اونٹاریو کے چھوٹے قصبے میں تاریخ رقم،
میئر سمیت تمام 5 منتخب عہدے خواتین کے نام
کینیڈا کے مشرقی اونٹاریو کے قصبے میرک ول وولفورڈ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران نئی تاریخ رقم ہوگئی، جہاں ووٹروں نے میئر سمیت کونسل کی تمام 5 نشستوں پر خواتین کو منتخب کرلیا۔اس طرح اگلے 4 سال کے لیے قصبے کی مقامی حکومت مکمل طور پر خواتین پر مشتمل ہوگی یہ نتیجہ اونٹاریو کی بلدیاتی سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک نمایاں پیش رفت ہے
اس انتخاب میں این بیر نے موجودہ میئر مائیکل کیمرون کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی انہیں تقریباً 66 فیصد ووٹ ملے، جبکہ وہ اس سے پہلے بھی مقامی کونسل میں خدمات انجام دے چکی ہیں انتخابی کامیابی کے بعد این بیر نے کہا کہ انہیں اس تاریخی کامیابی پر فخر ہے اور وہ نئے ساتھیوں کے ساتھ مل کر قصبے کے مفادات کو ترجیح دیں گی
کونسل کی باقی 4 نشستوں پر بھی خواتین کامیاب ہوئیں میرک ول وارڈ سے مارگریٹ گورل اور میری کیتھرین فریزر منتخب ہوئیں، جبکہ وولفورڈ وارڈ سے سنڈی ہانا اور جینا جلمینی نے کامیابی حاصل کی یوں میئر سمیت مقامی حکومت کی تمام 5 منتخب نشستیں خواتین کے حصے میں آئیں
میرک ول وولفورڈ تقریباً 3,000 آبادی پر مشتمل ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، جو اوٹاوا سے جنوب مغرب کی جانب واقع ہے یہ علاقہ اپنی تاریخی عمارتوں، نہروں اور خوبصورت دیہی ماحول کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے یہاں ہونے والی یہ تبدیلی اس لیے نمایاں ہے کہ پورے قصبے کی منتخب قیادت اب خواتین کے ہاتھ میں ہوگی
اونٹاریو میں اس سے پہلے بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ 1967 میں ٹوئڈ نامی قصبے نے صوبے کی پہلی مکمل خواتین پر مشتمل کونسل منتخب کی تھی بعد ازاں 2018 میں الگونکوئن ہائی لینڈز اور اسپینش میں بھی تمام منتخب کونسل ارکان خواتین تھیں۔ میرک ول وولفورڈ کا حالیہ نتیجہ اس سلسلے میں ایک نئی مثال بن گیا ہے
یہ کامیابی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اونٹاریو کے مختلف شہروں میں خواتین نے میئر اور کونسلر کے انتخابات میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں نیاگرا فالز، پورٹ کولبورن، پیمبروک اور نارتھ بے سمیت کئی مقامات پر خواتین نے میئر کے عہدے جیتے، جبکہ اوٹاوا کی نئی سٹی کونسل میں بھی خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہوگئی ہے
تاہم خواتین کی ان کامیابیوں کے باوجود سیاست میں صنفی مساوات کا ہدف ابھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہوا اونٹاریو کی بلدیاتی انتخابات میں خواتین امیدوار مجموعی امیدواروں کا تقریباً 32 فیصد تھیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منتخب عہدوں پر خواتین کی نمایاں کامیابیوں کے باوجود انتخاب لڑنے کے مرحلے پر ان کی تعداد مردوں سے کم ہے
سیاسی ماہرین کے مطابق خواتین کو سیاست میں حصہ لینے کے دوران مالی وسائل جمع کرنے، انتخابی مہم چلانے، صنفی تعصبات اور ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے بعض خواتین منتخب ہونے کے بعد بھی اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے اور فیصلہ سازی میں برابر کا کردار ادا کرنے کے لیے مشکلات محسوس کرتی ہیں
میرک ول وولفورڈ کی نئی میئر این بیر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ اصل اہمیت صرف خواتین کے منتخب ہونے کی نہیں بلکہ ان کی صلاحیت، تجربے اور مقامی مسائل سے واقفیت کی ہے ان کے مطابق قصبے کے ووٹروں نے 5 ایسے افراد کا انتخاب کیا ہے جنہیں مقامی معاملات کا تجربہ ہے اور جو اجتماعی طور پر عوام کے لیے کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں
نئی کونسل کے سامنے اب اصل امتحان مقامی مسائل حل کرنا، شہری سہولتوں کو بہتر بنانا، بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں فیصلے کرنا اور رہائشیوں کی توقعات پوری کرنا ہوگا اس انتخاب کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ، لیکن نئی قیادت کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ وہ اگلے 4 سال میں قصبے کے لیے کیا عملی نتائج سامنے لاتی ہے





