سوڈان کی فوج کے ڈرون حملے میں متنازع علاقے کی منڈی میں 53 افراد ہلاک، خواتین اور بچوں سمیت 27 زخمی
افریقی ملک سوڈان میں فوج کے مبینہ ڈرون حملے نے سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان متنازع علاقے ابیئی کی ایک منڈی کو خون میں نہلا دیا مقامی حکام کے مطابق پیر 19 اکتوبر کو امیئت منڈی پر کیے گئے حملے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوگئے۔ حکام نے الزام لگایا کہ سوڈانی فوج نے حملے کے دوران 22 گولہ بارود کے وار کیے ہلاک ہونے والوں میں خواتین، بچے، بزرگ، مقامی تاجر، جنوبی سوڈان واپس آنے والے افراد اور جنگ سے بچ کر پناہ لینے والے سوڈانی مہاجرین شامل تھے
اقوام متحدہ نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ منڈی میں کم از کم 28 شہری ہلاک ہوئے، متعدد زخمی ہیں اور کئی افراد کا ابھی تک پتا نہیں چل سکا اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے سوڈان میں بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کو تشویش ناک سلسلے کا حصہ قرار دیا مقامی حکام اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار میں ہلاکتوں کی تعداد کا فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واقعے کے فوری بعد جانی نقصان کی مکمل تصدیق کرنا مشکل تھا
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سوڈان اپریل 2023 سے جاری خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے ایک طرف سوڈان کی باقاعدہ فوج ہے، جبکہ دوسری طرف نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) لڑ رہی ہیں اقتدار اور علاقے پر کنٹرول کی اس جنگ نے ملک کے بڑے حصوں میں شہری زندگی، خوراک کی فراہمی اور طبی سہولتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 19 اور 20 اکتوبر کو سوڈان کے مختلف علاقوں میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں
ابیئی کا علاقہ کئی دہائیوں سے سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان تنازع کا مرکز رہا ہے جنوبی سوڈان نے طویل خانہ جنگی کے بعد 2011 میں سوڈان سے آزادی حاصل کی، لیکن ابیئی کی حتمی حیثیت طے نہیں ہوسکی یہ علاقہ تیل کے ذخائر اور اہم تجارتی راستوں کے باعث بھی اہمیت رکھتا ہے یہاں مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی اور دونوں ممالک کے درمیان غیر حل شدہ سرحدی تنازع نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے
امیئت منڈی مقامی آبادی کے لیے تجارت اور روزمرہ ضروریات کی اہم جگہ ہے حکام کے مطابق یہ منڈی ان راستوں میں بھی شامل ہے جن کے ذریعے سامان ان علاقوں تک پہنچتا ہے جہاں آر ایس ایف کا کنٹرول ہے جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے الزام لگایا کہ سوڈانی فوج نے منڈی کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد اس نے سوڈان کے سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا تاہم، حملے کے ذمہ داروں اور اس کے فوجی ہدف سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے
اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں ابتدائی رپورٹ میں 53 افراد کی ہلاکت بتائی گئی، جبکہ بعد کی اطلاعات میں مقامی حکام نے تعداد 153 تک پہنچنے کا دعویٰ کیا خبر کی ابتدائی رپورٹ اور بعد میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے اس فرق کے باعث حتمی تعداد کی تصدیق اہم ہے
سوڈان کی جنگ میں ڈرون حملوں کا بڑھتا ہوا استعمال شہری آبادی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے جب منڈیوں، رہائشی علاقوں اور نقل و حمل کے مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف فوری جانی نقصان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ خوراک کی ترسیل، روزگار اور زخمیوں کے علاج تک رسائی بھی متاثر ہوتی ہے اقوام متحدہ نے شہریوں کی ہلاکتوں اور لاپتا افراد کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کے لیے بڑھتی ہوئی بدامنی میں زخمیوں تک پہنچنا مزید مشکل ہوسکتا ہے
اس سانحے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوڈان کی خانہ جنگی میں عام شہریوں کو تحفظ کیسے فراہم کیا جائے گا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگ میں شریک فریقوں پر لازم ہے کہ شہریوں اور فوجی اہداف میں فرق کریں اور شہریوں کو پہنچنے والے نقصان سے بچنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں منڈی پر حملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، ہلاکتوں کی درست تعداد کا تعین اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں






