ایشیا میں بوڑھی ہوتی آبادی اور کارکنوں کی کمی کا حل مصنوعی ذہانت میں پوشیدہ ہے، آئی ایم ایف
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق مصنوعی ذہانت ایشیا میں عمر رسیدہ آبادی اور کام کرنے والے افراد کی کم ہوتی تعداد سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ادارے کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو کارکنوں کی کمی کے باوجود پیداوار اور معاشی ترقی میں اضافہ ممکن ہے تاہم اس ٹیکنالوجی کے فوائد تمام ممالک تک یکساں طور پر نہ پہنچے تو ایشیا کے امیر اور غریب ممالک کے درمیان معاشی فرق مزید بڑھ سکتا ہے
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے 12 اکتوبر 2026 کو تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں ایشیا کے معاشی چیلنجز اور مواقع سے متعلق ایک نئی کتاب کے اجرا کے موقع پر کہا کہ خطے کو 3 بڑی تبدیلیوں کا سامنا ہے ان میں آبادی کی عمر میں اضافہ، ممالک کے درمیان معاشی تعاون اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجی شامل ہیں ان کے مطابق ایشیا کی مستقبل کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ممالک ان تبدیلیوں سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں
رپورٹ کے مطابق چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں 2050 تک کام کرنے والی آبادی تقریباً 25 فیصد تک کم ہو سکتی ہے ان ممالک میں شرح پیدائش میں کمی اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے کے باعث مستقبل میں کارخانوں، دفاتر، اسپتالوں اور دیگر شعبوں کے لیے کارکنوں کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے
آبادی میں اس تبدیلی کے معاشی اثرات کئی صورتوں میں سامنے آ سکتے ہیں جب کام کرنے والے افراد کی تعداد کم ہوتی ہے تو کاروباری اداروں کو ملازمین کی بھرتی میں مشکلات پیش آتی ہیں، پیداوار کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور حکومتوں پر پنشن، صحت کی سہولتوں اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافے کا دباؤ پڑتا ہے اگر معیشت کی پیداوار میں اضافہ نہ ہو تو کارکنوں کی کمی مجموعی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کر سکتی ہے
کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق جدید ایشیائی معیشتوں میں مصنوعی ذہانت معاشی ترقی کی سالانہ شرح میں تقریباً 0.5 سے 1 فیصد پوائنٹ تک اضافہ کر سکتی ہے اگر ممالک اس ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی اضافی پیداوار کو مؤثر طور پر استعمال کریں تو اس سے عمر رسیدہ آبادی کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کی تلافی ممکن ہو سکتی ہے
مصنوعی ذہانت کے ذریعے کاروباری ادارے ایسے کام خودکار بنا سکتے ہیں جن کے لیے پہلے بڑی تعداد میں ملازمین درکار ہوتے تھے مثال کے طور پر کارخانوں میں مشینوں کی نگرانی، سامان کی تیاری، گوداموں میں اشیا کی ترتیب، دفتری حساب کتاب اور صارفین کی درخواستوں کو نمٹانے کے عمل میں مصنوعی ذہانت مدد دے سکتی ہے اس سے کم کارکنوں کی مدد سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں
جاپان اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں عمر رسیدہ آبادی اور کارکنوں کی کمی پہلے ہی معیشت کے لیے اہم چیلنج ہیں جاپان کے ساتھ چین اور جنوبی کوریا کو بھی آئندہ برسوں میں کام کرنے والے افراد کی تعداد میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے ان ممالک میں خودکار مشینوں اور مصنوعی ذہانت کا استعمال پیداوار برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور کارکنوں کی تربیت ضروری ہوگی
آئی ایم ایف کے ایشیا اور بحرالکاہل کے شعبے کے ڈائریکٹر کرشنا سرینواسن نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سے تمام ایشیائی ممالک یکساں طور پر مستفید نہیں ہوں گے۔ ترقی یافتہ معیشتوں کے پاس جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ، تربیت یافتہ افراد اور مضبوط ڈیجیٹل نظام موجود ہیں، اس لیے وہ اس سے جلد فائدہ اٹھا سکتی ہیں اس کے برعکس ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکنالوجی خریدنا، بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانا اور کارکنوں کو نئی مہارتیں سکھانا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے
ان کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کارکنوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے یا ان کی ملازمتوں کی جگہ لے لیتی ہے اگر یہ ٹیکنالوجی ملازمین کو زیادہ تیزی اور مؤثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دے تو اس سے پیداوار اور آمدنی بڑھ سکتی ہے لیکن اگر ادارے بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم کرکے خودکار نظام اپنا لیں تو کارکنوں کی آمدنی اور روزگار کے مواقع متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے
آئی ایم ایف کے مطابق تعلیم، ہنر اور پیداوار میں اضافے کے لیے اصلاحات کرنے سے ترقی پذیر ممالک مصنوعی ذہانت کو توقع سے 10 سال یا اس سے بھی زیادہ پہلے اپنا سکتے ہیں اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل تعلیم، فنی تربیت، جدید کاروباری نظام اور تحقیق پر سرمایہ کاری اہم ہوگی کارکنوں کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرنے کی تربیت دینا بھی ضروری ہے تاکہ وہ بدلتی ہوئی معیشت میں اپنے لیے نئے مواقع پیدا کر سکیں
ایشیا کی معاشی ترقی کے لیے آئی ایم ایف نے علاقائی تجارت بڑھانے پر بھی زور دیا ہے کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق خطے کے ممالک کے درمیان تجارتی معاہدوں کو مزید مضبوط بنانے اور غیر ضروری تجارتی رکاوٹیں کم کرنے سے طویل مدت میں ایشیا کی مجموعی قومی پیداوار تقریباً 1.8 فیصد بڑھ سکتی ہے اس سے کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں تک رسائی ملے گی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مختلف ممالک کے درمیان پیداوار اور تجارت کے روابط مضبوط ہوں گے
اس پیش رفت کے باوجود مصنوعی ذہانت کو عمر رسیدہ آبادی کے مسئلے کا مکمل حل قرار نہیں دیا جا سکتا بزرگ افراد کی دیکھ بھال، صحت کے اخراجات، پنشن کے نظام اور کارکنوں کی کمی جیسے مسائل کے لیے حکومتوں کو الگ اقدامات بھی کرنا ہوں گے اسی طرح یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ نئی ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے فوائد صرف بڑی کمپنیوں اور زیادہ آمدنی والے افراد تک محدود نہ رہیں
مجموعی طور پر آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت ایشیا کی معیشتوں کو آبادی میں تبدیلی کے باوجود ترقی جاری رکھنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے لیکن اس کامیابی کا انحصار صرف جدید مشینیں اور کمپیوٹر نظام نصب کرنے پر نہیں ہوگا تعلیم، تربیت، سرمایہ کاری، علاقائی تعاون اور روزگار کے تحفظ کے لیے مؤثر پالیسیاں بھی ضروری ہوں گی اگر ان پہلوؤں پر توجہ دی جائے تو مصنوعی ذہانت کارکنوں کی کمی کے اثرات کم کرنے اور ایشیا کی طویل مدتی معاشی ترقی کو سہارا دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے






