کینیڈا میں 30 سال گزارنے والے شپ انجینئر اور اہلیہ کراچی میں قتل، 3 بچے کینیڈا میں مقیم، پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات میں مصروف
کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں کینیڈا سے پاکستان واپس آنے والے معمر میاں بیوی محمد یامین اور ان کی اہلیہ نفیس اختر کی لاشیں 14 اکتوبر کو ان کے گھر سے برآمد ہوئیں واقعے کی خبر 15 اکتوبر کو سامنے آئی ابتدائی اطلاعات میں دونوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں پولیس نے بتایا کہ جسموں پر تیز دھار ہتھیار کے زخموں کی واضح علامات نہیں ملیں اموات کی اصل وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے
جاں بحق ہونے والے محمد یامین کی عمر تقریباً 70 سال جبکہ ان کی اہلیہ نفیس اختر کی عمر 65 سال بتائی گئی ہے دونوں کی لاشیں سرسید ٹاؤن تھانے کی حدود میں بی اماں پارک کے قریب سیکٹر 11-C میں واقع ان کے مکان سے ملیں اطلاع ملنے پر پولیس افسران اور کرائم سین یونٹ نے موقع پر پہنچ کر شواہد جمع کیے اور لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا
اہل خانہ کے بیان کے مطابق محمد یامین 1996 میں کینیڈا منتقل ہوئے تھے، جہاں انہوں نے شپ انجینئر کے طور پر کام کیا انہوں نے اپنی زندگی کا تقریباً 30 سالہ عرصہ کینیڈا میں گزارا پولیس حکام کے مطابق ان کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی کینیڈا میں مقیم ہیں تاہم ان کے بچوں کے نام، کینیڈا کے شہر اور پیشوں کے بارے میں قابل اعتماد عوامی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں
اطلاعات کے مطابق میاں بیوی تقریباً 15 دن سے 1 ماہ قبل پاکستان واپس آئے تھے ان کی واپسی کا مقصد اپنے ذاتی مکان کی مرمت اور تزئین و آرائش کروانا بتایا گیا ہے پولیس کے مطابق مکان ان کی ملکیت تھا اور اس کے گراؤنڈ فلور پر 2 دکانیں بھی موجود تھیں، جو ابتدائی اطلاعات کے مطابق خالی تھیں
ایک اور رپورٹ کے مطابق جوڑے کے ایک قریبی رشتہ دار نے ان سے رابطہ نہ ہونے پر گھر جا کر دروازہ کھولا، جہاں دونوں کی لاشیں ملیں اس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی گھر میں مرمت کا کام جاری تھا اور مزدوروں کی آمدورفت بھی تھی، جس کے باعث پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں ڈکیتی یا لوٹ مار کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔ بعد کی اطلاعات میں بتایا گیا کہ لاشوں کے ابتدائی معائنے میں تیز دھار ہتھیار کے زخم نہیں ملے، جبکہ خون بہنے اور ممکنہ زہر دیے جانے سمیت مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے حکام نے واضح کیا ہے کہ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک شواہد کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی
رپورٹس کے مطابق میاں بیوی مکان فروخت کرکے دوبارہ کینیڈا جانے اور اپنے بچوں کے ساتھ رہنے کا ارادہ رکھتے تھے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے مکان فروخت کرنے کے لیے باقاعدہ معاہدہ کیا تھا یا نہیں
واقعے کے بعد سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے پولیس سے تفصیلات طلب کیں، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی پولیس گھر میں مرمت کے لیے آنے والے افراد، علاقے میں نصب نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہی ہے
محمد یامین کا کینیڈا میں طویل قیام اور ان کے بچوں کی وہاں موجودگی اس واقعے کو کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی تشویش کا باعث بناتی ہے تاہم اب تک دستیاب معلومات میں کینیڈا میں ان کی ملازمت، شہریت یا مستقل رہائش کی قانونی حیثیت، اور کسی ممکنہ تنازعے کے بارے میں تصدیق شدہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں قتل کے محرکات اور ذمہ داروں کا تعین پولیس کی جاری تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا





