مشی گن میں سینیٹ کا اہم انتخاب، ڈیموکریٹس کی اندرونی تقسیم ٹرمپ اور ریپبلکنز کے خلاف عوامی ناراضگی پر بھاری پڑے گی؟
مڈٹرم انتخابات سے ایک ہفتے سے بھی کم وقت پہلے ریاست مشی گن کے اہم سینیٹ انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اندرونی تقسیم بدستور برقرار ہے،اصل سوال یہ ہے کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے خلاف ووٹروں کی ناراضگی ڈیموکریٹس کے اختلافات پر غالب آ سکے گی یا پارٹی کے اندر جاری کشمکش امیدوار کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنے گی
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید کو کئی ماہ سے پارٹی کے اندر اور باہر تنقید کا سامنا ہے،ان کی نامزدگی کے لیے ہونے والی متنازعہ پرائمری نے ووٹروں اور پارٹی رہنماؤں کو تقسیم کر دیا تھا،پرائمری کے بعد پارٹی کے روایتی ووٹر اتحاد کو یکجا کرنے پر توجہ دینے کے بجائے السید نے نئے ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے، خصوصاً کالج کے طلبہ اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو
تاہم ڈیموکریٹس کے درمیان اختلافات ایک بار پھر بدھ کے روز کھل کر سامنے آ گئے، جب السید کی سابق حریف اور کانگریس کی رکن ہیلی اسٹیونز کے منگیتر، جیسن ٹرکش، نے اخبار ڈیٹرائٹ نیوز کو بتایا کہ وہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو ووٹ دیں گے
یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ مشی گن میں سینیٹ کی نشست پر مقابلہ قومی سیاست کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے،ڈیموکریٹس کے لیے چیلنج صرف ریپبلکن امیدوار کو شکست دینا نہیں بلکہ اپنی جماعت کے ان ووٹروں اور حامیوں کو بھی ساتھ رکھنا ہے جو پرائمری کے نتائج سے ناخوش ہیں
دوسری طرف ریپبلکنز کے لیے ڈیموکریٹس کی تقسیم انتخابی فائدے کا موقع پیدا کر سکتی ہے
تاہم، پارٹی کے اندر اختلافات کی موجودگی بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتی کہ ڈیموکریٹک امیدوار کو شکست ہو گی،انتخابی نتیجے کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ کتنے ووٹر انتخاب میں حصہ لیتے ہیں، آزاد ووٹر کس امیدوار کی حمایت کرتے ہیں اور ٹرمپ کی پالیسیوں سے متعلق عوامی ناراضی ووٹوں میں کس حد تک تبدیل ہوتی ہے






