Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فرانس میں توڑ پھوڑ اور ہنگاموں کے اخراجات مظاہرین سے وصول کرنے کے بل کی سینیٹ سے منظوری، 11 ہزار ڈالر تک جرمانے کی تجویز

فرانس میں توڑ پھوڑ اور ہنگاموں کے اخراجات مظاہرین سے وصول کرنے کے بل کی سینیٹ سے منظوری، 11 ہزار ڈالر تک جرمانے کی تجویز

فرانس کی سینیٹ نے ایک ایسے بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ہنگاموں اور پرتشدد مظاہروں کے دوران ہونے والے نقصانات کا مالی بوجھ مظاہرین پر ڈالا جا سکے گا،مجوزہ قانون کے تحت بعض مظاہرین کو 10,000 یورو، یعنی تقریباً 11,140 ڈالر تک ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے،اس تجویز پر تشویش بھی سامنے آئی ہے کہ کسی مظاہرین کو ایسے نقصان کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جا سکتا ہے جو اس نے ذاتی طور پر نہ کیا ہو
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق، ’’فساد کرنے والے ادائیگی کریں‘‘ کے نام سے پیش کیے گئے اس بل کا مقصد تشدد اور جرائم کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کے اخراجات متعلقہ افراد سے وصول کرنا ہے،مجوزہ قانون کے تحت واجب الادا رقم کی وصولی کے لیے بعض صورتوں میں سرکاری امدادی رقوم بھی ضبط کی جا سکیں گی
فرانسیسی حکومت کو ایک طرف ملک بھر میں پھیلتے ہوئے پرتشدد مظاہروں کا سامنا ہے، تو دوسری طرف وہ سرکاری اخراجات میں کمی کی کوشش کر رہی ہے،مظاہروں کا آغاز طلبہ تحریک سے ہوا تھا، لیکن بعد میں یہ وسیع تر عوامی احتجاج میں تبدیل ہوگئے،مظاہرین کے مطالبات میں تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے لیے حکومتی مدد شامل ہے
رواں ماہ کے دوران احتجاج نے اس وقت شدت اختیار کی جب مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں ہوئیں،ہفتے کے اختتام پر مزید مظاہروں کی توقع ظاہر کی گئی ہے
بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ عوامی املاک اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچانے والوں کو اس کی مالی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، تاکہ نقصان کا بوجھ عام شہریوں اور سرکاری خزانے پر نہ پڑے،تاہم، اس تجویز کے تحت مظاہروں میں شریک افراد کو ان نقصانات کے لیے بھی ذمہ دار ٹھہرانے کا خدشہ ہے جو انہوں نے خود نہیں کیے، جس سے انفرادی ذمہ داری اور پرامن احتجاج کے حق سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں
سینیٹ سے منظوری کے بعد بل کی قانونی حیثیت اور اس کے نفاذ کا انحصار فرانس کے قانون سازی کے اگلے مراحل پر ہوگا،صرف سینیٹ کی منظوری سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مجوزہ قانون نافذ ہو چکا ہے

قومی خبریں سے مزید