پولینڈ کے صدر نے اعلیٰ عدالت کے سربراہ کی معطلی کے بعد سینیگال کا دورہ ادھورا چھوڑ دیا، عدالتی بحران شدت اختیار کر گیا
پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی نے جمعہ کو سینیگال جاتے ہوئے اپنا دورہ منسوخ کر دیا اور وطن واپسی کا فیصلہ کیا،یہ پیش رفت ملک کی اعلیٰ آئینی عدالت کے سربراہ بوگدان شویچکوفسکی کی معطلی کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کی حکومت اور دائیں بازو کے سیاسی حلقوں کے درمیان عدلیہ کے کنٹرول پر جاری کشمکش مزید شدت اختیار کر گئی ہے
جمعہ کو پولینڈ کے آئینی ٹریبونل نے اعلان کیا کہ عدالت کی سب سے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والی جج آنا کورون پیوترووسکا نے ٹریبونل کے صدر بوگدان شویچکوفسکی کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا ہے اور اب وہ خود عدالت کی سربراہی کریں گی
شویچکوفسکی کو وزیراعظم ٹسک کے دائیں بازو کے پیشرو کی حکومت کے دور میں اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا
عدالتی بحران کے بعد جمعہ کی رات ٹریبونل کے باہر سینکڑوں مظاہرین جمع ہو گئے،علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی،دائیں بازو کے سیاست دانوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم ٹسک کی حکومت پر عدالت کے خلاف بغاوت اور عدالتی نظام پر قبضے کی کوشش کا الزام عائد کیا
صدر ناوروکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا، ’’ایسی صورت حال میں صدر کا پولینڈ میں موجود ہونا ضروری ہے،میں سینیگال کے لیے اپنا سفر مختصر کر رہا ہوں اور واپس آ رہا ہوں”
پولینڈ کی آئینی عدالت کے مستقبل اور اس کے اختیارات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل عرصے سے تنازع جاری ہے،اس کشمکش نے عدالت کے معمول کے کام کو بھی شدید متاثر کیا ہے
وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کی حکومت عدالتی اداروں میں اصلاحات اور ان کی آزادی بحال کرنے کی کوششوں کا مؤقف رکھتی ہے، جبکہ دائیں بازو کے سیاسی حلقے ان اقدامات کو عدلیہ پر حکومتی اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں
تازہ ترین واقعے نے اس سیاسی اور آئینی تنازعہ کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ اب عدالت کی سربراہی ہی متنازعہ ہو گئی ہے
یہ تنازعہ پولینڈ کے آئینی ٹربیونل پر کنٹرول اور عدلیہ کی آزادی کے معاملے پر کئی برس سے جاری سیاسی لڑائی کا نیا مرحلہ ہے،وزیراعظم ٹسک کی یورپ نواز حکومت اور قوم پرست صدر ایک دوسرے کی جانب سے مقرر کیے گئے ججوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آئینی عدالت کا نظام عملاً مفلوج ہو چکا ہے
وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کی حکومت ملک میں قانون کی حکمرانی بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے،ان کے بقول یہ عمل مشکل اور بعض اوقات تکلیف دہ ہے، لیکن فیصلہ کن اقدامات کے بغیر اس کا کوئی راستہ نہیں
یہ تنازعہ 2015 میں شروع ہوا تھا، جب اس وقت کی قانون و انصاف پارٹی (پی آئی ایس) کی حکومت نے ایسے عدالتی عہدوں پر اپنے نامزد جج مقرر کرنے کی کوشش کی جو پہلے ہی سابق حکومت کے نامزد کردہ ججوں سے پُر تھے،بعد ازاں اس جماعت کے نامزد ججوں نے آئینی عدالت میں اکثریت حاصل کر لی،ملک کے اندر اور بیرونِ ملک ناقدین نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عدالت آزاد اور غیر جانب دار ادارے کے قانونی معیار پر پوری نہیں اترتی
ڈونلڈ ٹسک کی اتحادی حکومت نے 2023 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عدلیہ میں اصلاحات اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا،یورپی یونین بھی سابق قانون و انصاف حکومت پر عدالتی آزادی کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے،تاہم سابق حکمران جماعت کے اتحادی صدر ناوروکی نے 2025 میں منتخب ہونے کے بعد ان اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں
رپورٹس کے مطابق صدر ناوروکی نے رواں سال پارلیمان کی جانب سے منتخب کیے گئے 6 میں سے 3 ججوں کی تقرری کی حلف برداری سے انکار کیا تھا، جبکہ معطل کیے گئے عدالتی سربراہ شویچکووسکی نے موجودہ پارلیمانی اکثریت کے منتخب کردہ ججوں کو اپنے عہدوں پر کام شروع کرنے کی اجازت نہیں دی تھی
اس دوران پولینڈ کے سابق وزیر انصاف زبیگنیف زیوبرو نے شویچکووسکی کی معطلی کو آئینی نظام پر مجرمانہ حملہ قرار دیا اور عوام سے مزاحمت کی اپیل کی،رومانیہ میں پولینڈ کے سفیر پاول سولوخ نے بھی اس اقدام کو عدالت پر غیر قانونی قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا
پولینڈ میں امریکی سفیر ٹام روز نے بھی اس صورت حال پر تشویش ظاہر کی،ان کا کہنا تھا کہ ملک میں حکومتی اختیارات کے استعمال اور ایک آئینی ادارے کی آزادی و اتھارٹی کے حوالے سے غیر معمولی محاذ آرائی دکھائی دے رہی ہے،انہوں نے کہا کہ امریکہ پولینڈ کے ساتھ کھڑا ہے، تاہم اس کے اندرونی معاملات میں فیصلہ دینا یا مداخلت کرنا واشنگٹن کا کام نہیں،امریکہ کی تشویش پولینڈ کے استحکام، سلامتی اور جمہوری مستقبل سے متعلق ہے
یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹسک کی حکمران جماعت اور اپوزیشن قانون و انصاف پارٹی اگلے سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی تیاری کر رہی ہیں،دونوں سیاسی قوتوں کے درمیان عدالتی تقرریوں اور اختیارات کی تقسیم پر اختلافات نے ملک کے آئینی اداروں کی کارکردگی اور عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت کو ایک بار پھر سیاسی تنازعہ بنا دیا ہے




