Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلیوں میں تعصب کی انتہا:ریپبلکن کو فائدہ ہوگا یا نقصان نتائج سے پتہ چلے گا، مگر سیاسی سماجی تقسیم بڑھے گی

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلیوں میں تعصب کی انتہا:ریپبلکن کو فائدہ ہوگا یا نقصان نتائج سے پتہ چلے گا، مگر سیاسی سماجی تقسیم بڑھے گی

برطانوی اخبار دی گارڈین کے صحافی ڈیوڈ اسمتھ نے اپنے ایک تجزیے میں کہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق صدر باراک اوباما دونوں انتخابی مہم کے لیے سرگرم ہیں، لیکن ٹرمپ کی ریلیوں میں تعصب پر مبنی بیان بازی زیادہ نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے، ڈیوڈ کے تازہ مضمون کے عنوان میں ٹرمپ کی مہم کے اس پہلو پر سخت تنقید کی گئی ہے
اخبار کے مطابق، صدر ٹرمپ کی حالیہ ریلیوں میں مسلمان امیدواروں، صومالی نژاد امریکیوں اور خواتین کے بارے میں متنازعہ بیانات نمایاں رہے ہیں،دوسری جانب اوباما ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت میں جلسے کر رہے ہیں اور ٹرمپ کی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی پر تنقید کر رہے ہیں،
مضمون میں مشی گن کی ایک ریلی کا حوالہ دیا گیا ہے جہاں ٹرمپ نے سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کو ’’جہادی‘‘ قرار دیا اور ان پر دہشت گردوں کا ساتھ دینے کا الزام لگایا،اخبار کے مطابق، ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا،ٹرمپ نے صومالی نژاد امریکیوں کے بارے میں بھی ایسے دعوے کیے جنہیں مضمون نے نسلی تعصب پر مبنی اور غلط قرار دیا
ڈیوڈ اسمتھ نے ٹرمپ کی ریلیوں میں خواتین اور مرد سیاست دانوں کے جسمانی خدوخال پر تبصروں کو بھی موضوع بنایا ہے،مضمون میں ٹرمپ کی ایک دیرینہ حامی شیرون اینڈرسن کا موقف بھی شامل ہے، جو 81 ریلیوں میں شرکت کر چکی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ ٹرمپ کے انداز میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی
اس کے برعکس، اوباما اپنی انتخابی تقاریر میں مزاح اور سیاسی تنقید کے ذریعے سامعین کو متوجہ کر رہے ہیں،مضمون کے مطابق، ٹرمپ کی انتخابی مہم ایسے وقت میں جاری ہے جب وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آنے والے بعض جائزوں میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے،مصنف کا استدلال ہے کہ انتخابی دباؤ اور سیاسی اثرورسوخ میں ممکنہ کمی ٹرمپ کی بیان بازی کو مزید سخت کر سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید