مدر آف آل بمز‘: ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری، ایک دھماکے سے کتنی بڑی تباہی ہوسکتی ہے؟
امریکی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کرلیے ہیں، جن میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے دنیا کے سب سے طاقت ور غیر جوہری بموں میں شمار ہونے والے جی بی یو 43/بی، یعنی ’مدر آف آل بمز‘ کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے،امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حکم دیے جانے کی صورت میں ان منصوبوں پر عمل کیا جا سکتا ہے، تاہم حملے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا
تقریباً 9.8 میٹرک ٹن وزنی یہ بم اپنی غیر معمولی تباہ کن قوت اور وسیع علاقے میں شدید دھماکے کی صلاحیت کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے،اسے زمین کی گہرائی میں موجود مضبوط زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کے بجائے سطح کے قریب یا کھلے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے تیار کیا گیا تھا،اس کے دھماکے سے عمارتیں منہدم ہوسکتی ہیں، تعمیرات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور دھماکے کی زد میں آنے والے انسانوں کے لیے بچنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے،تاہم ہلاکتوں کی تعداد کا کوئی ایک مقررہ اندازہ نہیں، کیونکہ اس کا انحصار دھماکے کے مقام، آبادی کی کثافت، عمارتوں کی نوعیت اور لوگوں کے تحفظ کے انتظامات پر ہوگا
’مدر آف آل بمز‘ کا نام اس کی جسامت اور غیر معمولی تباہ کن صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہوا،اسے 2003ء میں تیار کیا گیا اور اس کی تیاری کا مقصد روایتی بموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور فضائی دھماکا پیدا کرنا تھا،اس کی دھماکا خیز قوت تقریباً 11 ٹن ٹی این ٹی کے برابر بتائی جاتی ہے،اگرچہ یہ غیر جوہری ہتھیار ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی تباہی محدود ہوگی،اس کے باوجود یہ جوہری بم کے برابر نہیں اور نہ ہی اس کی تباہی کا موازنہ براہِ راست ایٹمی دھماکے سے کیا جا سکتا ہے
امریکا نے پہلی مرتبہ 13 اپریل 2017ء کو افغانستان میں اس بم کا جنگی استعمال کیا تھا،اس وقت صدر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت جاری تھی اور امریکی فوج نے مشرقی افغانستان میں داعش کے زیرِ استعمال سرنگوں اور غاروں کے ایک نیٹ ورک کو اس بم کے ذریعے نشانہ بنایا تھا جسے مدر آف بم کہا جاتا ہے ،اس حملے کے بعد یہ بم عالمی توجہ کا مرکز بن گیا اور اسے امریکی فوجی طاقت کی غیر معمولی علامت کے طور پر دیکھا جانے لگا
ایران کے معاملے میں اس بم کے ممکنہ استعمال پر ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ چٹانوں کی گہرائی میں واقع مضبوط جوہری تنصیبات کو واقعی تباہ کرسکتا ہے،اس کا وسیع دھماکا کھلے یا سطح کے قریب موجود اہداف کے لیے انتہائی تباہ کن ہوسکتا ہے، لیکن گہرائی میں محفوظ تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے اسے مخصوص طور پر تیار کردہ گہرائی میں گھسنے والے بم کا متبادل نہیں سمجھا جاتا،اسی لیے ایران کے خلاف اس کے ممکنہ استعمال سے متعلق منصوبہ بندی کے باوجود یہ واضح نہیں کہ اس سے زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو کس حد تک نقصان پہنچایا جا سکے گا






