Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

حکومت نے 2 کھرب روپے کے نئے قرضے حاصل کرلیے، بینکوں کی نجی شعبے کو قرض دینے میں ہچکچاہٹ

حکومت نے 2 کھرب روپے کے نئے قرضے حاصل کرلیے، بینکوں کی نجی شعبے کو قرض دینے میں ہچکچاہٹ

پاکستانی حکومت نے سرکاری اخراجات پورے کرنے کے لیے بینکوں سے مزید 1.913 کھرب روپے قرض حاصل کرلیے، جبکہ بینکوں نے سرکاری قلیل مدتی بانڈز میں سرمایہ کاری کے لیے تقریباً 4.87 کھرب روپے کی بولیاں جمع کرائیں یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے بعد حکومتی قرضوں پر منافع کی شرح بھی بڑھ گئی ہے
29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حکومت نے ٹریژری بلز کی نیلامی کے ذریعے 1.65 کھرب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 1.913 کھرب روپے حاصل کیے اس دوران پہلے سے واجب الادا قرضوں کی واپسی کی رقم 1.195 کھرب روپے تھی اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے مقررہ ہدف سے 263 ارب روپے زیادہ قرض حاصل کیا، تاہم حاصل ہونے والی پوری رقم کو خالص نیا قرض نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ اس میں پرانے قرضوں کی ادائیگی بھی شامل تھی
بینکوں کی جانب سے 4.867 کھرب روپے کی بولیاں جمع کرانا بھی توجہ طلب ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی ادارے حکومت کو قرض دینے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری نسبتاً کم خطرے اور طے شدہ منافع کی وجہ سے بینکوں کے لیے پرکشش ہے، جبکہ نجی کاروباروں کو قرض دینے میں عدم ادائیگی اور کاروباری خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے
حکومت نے 3 ماہ کے ٹریژری بلز کے ذریعے 783.5 ارب روپے، ایک ماہ کے بلز سے 473 ارب روپے، 6 ماہ کے بلز سے 169.5 ارب روپے اور 12 ماہ کے بلز سے 242.7 ارب روپے حاصل کیے ان کی منافع کی شرح بالترتیب 12.42 فیصد، 12.1 فیصد، 12.65 فیصد اور 12.89 فیصد رہی
رپورٹ کے مطابق حکومت نے نیلامی میں منافع کی مقررہ شرحوں میں مختلف مدت کے قرضوں پر 61 بنیادی پوائنٹس تک اضافہ بھی کیا اس پیش رفت کو اسٹیٹ بینک کی حالیہ شرح سود میں اضافے کے اثرات سے جوڑا گیا ہے
اس صورتحال کا اہم پہلو یہ ہے کہ جب بینک سرکاری سکیورٹیز میں زیادہ سرمایہ لگاتے ہیں تو نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے صنعتوں، چھوٹے کاروباروں اور سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں کو کاروبار بڑھانے کے لیے قرض درکار ہوتا ہے اگر بینک نسبتاً محفوظ سرکاری سرمایہ کاری کو ترجیح دیں تو نجی شعبے کے لیے مالی وسائل حاصل کرنا مشکل یا مہنگا ہوسکتا ہے
حکومت کے لیے اس طریقے سے قرض حاصل کرنا فوری اخراجات پورے کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، لیکن قرضوں پر منافع کی ادائیگی مستقبل کے بجٹ پر بوجھ ڈالتی ہے اگر حکومتی آمدنی میں اضافہ نہ ہو اور اخراجات کے لیے مسلسل قرض لینا پڑے تو قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید وسائل درکار ہوتے ہیں، جس سے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کے لیے دستیاب رقم محدود ہوسکتی ہے
پاکستانی معیشت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ حکومت کی مالی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ نجی شعبے کو بھی مناسب شرح پر قرض فراہم کیا جائے اس مقصد کے لیے سرکاری آمدنی میں اضافہ، اخراجات پر مؤثر کنٹرول، ٹیکس نظام میں بہتری اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اہم عوامل ہیں
حکومت کی جانب سے مقررہ ہدف سے زیادہ قرض حاصل کرنا اس کی مالی ضروریات کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ بینکوں کی بھاری بولیاں سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی کشش نمایاں کرتی ہیں تاہم اس رجحان کے طویل مدتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت قرضوں کو کس حد تک مؤثر انداز میں استعمال کرتی ہے اور معیشت کو قرضوں پر انحصار سے نکالنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے

قومی خبریں سے مزید