Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

صارفین کے اخراجات اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے باعث امریکی معیشت کی شرح نمو 3.4 فیصد ہوگئی

صارفین کے اخراجات اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے باعث امریکی معیشت کی شرح نمو 3.4 فیصد ہوگئی
واشنگٹن: امریکی معیشت نے جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیاد پر 3.4 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو اپریل سے جون کی سہ ماہی میں ریکارڈ کی گئی 2.2 فیصد شرح نمو سے نمایاں طور پر زیادہ ہے،معیشت کی اس تیز رفتار ترقی میں صارفین کے اخراجات اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کاروباری سرمایہ کاری نے اہم کردار ادا کیا
امریکی محکمہ تجارت کے مطابق مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافے کی رفتار ماہرین اقتصادیات کی توقعات سے بھی زیادہ رہی،مالیاتی اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے فیکٹ سیٹ کے سروے میں ماہرین نے تیسری سہ ماہی کے دوران 3 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی تھی، جبکہ اصل شرح 3.4 فیصد رہی
دنیا کی سب سے بڑی معیشت نے ایران کے ساتھ جاری لڑائی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود اپنی مضبوطی برقرار رکھی،صارفین کے اخراجات میں تیسری سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیاد پر 3.8 فیصد اضافہ ہوا، جو اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی کی عکاسی کرتا ہے
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری بھی معاشی ترقی کا ایک اہم محرک رہی،رہائشی تعمیرات کے شعبے کو خارج کرکے کاروباری سرمایہ کاری میں 12.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،معلومات کی پراسیسنگ کے آلات میں سرمایہ کاری 37.4 فیصد بڑھی، جبکہ سافٹ ویئر میں سرمایہ کاری میں 9.6 فیصد اور تحقیق و ترقی کے شعبے میں 7.5 فیصد اضافہ ہوا
اس کے برعکس، بلند رہن کی شرح سود نے رہائشی تعمیرات اور مکانات کے شعبے پر دباؤ برقرار رکھا،رہائشی سرمایہ کاری میں تیسری سہ ماہی کے دوران 3.3 فیصد کمی ہوئی،اس طرح یہ شعبہ مسلسل چھٹی سہ ماہی میں بھی گراوٹ کا شکار رہا
مجموعی طور پر تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صارفین کے مضبوط اخراجات اور مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری نے امریکی معیشت کی ترقی کو سہارا دیا، اگرچہ بلند شرح سود کے باعث ہاؤسنگ کا شعبہ دباؤ میں ہے

قومی خبریں سے مزید