Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نیویارک کا رہائشی بحران انتخابی مہم کا اہم موضوع، امیدواروں کے پاس مہنگے کرایوں اور گھروں کی قلت سے نمٹنے کے کیا منصوبے ہیں؟

نیویارک کا رہائشی بحران انتخابی مہم کا اہم موضوع، امیدواروں کے پاس مہنگے کرایوں اور گھروں کی قلت سے نمٹنے کے کیا منصوبے ہیں؟
نیویارک: رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سستے گھروں کی قلت نیویارک کے انتخابی معرکے میں اہم مسئلہ بن گئی ہے،شہر میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے نوجوانوں کے لیے بھی اپنے آبائی شہر میں رہائش کا انتظام مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث بعض افراد نیویارک چھوڑ کر نسبتاً سستی ریاستوں میں منتقل ہونے پر غور کر رہے ہیں
بروکلین میں پرورش پانے والی 24 سالہ ٹیلر ریورز کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے،وہ یاد کرتی ہیں کہ ہائی اسکول کے زمانے میں اپنے موبائل فون پر جائیدادوں کے اشتہارات دیکھتے ہوئے سوچا کرتی تھیں کہ ملازمت شروع کرنے کے بعد وہ کون سا اپارٹمنٹ کرائے پر لیں گی یا اپنا گھر خریدیں گی،لیکن اب ان کے بقول، نوعمری کے دور کے یہ خواب محض خیالی تصورات محسوس ہوتے ہیں
ریورز گھریلو نگہداشت کی معاون اور جزوقتی آیا کے طور پر کام کرتی ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی 34,000 ڈالر ہے،اس آمدنی میں نیویارک میں اپنے لیے قابل برداشت رہائش تلاش کرنا ان کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے،وہ مشرقی نیویارک، بروکلین میں اپنے دادا کے گھر کے بیسمنٹ میں رہتی ہیں
ریورز کا کہنا ہے کہ وہ نیویارک کے پانچوں بوروز سے باہر کسی سستی جگہ منتقل ہونے کے بارے میں سوچ رہی ہیں،ان کے زیر غور مقامات میں ٹیکساس اور، زیادہ امکان کے ساتھ، نیو جرسی شامل ہیں
وہ ایسی زندگی چاہتی ہیں جس میں گھر کا کرایہ ادا کرنے، کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے اور فون و انٹرنیٹ کے بلوں کی ادائیگی کے بعد بھی ان کے پاس اتنی رقم باقی ہو کہ وہ کسی دن کام سے چھٹی لے کر گھر میں آرام کر سکیں
ریورز نے کہا کہ وہ ایسا وقت چاہتی ہیں جب انہیں اطمینان ہو کہ ان کے فریج میں کھانا موجود ہے، کرایہ ادا ہو چکا ہے، فون اور وائی فائی چل رہے ہیں اور ضروریات پوری کرنے کے بعد وہ سکون سے آرام کر سکتی ہیں،ان کے بقول، یہ زندگی نیویارک میں ملے یا کسی دوسری جگہ، ان کے لیے اصل اہمیت مالی تحفظ اور ذہنی سکون کی ہے
گوتھمسٹ کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک میں رہائشی بحران اب انتخابی بحث کا ایک مرکزی موضوع ہے اور امیدواروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے کرایوں، سستے گھروں کی کمی اور عام آمدنی والے شہریوں کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اپنے منصوبے واضح کریں
نیویارک کا رہائشی بحران انتخابی مہم کا اہم موضوع، امیدواروں کے پاس مہنگے کرایوں اور گھروں کی قلت سے نمٹنے کے کیا منصوبے ہیں؟
نیویارک: رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سستے گھروں کی قلت نیویارک کے انتخابی معرکے میں اہم مسئلہ بن گئی ہے،شہر میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے نوجوانوں کے لیے بھی اپنے آبائی شہر میں رہائش کا انتظام مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث بعض افراد نیویارک چھوڑ کر نسبتاً سستی ریاستوں میں منتقل ہونے پر غور کر رہے ہیں
بروکلین میں پرورش پانے والی 24 سالہ ٹیلر ریورز کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے،وہ یاد کرتی ہیں کہ ہائی اسکول کے زمانے میں اپنے موبائل فون پر جائیدادوں کے اشتہارات دیکھتے ہوئے سوچا کرتی تھیں کہ ملازمت شروع کرنے کے بعد وہ کون سا اپارٹمنٹ کرائے پر لیں گی یا اپنا گھر خریدیں گی،لیکن اب ان کے بقول، نوعمری کے دور کے یہ خواب محض خیالی تصورات محسوس ہوتے ہیں
ریورز گھریلو نگہداشت کی معاون اور جزوقتی آیا کے طور پر کام کرتی ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی 34,000 ڈالر ہے،اس آمدنی میں نیویارک میں اپنے لیے قابل برداشت رہائش تلاش کرنا ان کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے،وہ مشرقی نیویارک، بروکلین میں اپنے دادا کے گھر کے بیسمنٹ میں رہتی ہیں
ریورز کا کہنا ہے کہ وہ نیویارک کے پانچوں بوروز سے باہر کسی سستی جگہ منتقل ہونے کے بارے میں سوچ رہی ہیں،ان کے زیر غور مقامات میں ٹیکساس اور، زیادہ امکان کے ساتھ، نیو جرسی شامل ہیں
وہ ایسی زندگی چاہتی ہیں جس میں گھر کا کرایہ ادا کرنے، کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے اور فون و انٹرنیٹ کے بلوں کی ادائیگی کے بعد بھی ان کے پاس اتنی رقم باقی ہو کہ وہ کسی دن کام سے چھٹی لے کر گھر میں آرام کر سکیں
ریورز نے کہا کہ وہ ایسا وقت چاہتی ہیں جب انہیں اطمینان ہو کہ ان کے فریج میں کھانا موجود ہے، کرایہ ادا ہو چکا ہے، فون اور وائی فائی چل رہے ہیں اور ضروریات پوری کرنے کے بعد وہ سکون سے آرام کر سکتی ہیں،ان کے بقول، یہ زندگی نیویارک میں ملے یا کسی دوسری جگہ، ان کے لیے اصل اہمیت مالی تحفظ اور ذہنی سکون کی ہے
گوتھمسٹ کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک میں رہائشی بحران اب انتخابی بحث کا ایک مرکزی موضوع ہے اور امیدواروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے کرایوں، سستے گھروں کی کمی اور عام آمدنی والے شہریوں کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اپنے منصوبے واضح کریں
نیویارک کا رہائشی بحران انتخابی مہم کا اہم موضوع، امیدواروں کے پاس مہنگے کرایوں اور گھروں کی قلت سے نمٹنے کے کیا منصوبے ہیں؟
نیویارک: رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سستے گھروں کی قلت نیویارک کے انتخابی معرکے میں اہم مسئلہ بن گئی ہے،شہر میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے نوجوانوں کے لیے بھی اپنے آبائی شہر میں رہائش کا انتظام مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث بعض افراد نیویارک چھوڑ کر نسبتاً سستی ریاستوں میں منتقل ہونے پر غور کر رہے ہیں
بروکلین میں پرورش پانے والی 24 سالہ ٹیلر ریورز کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے،وہ یاد کرتی ہیں کہ ہائی اسکول کے زمانے میں اپنے موبائل فون پر جائیدادوں کے اشتہارات دیکھتے ہوئے سوچا کرتی تھیں کہ ملازمت شروع کرنے کے بعد وہ کون سا اپارٹمنٹ کرائے پر لیں گی یا اپنا گھر خریدیں گی،لیکن اب ان کے بقول، نوعمری کے دور کے یہ خواب محض خیالی تصورات محسوس ہوتے ہیں
ریورز گھریلو نگہداشت کی معاون اور جزوقتی آیا کے طور پر کام کرتی ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی 34,000 ڈالر ہے،اس آمدنی میں نیویارک میں اپنے لیے قابل برداشت رہائش تلاش کرنا ان کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے،وہ مشرقی نیویارک، بروکلین میں اپنے دادا کے گھر کے بیسمنٹ میں رہتی ہیں
ریورز کا کہنا ہے کہ وہ نیویارک کے پانچوں بوروز سے باہر کسی سستی جگہ منتقل ہونے کے بارے میں سوچ رہی ہیں،ان کے زیر غور مقامات میں ٹیکساس اور، زیادہ امکان کے ساتھ، نیو جرسی شامل ہیں
وہ ایسی زندگی چاہتی ہیں جس میں گھر کا کرایہ ادا کرنے، کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے اور فون و انٹرنیٹ کے بلوں کی ادائیگی کے بعد بھی ان کے پاس اتنی رقم باقی ہو کہ وہ کسی دن کام سے چھٹی لے کر گھر میں آرام کر سکیں
ریورز نے کہا کہ وہ ایسا وقت چاہتی ہیں جب انہیں اطمینان ہو کہ ان کے فریج میں کھانا موجود ہے، کرایہ ادا ہو چکا ہے، فون اور وائی فائی چل رہے ہیں اور ضروریات پوری کرنے کے بعد وہ سکون سے آرام کر سکتی ہیں،ان کے بقول، یہ زندگی نیویارک میں ملے یا کسی دوسری جگہ، ان کے لیے اصل اہمیت مالی تحفظ اور ذہنی سکون کی ہے
گوتھمسٹ کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک میں رہائشی بحران اب انتخابی بحث کا ایک مرکزی موضوع ہے اور امیدواروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے کرایوں، سستے گھروں کی کمی اور عام آمدنی والے شہریوں کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اپنے منصوبے واضح کریں
نیویارک کا رہائشی بحران انتخابی مہم کا اہم موضوع، امیدواروں کے پاس مہنگے کرایوں اور گھروں کی قلت سے نمٹنے کے کیا منصوبے ہیں؟
نیویارک: رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سستے گھروں کی قلت نیویارک کے انتخابی معرکے میں اہم مسئلہ بن گئی ہے،شہر میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے نوجوانوں کے لیے بھی اپنے آبائی شہر میں رہائش کا انتظام مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث بعض افراد نیویارک چھوڑ کر نسبتاً سستی ریاستوں میں منتقل ہونے پر غور کر رہے ہیں
بروکلین میں پرورش پانے والی 24 سالہ ٹیلر ریورز کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے،وہ یاد کرتی ہیں کہ ہائی اسکول کے زمانے میں اپنے موبائل فون پر جائیدادوں کے اشتہارات دیکھتے ہوئے سوچا کرتی تھیں کہ ملازمت شروع کرنے کے بعد وہ کون سا اپارٹمنٹ کرائے پر لیں گی یا اپنا گھر خریدیں گی،لیکن اب ان کے بقول، نوعمری کے دور کے یہ خواب محض خیالی تصورات محسوس ہوتے ہیں
ریورز گھریلو نگہداشت کی معاون اور جزوقتی آیا کے طور پر کام کرتی ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی 34,000 ڈالر ہے،اس آمدنی میں نیویارک میں اپنے لیے قابل برداشت رہائش تلاش کرنا ان کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے،وہ مشرقی نیویارک، بروکلین میں اپنے دادا کے گھر کے بیسمنٹ میں رہتی ہیں
ریورز کا کہنا ہے کہ وہ نیویارک کے پانچوں بوروز سے باہر کسی سستی جگہ منتقل ہونے کے بارے میں سوچ رہی ہیں،ان کے زیر غور مقامات میں ٹیکساس اور، زیادہ امکان کے ساتھ، نیو جرسی شامل ہیں
وہ ایسی زندگی چاہتی ہیں جس میں گھر کا کرایہ ادا کرنے، کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے اور فون و انٹرنیٹ کے بلوں کی ادائیگی کے بعد بھی ان کے پاس اتنی رقم باقی ہو کہ وہ کسی دن کام سے چھٹی لے کر گھر میں آرام کر سکیں
ریورز نے کہا کہ وہ ایسا وقت چاہتی ہیں جب انہیں اطمینان ہو کہ ان کے فریج میں کھانا موجود ہے، کرایہ ادا ہو چکا ہے، فون اور وائی فائی چل رہے ہیں اور ضروریات پوری کرنے کے بعد وہ سکون سے آرام کر سکتی ہیں،ان کے بقول، یہ زندگی نیویارک میں ملے یا کسی دوسری جگہ، ان کے لیے اصل اہمیت مالی تحفظ اور ذہنی سکون کی ہے
گوتھمسٹ کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک میں رہائشی بحران اب انتخابی بحث کا ایک مرکزی موضوع ہے اور امیدواروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے کرایوں، سستے گھروں کی کمی اور عام آمدنی والے شہریوں کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اپنے منصوبے واضح کریں

قومی خبریں سے مزید