ٹیکساس میں سینیٹ کی انتخابی جنگ تیز، جیمز ٹالاریکو کے خلاف اوہائیو میں علاج کی جھوٹی افواہ سے لے کر مذہبی عقائد تک، ہر معاملہ زیر بحث
امریکی ریاست ٹیکساس میں سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کو سی این این کے ایک خصوصی اجلاس میں غیر فیصلہ کن ووٹروں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا،اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیوں، اسقاطِ حمل، بیرونی ممالک کو امریکی امداد اور ان کے مذہبی عقائد پر سوالات کے دوران ٹالاریکو نے خود کو ایک معتدل امیدوار کے طور پر پیش کیا، جو پارٹی وفاداری سے زیادہ ٹیکساس کے شہریوں کی ضروریات کو ترجیح دینے کا دعویٰ کرتا ہے،ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے ساتھ ان کا مقابلہ سخت ہے اور حالیہ انتخابی جائزوں میں ٹالاریکو کو معمولی برتری حاصل دکھائی گئی ہے۔ پیکسٹن نے سی این این کے اس اجلاس میں شرکت کی دعوت قبول نہیں کی
اجلاس میں ایک مذہبی رجحان رکھنے والے چھوٹے کاروباری شخص نے ٹالاریکو کے مسیحی عقیدے پر سوال اٹھایا،اس نے ان کے ماضی کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے خدا کو غیر ثنائی جنس سے تعبیر کیا تھا،ٹالاریکو نے جواب دیا کہ ان کا اندازِ بیان اشتعال انگیز تھا اور وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں،انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اصل مدعا یہ تھا کہ خدا کو انسانی زمروں اور محدود تصورات کے ذریعے متعین نہیں کیا جا سکتا،ان کے مطابق یہ خیال مذہبی اعتبار سے متنازعہ نہیں،انہوں نے آنجہانی چارلی کرک اور سابق پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کے خیالات کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ وہ مسیحیوں کی تنقید اور مشورے سننے کے لیے تیار ہیں
جودی ہنٹ نامی خاتون نے، جو خود کو ایسا ووٹر قرار دیتی ہیں جس کے لیے ایک ہی مسئلہ فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے، اسقاطِ حمل کے بارے میں ٹالاریکو کے مؤقف کو چیلنج کیا،انہوں نے سوال کیا کہ ایک کیتھولک ووٹر کی حیثیت سے انہیں کیسے یقین دلایا جا سکتا ہے کہ ٹالاریکو سب سے بے گناہ انسانوں، یعنی غیر پیدائشی بچوں، کا تحفظ کریں گے،ٹالاریکو نے کہا کہ بائبل میں اسقاطِ حمل کے بارے میں براہِ راست واضح حکم موجود نہیں،اس پر ہنٹ نے بائبل کے حکم ’’قتل نہ کرو‘‘ کا حوالہ دیا
ٹالاریکو نے جواب دیا کہ اس اخلاقی معاملے پر دونوں کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن عوامی پالیسی کا مقصد مشترک ہو سکتا ہے،انہوں نے اسقاطِ حمل کو صحتِ عامہ کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر ارادی حمل میں کمی کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کی جا سکتی ہے،اس گفتگو نے ظاہر کیا کہ انتخابی مہم میں مذہبی عقائد اور خواتین کے تولیدی حقوق جیسے معاملات کس طرح ووٹروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
ٹالاریکو نے اجلاس کے دوران انتہائی دولت مند طبقے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے عام شہریوں کے مشترکہ مفادات کے مقابل ایک طاقتور گروہ کے طور پر پیش کیا،ان کی انتخابی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ خود کو صرف ڈیموکریٹس کا امیدوار نہیں بلکہ ایسے معتدل سیاست دان کے طور پر پیش کریں جو پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر شہریوں کے مسائل حل کرنا چاہتا ہے،ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ ان کی نسبتاً نئی سیاسی شناخت اور عوامی مقبولیت آزاد ووٹروں اور ایسے ریپبلکنز کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت سے ناخوش ہیں یا پیکسٹن کے تنازعات سے بددل ہو چکے ہیں
ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کئی دہائیوں سے امریکی سینیٹ کی نشست نہیں جیت سکے،ریاست میں ان کی آخری کامیابی 1980 کی دہائی کے آخری برسوں میں ہوئی تھی،اس تاریخی پس منظر کے باعث ٹالاریکو کی مہم کو قومی سطح پر بھی اہمیت دی جا رہی ہے،اگر ڈیموکریٹس یہ نشست جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ریاست کی طویل سیاسی روایت میں بڑی تبدیلی ہو گی، تاہم انتخابی جائزوں میں معمولی برتری کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا
ٹالاریکو کی انتخابی مہم کو حالیہ دنوں میں ایک منظم غلط معلومات کی مہم کا بھی سامنا کرنا پڑا، جب وہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک انتخابی سرگرمیوں سے غیر حاضر رہے تو ان کی مہم نے بار بار بتایا کہ وہ فلو کی شدید کیفیت میں مبتلا ہیں،اس کے باوجود قدامت پسند سوشل میڈیا شخصیات نے یہ جھوٹا دعویٰ پھیلایا کہ ٹالاریکو کو اوہائیو کے ایک ذہنی صحت کے مرکز میں علاج کے لیے داخل کیا گیا تھا،اس مرکز کا نام لِنڈنر سینٹر آف ہوپ بتایا گیا
یہ افواہ ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن اور صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی مزید پھیلائی گئی، جس سے ٹالاریکو کی صحت اور عہدے کے لیے موزوئیت کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی،انتخابی مہم میں واپسی کے بعد ٹالاریکو نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی اوہائیو گئے ہی نہیں تھے،ان کی مہم نے ابتدا ہی سے واضح کیا تھا کہ ان کی غیر موجودگی کی وجہ فلو تھا، نہ کہ کسی ذہنی صحت کے مرکز میں علاج
سی این این کے اجلاس میں ٹالاریکو نے غلط معلومات پھیلانے کے اس رجحان کو ’’غصے کی معیشت‘‘ قرار دیا،ان کے مطابق، ’’جھوٹے دعووں کو انٹرنیٹ پر لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا،ارب پتی افراد جو ان پلیٹ فارمز کے مالک ہیں، امیر ہوتے جاتے ہیں، ہم سب غصے میں مبتلا ہوتے ہیں اور کسی کی زندگی بہتر نہیں ہوتی،سازشی نظریات نہ گھر کے لیے کھانا فراہم کرتے ہیں، نہ گاڑی میں ایندھن ڈالتے ہیں اور نہ ہماری برادریوں کو بہتر بناتے ہیں”
دوسری جانب پیکسٹن خود بھی سیاسی تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں،ایک بند کمرے میں ہونے والی ملاقات کی خفیہ آڈیو ریکارڈنگز لیک ہو کر انٹرنیٹ پر سامنے آئی ہیں، جن میں انہیں اپنی ہی جماعت اور واشنگٹن میں موجود اپنی انتخابی مہم کے بعض رہنماؤں پر تنقید کرتے سنا گیا،ان ریکارڈنگز نے ان کی مہم کے اندرونی اختلافات کو بھی نمایاں کیا ہے
پیکسٹن کے سیاسی ماضی میں 2023 کا مواخذہ بھی شامل ہے،ٹیکساس کی ریاستی مقننہ نے ان پر رشوت ستانی اور عوامی اعتماد کے غلط استعمال سمیت الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی کی تھی، تاہم بعد میں انہیں بری کر دیا گیا،اس کے بعد 2025 میں ان کی اہلیہ اینجیلا پیکسٹن نے، جو تقریباً چار دہائیوں سے ان کی شریکِ حیات تھیں، طلاق کی درخواست دائر کی،درخواست میں بے وفائی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’’بائبلی بنیادوں‘‘ پر قائم کیا گیا
ان تنازعات کے باوجود صدر ٹرمپ نے سینیٹ کے انتخاب میں پیکسٹن کی حمایت کی اور موجودہ ریپبلکن سینیٹر جان کورنن کو دوبارہ نامزد کرنے کے بجائے پیکسٹن کی پشت پناہی کا فیصلہ کیا،یوں ٹیکساس کی سینیٹ کی دوڑ صرف دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہیں رہی بلکہ اس میں ٹرمپ کی سیاسی ترجیحات، ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات، ڈیموکریٹس کی ریاست میں واپسی کی کوشش اور غلط معلومات کے انتخابی اثرات بھی شامل ہو گئے ہیں
ٹالاریکو کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ مذہبی اور سماجی معاملات پر اختلاف رکھنے والے ووٹروں کو کس حد تک قائل کر سکتے ہیں، جبکہ پیکسٹن کو اپنے سیاسی تنازعات اور پارٹی کے اندر سامنے آنے والے اختلافات کا سامنا ہے،انتخابی جائزوں میں ٹالاریکو کی معمولی برتری اس مقابلے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، لیکن ٹیکساس کی طویل انتخابی تاریخ کے پیش نظر حتمی فیصلہ ووٹروں ہی کے ہاتھ میں ہو گا





