غریب امریکیوں کے لیے غذائی امداد بھی محفوظ نہیں، فراڈ کرنے والے گروہ کروڑوں ڈالر ہڑپ کر گئے
امریکہ میں کم آمدنی والے خاندانوں کو خوراک خریدنے کے لیے دی جانے والی سرکاری امداد منظم جرائم پیشہ گروہوں کے نشانے پر ہے،پرانے اور کمزور حفاظتی نظام کے باعث مستحق افراد کے امدادی کارڈز سے رقم چوری کی جا رہی ہے، جبکہ اس نظام کو جدید بنانے کے لیے درکار اخراجات ریاستی حکومتوں کے لیے ایک اضافی مالی بوجھ بنتے جا رہے ہیں
انڈیانا کی 20 سالہ اکیلی ماں جے لیونا لیوس کو ستمبر میں اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے غذائی امدادی اکاؤنٹ سے رقم غائب ہو چکی ہے،وہ اپنی 3 سالہ بیٹی کی خوراک کے لیے اسی رقم پر انحصار کرتی تھیں،ان کے مطابق ہر ماہ کی 13 تاریخ کو ان کے اکاؤنٹ میں 486 ڈالر جمع ہوتے ہیں، لیکن ستمبر میں رقم منتقل ہونے کے چند ہی منٹ بعد پوری رقم غائب ہو گئی
لیوس نے کہا کہ یہ جان کر ان کا دل ٹوٹ گیا کیونکہ اسی رقم سے وہ اپنی بیٹی کو کھانا کھلاتی ہیں
امریکہ میں غذائی امداد کے اس پروگرام کو سپلیمینٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام، یعنی اسنیپ (SNAP)، کہا جاتا ہے،اس کے تحت اہل کم آمدنی والے افراد اور خاندانوں کو خوراک خریدنے کے لیے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے
سائبر سکیورٹی کے ماہرین کے مطابق اس قسم کی چوری کا ایک ممکنہ طریقہ کارڈ اسکیمنگ ہے، جس میں جرائم پیشہ افراد ادائیگی کے آلات سے کارڈ کی معلومات حاصل کرکے متاثرہ شخص کے اکاؤنٹ سے رقم نکال لیتے ہیں،لیوس کو یقین سے معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ بھی یہی طریقہ استعمال ہوا، تاہم ان کا واقعہ اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے
امریکی غذائی امدادی پروگرام کے پرانے حفاظتی نظام اور محدود تکنیکی سہولتوں نے جرائم پیشہ گروہوں کے لیے مستحق افراد کی امداد چرانے کے مواقع پیدا کیے ہیں،دوسری جانب، حفاظتی ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے لیے مالی وسائل درکار ہیں، جبکہ ریاستی حکومتوں کے غذائی امدادی بجٹ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، بتایا جاتا ہے گزشتہ دو سال میں ایسے فراڈ کے ذریعے دو سو تئیس ملین ڈالر فوڈ اسٹیمپ کارڈز سے چوری کیے جاچکے ہیں
اس صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان ان غریب خاندانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو پہلے ہی محدود آمدنی میں اپنے بچوں کے لیے خوراک کا انتظام کرتے ہیں،ان کے لیے امدادی رقم کی چوری محض مالی نقصان نہیں بلکہ روزمرہ کی خوراک اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کا مسئلہ بن جاتی ہے






