Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پشاور کی عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں افغان شہری کو سزائے موت سنا دی

پشاور کی عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں افغان شہری کو سزائے موت سنا دی

پشاور کی مقامی عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں ایک افغان شہری کو سزائے موت اور 100,000 روپے جرمانے کی سزا سنادی ہے ایڈیشنل سیشن جج رفیع اللہ نے اپنے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں کامیاب رہا تاہم سزائے موت پر عمل درآمد پشاور ہائی کورٹ کی توثیق سے مشروط ہے
مقدمے کے مطابق یہ واقعہ 5 اگست 2022 کو پشاور کے علاقے حیات آباد فیز 3 میں فلائی اوور پر پیش آیا تھا ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ وہاں لوگوں نے ایک شخص کو پکڑ رکھا ہے پولیس موقع پر پہنچی اور اس شخص کو اپنی تحویل میں لے لیا
استغاثہ کے 3 عینی گواہوں نے پولیس کو بتایا کہ ملزم نے وہاں کھڑے ہوکر حضور اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز اور نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے ایک گواہ نے عدالت میں یہ بھی بیان دیا کہ اس نے ملزم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سمیت دیگر انبیائے کرام کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کرتے سنا تھا
عدالت نے مقدمے کا فیصلہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295 سی کے تحت سنایا جج نے اپنے فیصلے میں وفاقی شرعی عدالت کے 1991 کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں توہین آمیز کلمات کے حوالے سے قانونی تشریح کی گئی تھی
دوران سماعت دفاعی وکیل نے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات پر سوالات اٹھائے وکیل کے مطابق شکایت کنندہ اور دیگر گواہوں کی جائے وقوعہ پر موجودگی کی تسلی بخش وضاحت نہیں کی گئی، جبکہ ابتدائی رپورٹ اور ایف آئی آر میں مبینہ طور پر کہے گئے اصل الفاظ بھی درج نہیں تھے دفاع کا مؤقف تھا کہ گواہوں کے بیانات میں اہم تضادات موجود ہیں
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ریکارڈ پر ایسی کوئی دشمنی یا بدنیتی سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر گواہوں کے ملزم کو جھوٹا پھنسانے کا نتیجہ اخذ کیا جاسکے
عدالت نے یہ بھی بتایا کہ ملزم کا طبی معائنہ کیا گیا تھا اور اسے حراست کے قابل قرار دیا گیا فیصلے کے مطابق جیل حکام کی جانب سے بھی ایسا کوئی طبی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ ملزم کسی ذہنی عارضے یا معذوری کا شکار تھا
ملزم کو سرکاری قانونی معاونت فراہم کی گئی
عدالت کے مطابق مقدمے کی حساس نوعیت کے باعث کوئی وکیل ملزم کا دفاع کرنے پر آمادہ نہیں تھا اور ملزم بھی اپنے خرچ پر وکیل مقرر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا اس صورت حال میں ضلعی و سیشن جج کی سربراہی میں کام کرنے والی قانونی امداد کمیٹی کے ذریعے اسے وکیل فراہم کیا گیا
عدالت نے ملزم کو سزائے موت کے ساتھ 100,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی اور مقدمے کا مکمل ریکارڈ سزائے موت کی توثیق کے لیے پشاور ہائی کورٹ بھیجنے کی ہدایت کی
قانونی طریقہ کار کے مطابق ہائی کورٹ اس سزا کی توثیق یا قانون کے مطابق اس پر مزید فیصلہ کرے گی اس لیے ماتحت عدالت کا فیصلہ سنائے جانے کے باوجود سزائے موت پر عمل درآمد کا مرحلہ ابھی باقی ہے

قومی خبریں سے مزید