Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ، لارنس بشنوئی گینگ نے ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کردیا، سلمان خان کو بھی دھمکی

ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ، لارنس بشنوئی گینگ نے ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کردیا، سلمان خان کو بھی دھمکی

بھارت کے شہر ممبئی میں بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ افراد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے یہ واقعہ اتوار 18 اکتوبر 2026 کو ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جہاں موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے اداکار کی گاڑی کو نشانہ بنایا ٹائیگر شروف اس حملے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور اور قریب موجود ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوگئے پولیس واقعے اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعوے کی تحقیقات کر رہی ہے
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ شام تقریباً 7 بجے پیش آیا، جب ٹائیگر شروف ایک سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ 3 نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگئے پولیس کی ابتدائی اطلاعات کے مطابق 7 گولیاں چلائی گئیں اداکار کے ڈرائیور فردوش کے بائیں ہاتھ پر گولی لگی، جبکہ قریب موجود امیش چرن نامی ایک شخص بھی زخمی ہوا دونوں کو اسپتال منتقل کیا گیا
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پیغام اور صوتی ریکارڈنگ سامنے آئی، جس میں انیل پنڈت اور ہرمن سندھو نامی افراد نے لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا پیغام میں کہا گیا کہ ٹائیگر شروف کو پہلے بھی خبردار کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے مبینہ طور پر ان انتباہات پر توجہ نہیں دی تاہم، پولیس نے اس دعوے کی صداقت کی تصدیق کے لیے تحقیقات شروع کی ہیں کسی گروہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بذات خود اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ حملہ اسی نے کیا تھا
اس واقعے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حملے کے بعد جاری کیے گئے مبینہ پیغام میں سلمان خان اور ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو بھی دھمکی دی گئی۔ پیغام میں بالی وڈ کی فلمی صنعت کو خبردار کیا گیا کہ جو لوگ سلمان خان کے ساتھ کام جاری رکھیں گے، انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس دھمکی کے بعد فلمی صنعت میں سکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے
لارنس بشنوئی کا نام اس سے پہلے بھی کئی بڑے جرائم اور دھمکیوں کے مقدمات میں سامنے آتا رہا ہے اس گروہ کو 2022 میں پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل، 2024 میں ممبئی میں سیاست دان بابا صدیقی کے قتل اور اسی سال سلمان خان کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ کے واقعے سے بھی جوڑا گیا ہے اپریل 2024 میں سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کے بعد ان کی سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی ان واقعات میں گروہ کے مبینہ کردار سے متعلق مختلف مقدمات اور تحقیقات جاری رہی ہیں
ممبئی پولیس کے لیے اب دو بنیادی سوال اہم ہیں پہلا یہ کہ ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے افراد کون تھے اور انہیں حملے کے لیے کس نے ہدایات دیں دوسرا یہ کہ سوشل میڈیا پر ذمہ داری قبول کرنے والے پیغام اور ووائس ریکارڈنگ کا اصل ماخذ کیا ہے پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا حملہ آوروں کا لارنس بشنوئی گینگ سے حقیقی تعلق ہے یا یہ دعویٰ تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش ہے
یہ واقعہ بالی وڈ اور منظم جرائم کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ایک پرانے مسئلے کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے ماضی میں ممبئی کی فلمی صنعت کو بھتہ خوری، دھمکیوں اور حملوں کا سامنا رہا ہے حالیہ برسوں میں بعض جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تشہیر اور دھمکی آمیز پیغامات کے ذریعے خوف پھیلانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں اس طرز عمل کا مقصد مبینہ طور پر نہ صرف مخصوص شخصیات کو دباؤ میں لانا بلکہ وسیع پیمانے پر اپنی موجودگی اور طاقت کا تاثر قائم کرنا بھی ہوتا ہے
ٹائیگر شروف کے واقعے میں تفتیش کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے آنا باقی ہے اداکار محفوظ ہیں، لیکن ان کے ڈرائیور اور ایک دوسرے زخمی شخص کو پیش آنے والا نقصان اس واقعے کی سنگینی واضح کرتا ہے سلمان خان کو دی گئی مبینہ دھمکی کے بعد پولیس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ حملہ آوروں کی شناخت، فائرنگ کے محرکات اور منظم جرائم کے ممکنہ روابط کا تعین کرے، تاکہ فلمی صنعت سے وابستہ افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے

قومی خبریں سے مزید