Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اڈیالہ جیل سے اسلام آباد منتقلی: کیا عمران خان کو بھی نئی ماڈل جیل منتقل کرنے کی تیاری ہے؟

اڈیالہ جیل سے اسلام آباد منتقلی: کیا عمران خان کو بھی نئی ماڈل جیل منتقل کرنے کی تیاری ہے؟

محسن نقوی کا اعلان، اسلام آباد کی نئی جیل کا پہلا مرحلہ مکمل، عمران خان کی منتقلی کے امکانات نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی کے اس اعلان نے کہ اسلام آباد کے قیدیوں کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے دارالحکومت کی نئی ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا، پاکستان کی سیاست میں ایک اہم سوال کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے،کیا پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو بھی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد منتقل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، جہاں ان کی قید کے دوران پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی ملاقاتوں، احتجاجی سرگرمیوں اور سکیورٹی انتظامات کو مسلسل سیاسی اہمیت حاصل رہی ہے؟
محسن نقوی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں نئی جیل تیار کرلی گئی ہے اور اس منصوبے کا کریڈٹ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو جاتا ہے،ان کے مطابق اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو اڈیالہ جیل سے نئی ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا،یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی جیل کے پہلے مرحلے کی تکمیل اور اس کے افتتاح کی تیاریاں جاری ہیں
اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل سیکٹر ایچ 16 میں قائم کی گئی ہے،یہ منصوبہ تقریباً 90 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے اور کئی برس کی تاخیر کے بعد اب عملی مرحلے میں داخل ہوا ہے،اس کے پہلے مرحلے میں تین بیرکیں تعمیر کی گئی ہیں،مختلف اطلاعات میں ان کی مجموعی گنجائش 1,000 سے 1,500 قیدیوں تک بتائی گئی ہے،جیل میں اسپتال، انتظامی عمارت، باورچی خانہ، افسران کی رہائش گاہیں، عملے کے لیے بیرکیں، واچ ٹاورز اور سکیورٹی چوکیاں بھی شامل ہیں،پہلے مرحلے کی تعمیر پر تقریباً 7 ارب روپے خرچ ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ پورے منصوبے کی لاگت میں تاخیر کے باعث نمایاں اضافہ ہو چکا ہے
اسلام آباد میں اپنی جیل نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے قیدی کئی دہائیوں سے پنجاب حکومت کی اڈیالہ جیل میں رکھے جاتے رہے ہیں،نئی جیل کا بنیادی مقصد یہی انتظامی انحصار ختم کرنا، اسلام آباد کے قیدیوں کو ان کے اپنے دائرۂ اختیار میں رکھنا اور اڈیالہ جیل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا ہے،اڈیالہ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور انتظامی مسائل بھی اس منصوبے کی اہم وجوہات میں شامل رہے ہیں
تاہم، عمران خان کی قید کے تناظر میں اس فیصلے کی سیاسی اہمیت محض انتظامی ضرورت تک محدود نہیں رہتی،عمران خان راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جہاں ان سے ملاقاتوں اور جیل کے باہر سیاسی سرگرمیوں نے کئی مرتبہ قومی سیاست میں کشیدگی کو بڑھایا ہے،تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن ان سے ملاقات کے لیے پہنچتے رہے ہیں، جبکہ حکومت اور انتظامیہ کو سکیورٹی، ٹریفک اور امن و امان کے انتظامات کرنا پڑتے ہیں،اسلام آباد ایک نسبتاً محدود جغرافیائی حدود والا وفاقی دارالحکومت ہے، جہاں اہم سرکاری عمارتوں، سفارتی علاقے اور حساس تنصیبات کے باعث سکیورٹی انتظامات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے
اسی پس منظر میں عمران خان کو اسلام آباد کی نئی جیل منتقل کیے جانے کا امکان سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے،اگر انہیں وہاں منتقل کیا جاتا ہے تو ان کی قید کے انتظامات وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کے براہ راست دائرے میں آجائیں گے،اس سے ملاقاتوں، سکیورٹی، جیل کے باہر جمع ہونے والے کارکنوں اور سیاسی احتجاج کے انتظامات کا طریقۂ کار بھی تبدیل ہوسکتا ہے،نئی جیل کی سکیورٹی صلاحیت اور دارالحکومت میں اس کے محل وقوع کے باعث حکومت کے لیے عمران خان کی قید کے انتظامات کو ایک مختلف انتظامی ڈھانچے میں چلانا ممکن ہوگا
اس منصوبے پر کام کئی سال پہلے شروع ہوا تھا، لیکن فنڈز کی کمی، تعمیراتی تاخیر اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث جیل مقررہ مدت میں مکمل نہ ہوسکی،اسلام آباد ہائی کورٹ کی جسٹس کمیٹی نے جنوری 2026 میں ہدایت دی تھی کہ منصوبہ 30 جون تک مکمل کیا جائے تاکہ یکم جولائی سے قیدیوں کی منتقلی شروع ہوسکے،اس کے باوجود منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل طور پر فعال نہ ہوسکا،ستمبر میں محسن نقوی نے باقی تعمیراتی اور انتظامی کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی، جبکہ اکتوبر میں جیل کے پہلے مرحلے کی تکمیل کی اطلاعات سامنے آئیں
محسن نقوی نے حالیہ گفتگو میں اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات، کرکٹ اسٹیڈیم اور کشمیر چوک انڈر پاس کے منصوبوں پر بھی بات کی،تاہم، اڈیالہ جیل سے قیدیوں کی منتقلی کا اعلان سیاسی اعتبار سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کا تعلق عمران خان کی قید کے انتظامات اور تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں سے بھی جوڑا جارہا ہے
فی الحال حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پالیسی اسلام آباد کے قیدیوں کو نئی جیل منتقل کرنے کی ہے،عمران خان کا نام اس اعلان میں الگ سے شامل نہیں کیا گیا، لیکن چونکہ وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور نئی جیل کے قیام سے دارالحکومت کے قیدیوں کی منتقلی کا راستہ کھل رہا ہے، اس لیے ان کی ممکنہ منتقلی کا سوال سیاسی بحث کا مرکزی حصہ بن گیا ہے
اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ نئی جیل کے افتتاح کے بعد حکومت قیدیوں کی منتقلی کا عمل کس ترتیب سے شروع کرتی ہے، کن انتظامی اور سکیورٹی اصولوں کے تحت یہ فیصلے کیے جاتے ہیں اور آیا عمران خان کی قید کے انتظامات بھی اس نئی پالیسی کا حصہ بنتے ہیں،اس فیصلے سے نہ صرف اسلام آباد اور اڈیالہ جیل کے انتظامی تعلقات تبدیل ہوسکتے ہیں بلکہ پاکستان کی جاری سیاسی کشمکش پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے

قومی خبریں سے مزید