Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اونٹاریو میں 40 ملین ڈالر کی لاٹری کا ٹکٹ آخری لمحات میں سامنے آگیا، انعام کے اصل حقدار کی تصدیق باقی

اونٹاریو میں 40 ملین ڈالر کی لاٹری کا ٹکٹ آخری لمحات میں سامنے آگیا، انعام کے اصل حقدار کی تصدیق باقی

اونٹاریو میں 40 ملین ڈالر کی لاٹری جیتنے والا ٹکٹ میعاد ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے سامنے آگیا، تاہم ابھی یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ ٹکٹ پیش کرنے والا شخص ہی اس انعام کا اصل حقدار ہے اونٹاریو لاٹری اینڈ گیمنگ کارپوریشن کے مطابق، گری کاؤنٹی میں فروخت ہونے والے اس ٹکٹ کو 28 اکتوبر 2026 کی آدھی رات کی آخری مہلت سے پہلے لاٹری ٹرمینل پر جانچ کے لیے پیش کیا گیا اور اس کی تصدیق ہوگئی اب انعام کی ادائیگی سے پہلے ٹکٹ کی ملکیت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا
یہ ٹکٹ 28 اکتوبر 2025 کو ہونے والی لوٹو میکس قرعہ اندازی کا ہے جیتنے والے نمبرز 06، 14، 17، 19، 26، 43 اور 45 تھے جبکہ بونس نمبر 27 تھا یہ ٹکٹ گری کاؤنٹی کے کسی مجاز لاٹری فروخت کنندہ سے خریدا گیا تھا، لیکن لاٹری حکام کو ابھی تک معلوم نہیں کہ اسے اصل میں کس شخص یا گروپ نے خریدا تھا
حکام کے مطابق 1,000 ڈالر سے زیادہ کے انعامات کے دعووں کی طرح اس معاملے میں بھی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ یہ طے ہوسکے کہ ٹکٹ پیش کرنے والا شخص قانونی طور پر انعام حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے یا نہیں ٹکٹ کے بارے میں بعض تفصیلات فی الحال خفیہ رکھی گئی ہیں، کیونکہ ان معلومات کی مدد سے اصل مالک کی شناخت اور دعوے کی تصدیق کی جائے گی اس لیے ٹکٹ کی تصدیق ہوجانے کے باوجود 40 ملین ڈالر کی ادائیگی ابھی حتمی نہیں ہوئی
گری کاؤنٹی میں اوون ساؤنڈ، میفورڈ، دی بلیو ماؤنٹینز، فلیشرٹن، مارکڈیل، ڈرہم اور ہینوور سمیت کئی علاقے شامل ہیں یہ خطہ سیاحوں، کاٹیج مالکان اور ایک روزہ سیر کے لیے آنے والوں میں مقبول ہے اسی وجہ سے لاٹری حکام نے پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جیتنے والا ٹکٹ کسی ایسے شخص نے خریدا ہو جو اس علاقے میں عارضی طور پر آیا ہو اور بعد میں ٹکٹ چیک کرنا بھول گیا ہو
اس ٹکٹ کے معاملے نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی کہ اگر آخری تاریخ تک کوئی دعوے دار سامنے نہ آتا تو 40 ملین ڈالر کا انعام ختم ہوجاتا اور رقم مستقبل کی لاٹری بونس گیمز یا تشہیری سرگرمیوں کے لیے واپس لاٹری انعامی رقم میں شامل کردی جاتی تاہم آخری لمحات میں ٹکٹ پیش کیے جانے کے بعد اب اصل سوال یہ ہے کہ جانچ پڑتال میں اس کے قانونی مالک کی تصدیق ہوتی ہے یا نہیں

قومی خبریں سے مزید