آئی ایم ایف کا انتباہ، خلیجی ممالک کی معیشتیں جنگ سے پہلے کی ترقی کی رفتار پر جلد واپس نہیں آ سکیں گی
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے شروع ہونے والی جنگ اور اس کے خلیجی خطے تک پھیلاؤ کے باعث مشرق وسطیٰ کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تیل کی دولت سے مالا مال ممالک بھی جلد جنگ سے پہلے کی معاشی ترقی کی رفتار بحال نہیں کر سکیں گے
آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے علاقائی ڈائریکٹر جہاد ازعور نے 15 اکتوبر 2026 کو کہا کہ جنگ کے اثرات کئی شعبوں پر دیرپا منفی نشان چھوڑیں گے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان، تجارت اور بحری آمدورفت میں رکاوٹوں اور سلامتی کے نئے تقاضوں کے باعث ان ممالک کو اپنی معیشتیں مضبوط بنانے کے لیے اضافی اخراجات کرنا پڑیں گے
یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران سے شروع ہونے والا تنازع سعودی عرب اور یمن تک پھیل چکا ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے سے توانائی کے مراکز، ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں بحری راستوں میں رکاوٹوں نے تیل اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے
آئی ایم ایف کے تازہ تخمینوں کے مطابق مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی معیشت میں 2026 کے دوران مجموعی طور پر 0.3 فیصد سکڑاؤ متوقع ہے، جبکہ اپریل میں اسی خطے کے لیے 1.9 فیصد ترقی کی پیش گوئی کی گئی تھی یہ تبدیلی جنگ کے معاشی اثرات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے
خلیجی ممالک میں سعودی عرب کی معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ ہے آئی ایم ایف کے مطابق سعودی معیشت 2026 میں 3.3 فیصد سکڑ سکتی ہے یہ ملک طویل عرصے سے تیل کی برآمدات اور توانائی کی آمدنی کے باعث خطے کی مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتا رہا ہے، لیکن جنگ، توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں اور سلامتی کے خدشات نے اس کی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے
بحرین، کویت اور قطر کو بھی بھاری معاشی نقصان کا سامنا ہے تازہ تخمینوں کے مطابق 2026 میں بحرین کی معیشت 11.3 فیصد، کویت کی 16.7 فیصد اور قطر کی 15.6 فیصد سکڑ سکتی ہے قطر کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش خاص طور پر اہم مسئلہ ہے، کیونکہ اس کی گیس اور توانائی کی برآمدات کے لیے اس بحری راستے کی بڑی اہمیت ہے اس کے برعکس عمان کی معیشت کے 4.1 فیصد بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے
متحدہ عرب امارات بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہا۔ دبئی اور ابوظبی کی معیشتوں میں سیاحت، ہوابازی، جائیداد، مالیاتی خدمات اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا بڑا کردار ہے جنگ کے باعث پروازوں، سیاحوں کی آمد اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ان شعبوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اگرچہ تیل کی آمدنی بعض خلیجی ممالک کو سہارا دیتی ہے، لیکن غیر یقینی صورت حال طویل ہونے سے دیگر معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں
آئی ایم ایف کے مطابق جنگ کے اثرات صرف تیل کی پیداوار تک محدود نہیں رہیں گے توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے مرمت اور بحالی پر اضافی رقم خرچ کرنا پڑے گی بحری راستوں میں رکاوٹوں سے نقل و حمل مہنگی ہو سکتی ہے، جبکہ کاروباری اداروں کو بیمہ، سامان کی ترسیل اور سلامتی کے انتظامات پر زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں ان عوامل سے روزگار، سرمایہ کاری اور عوام کی قوت خرید بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے
خلیجی ممالک میں لاکھوں غیر ملکی کارکن روزگار کے لیے مقیم ہیں، جن میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور دیگر جنوبی ایشیائی شہری بڑی تعداد میں شامل ہیں اگر تعمیرات، سیاحت، ہوابازی، تجارت اور دیگر کاروباری شعبوں میں سرگرمیاں کم ہوتی ہیں تو ملازمتوں اور آمدنی پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے اس کے علاوہ خلیجی ممالک سے اپنے آبائی ملکوں کو بھیجی جانے والی رقوم متاثر ہونے کی صورت میں پاکستان سمیت کئی ممالک کے خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
عالمی معیشت کے لیے بھی یہ صورت حال اہم ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز امن کے زمانے میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد کے لیے اہم راستہ ہے اس راستے میں طویل رکاوٹ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں، جس سے ایندھن، بجلی، خوراک اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں اس کا اثر ان ممالک پر بھی پڑے گا جو خلیجی خطے سے تیل درآمد کرتے ہیں
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی معاشی بحالی فوری طور پر ممکن نہیں ہوگی۔ تباہ شدہ تنصیبات کی مرمت، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کو معمول پر لانے میں وقت لگے گا اس لیے محض جنگ بندی سے تمام معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ محفوظ تجارتی راستوں اور توانائی کی مسلسل فراہمی کی بحالی بھی ضروری ہوگی
خلیجی ممالک کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی معیشتوں کو جنگ کے اثرات سے محفوظ بنانے کے ساتھ تیل پر انحصار کم کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھیں آئی ایم ایف کے مطابق خطے کی معیشتیں مستقبل میں دوبارہ ترقی کر سکتی ہیں، لیکن جنگ کے دیرپا اثرات کے باعث انہیں جنگ سے پہلے والی معاشی رفتار پر واپس آنے کے لیے توقع سے زیادہ وقت درکار ہوگا





