Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایپسٹین فائلز میں بھارتی وزیر ہردیپ پوری کی تصاویر سامنے آگئیں، مودی حکومت سے جواب طلبی

ایپسٹین فائلز میں بھارتی وزیر ہردیپ پوری کی تصاویر سامنے آگئیں، مودی حکومت سے جواب طلبیواشنگٹن، نئی دہلی: بدنام امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے معاملے نے بھارت میں نیا سیاسی تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ امریکی محکمۂ انصاف کی ایپسٹین فائلز سے منسوب نئی تصاویر میں بھارتی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو ایپسٹین کے ساتھ دکھائے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ان ملاقاتوں کی نوعیت، پس منظر اور مقصد پر سوالات اٹھا دیے ہیں،یہ معاملہ ایسے وقت میں دوبارہ توجہ کا مرکز بنا ہے جب ایپسٹین کے بااثر سیاسی، کاروباری اور سفارتی حلقوں سے روابط کی تفصیلات مسلسل زیرِ بحث ہیںبھارت کے وزیرِ پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری سابق سفارت کار اور اقوام متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل نمائندے رہ چکے ہیں،وہ 2017 میں نریندر مودی کی کابینہ میں شامل ہوئے،ایپسٹین سے ان کے روابط کا معاملہ اس سال فروری میں بھی سامنے آیا تھا، جب پوری نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے امریکہ میں اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے دوران ایپسٹین سے تقریباً تین یا چار مرتبہ ملاقات کی اور ان سے رابطہ بھی رہا،ان کے مطابق یہ ملاقاتیں ان کی انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ سے وابستگی کے دور میں ہوئیں اور ان کا تعلق پیشہ ورانہ معاملات سے تھا۔ انہوں نے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی تھیرائٹرز کے مطابق، پوری اور ایپسٹین کے درمیان سامنے آنے والی خط و کتابت کا ایک اہم موضوع لنکڈ اِن کے بانی ریڈ ہوفمین کو بھارت میں انٹرنیٹ اور کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے مدعو کرنے کی کوششیں تھیں،تاہم، اب گردش کرنے والی تصاویر نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کردیا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ملاقاتیں کس نوعیت کی تھیں اور ان کا مکمل پس منظر کیا تھابھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس، ترنمول کانگریس اور دیگر سیاسی حلقوں کے رہنماؤں نے ان تصاویر کی روشنی میں پوری سے وضاحت طلب کی ہے،اپوزیشن رہنماؤں کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ملاقاتیں وفود کی سطح پر ہوئی تھیں تو تصاویر میں دوسرے شرکا کہاں ہیں، اور ان ملاقاتوں کی اصل نوعیت کیا تھی؟ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اپنے سابقہ بیانات اور سامنے آنے والے مواد کے درمیان تعلق واضح کریںیہ تنازعہ صرف ایک بھارتی وزیر تک محدود نہیں،ایپسٹین سے متعلق پہلے جاری ہونے والی دستاویزات میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور صنعت کار انیل امبانی کے ناموں کا ذکر بھی سامنے آ چکا ہے،تاہم، کسی دستاویز میں نام آنے، رابطہ ہونے یا ملاقات کا ذکر ملنے کو کسی جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا،ہر معاملے میں اصل دستاویزات، رابطوں کے سیاق و سباق اور متعلقہ افراد کے بیانات کا الگ الگ جائزہ ضروری ہےایپسٹین کے روابط کی تحقیقات کا بنیادی پس منظر اس کے جنسی استحصال اور کم عمر لڑکیوں کے استحصال سے متعلق سنگین جرائم ہیں،اس کے بااثر افراد سے تعلقات کے انکشافات نے امریکہ سمیت متعدد ملکوں میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اس کے سماجی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں کون لوگ شامل تھے، ان کے رابطوں کی نوعیت کیا تھی اور آیا کسی نے اس کے جرائم کے بارے میں معلومات رکھتے ہوئے اسے تحفظ فراہم کیابھارتی وزیر کے معاملے میں فی الحال سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نئی تصاویر اور پہلے سے دستیاب خط و کتابت کو ان کے سابقہ مؤقف کے ساتھ ملا کر دیکھنے سے کیا حقائق سامنے آتے ہیں،تصاویر بذاتِ خود کسی جرم کا ثبوت نہیں، لیکن اگر وہ ملاقاتوں کے بارے میں سابقہ وضاحتوں سے بظاہر مختلف صورتِ حال دکھاتی ہیں تو ان کی تاریخ، اصل ماخذ اور مکمل سیاق و سباق کی وضاحت ضروری ہے،اسی بنیاد پر یہ تنازع بھارت میں سیاسی جواب دہی اور شفافیت کی بحث کو مزید تیز کر رہا ہے

قومی خبریں سے مزید