے،ہیوسٹن میں اس سے پہلے بھی ایک وفاقی اہلکار کی فائرنگ سے ایک تارکِ وطن کی ہلاکت کے واقعے نے تنازعہ پیدا کیا تھا،وفاقی حکام سے ایسے واقعات کی مزید مؤثر تحقیقات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، تاہم محکمہ انصاف کے حکام پر ناقدین کی جانب سے یہ اعتراض بھی سامنے آیا ہے کہ وہ ان معاملات کی تحقیقات میں مطلوبہ سرگرمی نہیں دکھا رہے

قومی خبریں سے مزید