شکاگو کے مضافات میں ہندو عبادت گاہ پر اجتماعی فائرنگ کی مبینہ سازش ناکام، 19 سالہ نوجوان گرفتار، سفید فام نسل پرستی کی دستاویز برآمد
امریکی ریاست الینوائے میں پولیس نے 19 سالہ نوجوان الیگزینڈروس پاپوراکس کو مبینہ طور پر اجتماعی فائرنگ کی منصوبہ بندی کرنے اور ہندوؤں کی عبادت گاہ کو ممکنہ ہدف بنانے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے،برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے سفید فام نسل پرستی پر مبنی ایک دستاویز بھی شیئر کی تھی جس میں مبینہ طور پر اجتماعی فائرنگ کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا تھا
پولیس کے مطابق ملزم کو اتوار کے روز اس وقت گرفتار کیا گیا جب ایک شخص نے حکام کو اس کی جانب سے بھیجے گئے تشویش ناک الیکٹرانک پیغامات کی اطلاع دی،شکاگو کے مضافاتی علاقے پالٹین کی پولیس نے ملزم کی رہائش گاہ پر تلاشی کے وارنٹ کے تحت کارروائی کی، جہاں سے ایک رائفل، گولیوں سے بھرے متعدد میگزین، سیکڑوں اضافی رائفل کارتوس اور حفاظتی سامان برآمد ہوا
پولیس کے مطابق برآمد ہونے والی اشیا میں ایک ٹیکٹیکل جیکٹ بھی شامل تھی جس میں جسم کو گولیوں سے محفوظ رکھنے والی حفاظتی تہہ اور سفید فام انتہا پسندی سے وابستہ علامت والا پیچ لگا ہوا تھا
تفتیش کاروں نے ملزم کے الیکٹرانک پیغامات اور اس سے منسوب ایک دستاویز کا بھی جائزہ لیا جس کا عنوان ’’وائی آئی فائٹ،اے کے اے: ارورا شوٹرز مینی فیسٹو‘‘ بتایا گیا ہے،پولیس کے مطابق اس دستاویز میں سفید فام نسل پرستی اور انتہا پسندانہ نظریات کا اظہار کیا گیا تھا، جبکہ جنوبی ایشیائی افراد کے خلاف تشدد کے حوالے بھی موجود تھے
حکام کے مطابق ان شواہد کی بنیاد پر مبینہ منصوبے اور ممکنہ ہدف کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں،تاہم دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ہندو عبادت گاہ پر حملے کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر کی گئی تھی یا ملزم نے عملی طور پر حملے کی تیاری کا اگلا مرحلہ شروع کردیا تھا
یہ معاملہ امریکا میں نسلی انتہا پسندی اور مذہبی مقامات کی سلامتی سے متعلق خدشات کو نمایاں کرتا ہے،ملزم کے خلاف الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین عدالتی کارروائی میں ہوگا






