Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

عازمین حج اور بیرون ملک جانے والوں کی ویکسینیشن کا ٹھیکہ منسوخ، 4 گنا قیمت وصول کرنے کے الزامات پر تحقیقات

عازمین حج اور بیرون ملک جانے والوں کی ویکسینیشن کا ٹھیکہ منسوخ، 4 گنا قیمت وصول کرنے کے الزامات پر تحقیقات

پاکستان کی وزارت صحت نے عازمین حج اور بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے افراد کو گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا کی ویکسین لگانے کے متنازع ٹھیکے کو ختم کرنے کے بعد نیا ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر ہونے والی تحقیقات میں سرکاری طریقہ کار کی خلاف ورزیوں اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق بارڈر ہیلتھ سروسز کے موجودہ ویکسینیشن نظام کو ختم کردیا گیا ہے اور ایک ماہ کے اندر نیا ٹینڈر جاری کیا جائے گا ان کے مطابق جن حکام نے وزارت کی منظوری اور نگرانی کو نظرانداز کرتے ہوئے غیر مجاز طریقے سے ٹینڈر جاری کیا، انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے
تحقیقات کا بنیادی نکتہ ویکسین کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کے الزامات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نئے معاہدے کے تحت فی عازم حج ویکسینیشن کی لاگت تقریباً 4,500 روپے تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، جبکہ گزشتہ انتظام کے دوران ایک کمپنی نے تقریباً 1,250 روپے فی خوراک کی قیمت پر ویکسین فراہم کی تھی اس فرق نے سرکاری خریداری کے طریقہ کار اور ٹھیکے کی شفافیت پر سوالات اٹھائے
تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری نے کی اس میں انٹیلی جنس بیورو، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور اٹارنی جنرل کے دفتر کے نمائندے شامل تھے کمیٹی نے معاہدے کی قانونی بنیاد، منظوریوں اور ٹینڈر جاری کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا
تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق وزارت صحت نے 9 مئی کو خریداری کے لیے 6 رکنی کمیٹی قائم کی تھی، لیکن 10 جون کو بارڈر ہیلتھ سروسز نے اپنی الگ خریداری کمیٹی اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک اور کمیٹی تشکیل دے دی اس کے بعد ٹینڈر وزارت کی مقرر کردہ نگرانی کے بجائے الگ طریقے سے جاری کیا گیا
ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق اس معاملے میں سرکاری خریداری کے قواعد کے اطلاق پر بھی سوالات اٹھے، کیونکہ یہ معاہدہ سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری کے تحت کیا جانا تھا ان کے مطابق اس نوعیت کے معاہدے کے لیے متعلقہ شراکت داری کے قواعد پر عمل ضروری تھا
حکام کے مطابق اس معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ ویکسین کی خریداری نجی کمپنی نے کرنی تھی اور رقم نادرا کے اکاؤنٹ میں جمع ہونی تھی نادرا اپنے اخراجات منہا کرنے کے بعد متعلقہ فریقوں کے حصے تقسیم کرتا اس انتظام کے تحت سرکاری خزانے سے براہ راست رقم خرچ نہیں ہونی تھی، تاہم اس کے باوجود ٹینڈر کے طریقہ کار اور قیمتوں پر سنگین سوالات سامنے آئے
دوسری جانب 7 دوا ساز کمپنیوں نے ٹینڈر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ مختلف کمپنیوں کے درمیان مسابقت اور خریداری کے عمل کی شفافیت کا سوال بھی اس تنازع کا حصہ ہے
حکام کے مطابق گردن توڑ بخار کی ویکسین کی فی خوراک قیمت 2025 میں 2,555 روپے، 2024 میں 2,244 روپے، 2023 میں 2,476 روپے اور 2022 میں 2,550 روپے رہی تھی۔انفلوئنزا ویکسین کی قیمت 2025 میں 1,426 روپے اور 2024 میں 1,670 روپے تھی اس لیے 1,250 روپے کی قیمت کو مستقل معیار سمجھنے کے بجائے ویکسین کی دستیابی، خریداری کے وقت اور متعلقہ شرائط کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا
فی الحال ویکسینیشن کا نیا نظام قائم ہونے تک عازمین حج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی لازمی ویکسینیشن کے لیے متعلقہ ٹریول ایجنٹس سے رابطہ کریں اس دوران حکومت کو یقینی بنانا ہوگا کہ ویکسین کی فراہمی میں تعطل پیدا نہ ہو اور مسافروں کو بیرون ملک روانگی سے پہلے مطلوبہ طبی شرائط پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے
یہ معاملہ سرکاری خریداری میں شفافیت اور احتساب کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے اگر کسی معاہدے میں قواعد کی خلاف ورزی یا غیر ضروری اخراجات کے شواہد ملتے ہیں تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے تاہم قیمتوں میں فرق کی مکمل وجوہات، ٹھیکے کی قانونی حیثیت اور ہر فرد کی ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے نتائج سے ہی ہوگا

قومی خبریں سے مزید