لاہور کے بعد اب پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق، 51 زخمی، خستہ حال عمارت نے معصوم جانیں نگل لیں
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر سمیت 35 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 51 بچے زخمی ہوگئے۔ جمعرات کی صبح پیش آنے والے اس المناک حادثے نے اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت اور متعلقہ اداروں کی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین منزلہ نجی اسکول کی ایک چھت نیچے واقع کلاس رومز پر آگری، جس سے عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے اور متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والے بچوں کی عمریں کم تھیں اور بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں 6 بچیاں بھی شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق حادثے کے وقت اسکول میں تقریباً 110 بچے موجود تھے۔ ابتدائی معلومات میں عمارت کے ڈھانچے کو کمزور قرار دیا گیا ہے۔ اسکول تنگ گلی میں واقع ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ ریسکیو اہلکاروں، مقامی شہریوں اور دیگر امدادی اداروں نے ملبے سے بچوں کو نکالنے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں حصہ لیا۔
پولیس نے اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق عمارت کی چھتوں کی خستہ حالی اور ممکنہ تعمیراتی خامیوں سمیت حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔ حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
اس سانحے نے ایک بنیادی سوال پھر اٹھا دیا ہے کہ بچوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے اسکولوں کی عمارتوں کا باقاعدہ معائنہ اور حفاظتی معیار پر عمل درآمد کیوں یقینی نہیں بنایا جاتا۔ اگر عمارت کی حالت پہلے سے خراب تھی تو یہ بھی تحقیق کا اہم پہلو ہے کہ متعلقہ حکام نے اس خطرے کی نشاندہی کی تھی یا نہیں اور کسی ممکنہ کارروائی سے گریز کیوں کیا گیا۔
حادثے پر حکومتی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمی بچوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کی جانب اہم قدم ہوگی، کسی اسکول میں عمارت کی خستگی کے باعث کمسن اور معصوم بچوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ،اس سے قبل 30 جون 2026 کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ ایک خاتون ٹیچر سمیت دیگر افراد زخمی ہوئے تھے،ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹیوشن سینٹر ایک خستہ حال رہائشی عمارت میں قائم تھا،اس کے صرف دو روز بعد لاہور ہی کے علاقے باغبان پورہ میں ایک نجی اسکول میں تعمیراتی کام کے دوران چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے،ان مسلسل واقعات نے تعلیمی اداروں اور بچوں کے لیے استعمال ہونے والی عمارتوں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں






