امریکی ڈاک سروس سے 126 ملین ڈالر کے فراڈ اور نقصان پہنچانے کا الزام، پاکستانی نوجوان لاہور سے گرفتار، ملزم کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا
لاہور :امریکی ڈاک سروس سے 126 ملین ڈالر سے زائد کے مبینہ فراڈ میں مطلوب 33 سالہ پاکستانی شہری فہیم اکرم کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے،امریکی حکام کے مطابق ملزم پر جعلی ڈاک ٹکٹوں اور شپنگ لیبلز کی آن لائن فروخت کے ذریعے امریکی پوسٹل سروس کو بھاری مالی نقصان پہنچانے کا الزام ہے،پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے مطابق اس مبینہ اسکیم کے تحت تقریباً 35 ارب پاکستانی روپے مالیت کی ٹرانزیکشنز ہوئیں
امریکی محکمہ انصاف نے 28 ستمبر 2026 کو اعلان کیا تھا کہ فلوریڈا کی وفاقی گرینڈ جیوری نے فہیم اکرم کے خلاف فردِ جرم عائد کی ہے،امریکی استغاثہ کے مطابق ملزم نے اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک LabelsBank.com نامی ویب سائٹ چلائی، جس کے ذریعے 5.1 ملین سے زیادہ جعلی امریکی ڈاک لیبل فروخت کیے گئے،ان لیبلز کی قیمت تقریباً 2 ڈالر فی لیبل رکھی جاتی تھی، خواہ پارسل کا وزن، حجم یا منزل کچھ بھی ہو،اس طرح صارفین کو اصل ڈاک کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر پارسل بھیجنے کی سہولت ملتی تھی، جبکہ امریکی پوسٹل سروس کو آمدنی اور ترسیل کے اخراجات کی مد میں نقصان اٹھانا پڑتا تھا
امریکی حکام کے مطابق 5,200 سے زیادہ افراد نے اس ویب سائٹ سے جعلی لیبل خریدے،امریکی استغاثہ نے ڈاک سروس کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 126 ملین ڈالر سے زیادہ لگایا ہے،یہ رقم ویب سائٹ کی آمدنی نہیں بلکہ امریکی پوسٹل سروس کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کا تخمینہ ہے،دوسری جانب پاکستانی تفتیشی حکام نے فروخت اور لین دین کے مجموعی حجم کی مالیت تقریباً 35 ارب روپے بتائی ہے،دونوں اعداد مختلف پیمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی نوعیت کی رقم نہیں سمجھنا چاہیے
این سی سی آئی اے کے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں،تفتیشی ٹیموں نے 35 مقامات پر چھاپے مارے، 47 افراد سے پوچھ گچھ کی، 122 کال ڈیٹا ریکارڈز اور 50 آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس کا جائزہ لیا، جبکہ 120 کیمروں کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی تفتیش میں استعمال کی گئیں ،ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے لیے دس روز تک خصوصی کارروائی جاری رہی، جس کے بعد اسے لاہور سے گرفتار کیا گیا
پاکستانی حکام کے مطابق مبینہ کاروبار سے متعلق 16 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے،ان میں سات اکاؤنٹس ملزم، پانچ اس کے بھائی، دو اس کی اہلیہ اور ایک ایک اس کی بہن اور خالہ کے نام سے منسوب کیے گئے ہیں،تفتیش کار ان اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی وصولی اور منتقلی کا سراغ لگا رہے ہیں اور یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ ویب سائٹ چلانے، آرڈرز وصول کرنے اور ادائیگیاں منتقل کرنے میں دیگر افراد کا کوئی کردار تھا یا نہیں،تاہم کسی رشتہ دار کے اکاؤنٹ کی نشاندہی بذاتِ خود اس شخص کے جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں
امریکی حکام نے فہیم اکرم کے خلاف امریکہ کو دھوکا دینے کی سازش، جعلی ڈاک لیبل بنانے اور فروخت کرنے اور الیکٹرانک ذرائع سے فراڈ سمیت متعدد الزامات عائد کیے ہیں،امریکی محکمہ انصاف کے مطابق بعض الزامات میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم اصل سزا کا انحصار متعلقہ جرم، عدالتی کارروائی اور حتمی فیصلے پر ہوگا،امریکی حکام نے ویب سائٹ بند کرنے اور اس کے ڈومین کو ضبط کرنے کے لیے عدالتی حکم بھی حاصل کیا تھا
کیا ملزم امریکہ کے حوالے کیا جائے گا؟ دستیاب اطلاعات کے مطابق فہیم اکرم کی امریکہ حوالگی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا،21 اکتوبر 2026 کو لاہور کی عدالت نے این سی سی آئی اے کی درخواست پر ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تاکہ اس سے مزید تفتیش کی جا سکے،حوالگی یا پاکستان میں مقدمے کی کارروائی کے بارے میں آئندہ قانونی پیش رفت ہی صورتِ حال واضح کرے گی






