Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

تھرپارکر میں ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے ہلاکتیں 9 ہوگئیں،

تھرپارکر میں ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے ہلاکتیں 9 ہوگئیں،

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہوگئی ہے واقعہ بدھ کی رات نگرپارکر تحصیل کے علاقے ڈانو ڈھنڈھل میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو کے زیر انتظام صحت مرکز میں پیش آیا، جہاں مریضوں کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کی جارہی تھی واقعے میں صحت مرکز کے عملے کے افراد بھی جاں بحق ہوئے جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے منتقل کیا گیا
ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے کے وقت ایک خاتون مریضہ کو ایمبولینس میں منتقل کیا جارہا تھا خاتون نے بنیادی صحت مرکز میں بچے کو جنم دیا تھا، لیکن آپریشن کے بعد پیچیدگیاں پیدا ہونے پر اسے ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال مٹھی لے جایا جارہا تھا اسی دوران ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹ گیا اور آگ بھڑک اٹھی۔ دھماکے کی شدت کے باعث کئی افراد اس کی لپیٹ میں آگئے
صحت مرکز کے ضلعی منتظم ابراہیم کمبھار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں طبی مرکز کے عملے کے افراد بھی شامل ہیں ابتدائی اطلاعات میں 7 افراد کی ہلاکت اور 5 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بعد میں زخمیوں میں سے مزید افراد کے دم توڑنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 9 تک پہنچ گئی
صدر آصف علی زرداری نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات بہتر بنائے جائیں صدر نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی
سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے جاں بحق ہونے والے 9 افراد کے ہر خاندان کے لیے 20 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے انہوں نے حکام کو زخمیوں کے بہترین علاج کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی اور پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی قاسم سومرو کو نگرپارکر پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کا کہا
یہ حادثہ تھرپارکر کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولتوں اور ہنگامی طبی انتظامات کی حفاظت سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھاتا ہے مقامی آبادی کے بعض افراد نے صحت مراکز میں سہولتوں کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے، تاہم یہ ابھی ثابت نہیں ہوا کہ حادثے کی وجہ ناقص سامان، سلنڈر کی غلط تنصیب یا دیکھ بھال میں غفلت تھی ان پہلوؤں کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا
آکسیجن سلنڈر مریضوں کی جان بچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن ان کی محفوظ تنصیب، جانچ اور نقل و حمل میں معمولی کوتاہی بھی سنگین حادثے کا سبب بن سکتی ہے اس لیے تحقیقات میں صرف دھماکے کی فوری وجہ معلوم کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ایمبولینس میں سلنڈر لگانے اور استعمال کرنے کے لیے حفاظتی طریقہ کار موجود تھا یا نہیں، عملے کو مناسب تربیت دی گئی تھی یا نہیں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کس حد تک مؤثر تھے
تھرپارکر جیسے وسیع اور دور دراز ضلع میں مریضوں کو بہتر علاج کے لیے دوسرے اسپتالوں تک منتقل کرنا معمول کی ضرورت ہے ایسے حالات میں ایمبولینسوں اور صحت مراکز میں حفاظتی انتظامات کی باقاعدہ جانچ، طبی عملے کی تربیت اور حادثات کی غیر جانب دار تحقیقات انتہائی اہم ہیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے

قومی خبریں سے مزید