مصنوعی ذہانت مستقبل کی پیش گوئی میں ماہرین کو پیچھے چھوڑنے لگی، کاروبار اور مالیاتی منڈیوں میں بڑی تبدیلی کا امکان
مصنوعی ذہانت کے ذریعے مستقبل کے ممکنہ حالات کی پیش گوئی کرنے والی نئی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ نظام بعض معاملات میں انسانی ماہرین کی سطح تک پہنچ چکے ہیں اور مستقبل میں ان سے بہتر کارکردگی بھی دکھا سکتے ہیں حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی جنگوں کے معاشی اثرات، تیل کی قیمتوں اور موسیقی کی مقبولیت جیسے مختلف موضوعات پر پیش گوئی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے
مستقبل کے حالات کا اندازہ لگانے والی کمپنی فیوچر سرچ کے شریک بانی ڈین شوارٹز کے مطابق 2030 تک انسانوں کے فیصلے کرنے کا موجودہ طریقہ بہت پرانا محسوس ہونے لگے گا ان کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں دستیاب معلومات کا تجزیہ کرکے ایسے اندازے لگا سکتی ہے جن کے لیے انسانی ماہرین کو طویل وقت درکار ہوتا ہے
مصنوعی ذہانت کے یہ نظام صرف عام معلومات کی بنیاد پر اندازے نہیں لگاتے بلکہ سرکاری اور نجی ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار، مختلف واقعات کے باہمی تعلق اور سابقہ نتائج کو بھی مدنظر رکھتے ہیں اس شعبے میں ایسے انسانی ماہرین کو سپر فورکاسٹرز کہا جاتا ہے جو مستقبل کے واقعات کے بارے میں عام افراد کے مقابلے میں زیادہ درست اندازے لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے بعض نظام اب ان ماہرین کی کارکردگی کے برابر پہنچ رہے ہیں
ستمبر 2026 کے آغاز میں میٹاکیولس کپ نامی مقابلے میں مصنوعی ذہانت کے 2 نظاموں نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی 2 پوزیشنیں حاصل کیں اس مقابلے میں انسانوں اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی پیش گوئیوں کا موازنہ کیا جاتا ہے اس کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پیچیدہ سوالات پر امکانات کا اندازہ لگانے میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے
اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ مستقبل کے کسی واقعے کے رونما ہونے کے امکان کو فیصد کی صورت میں ظاہر کیا جائے مثال کے طور پر اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورت حال تبدیل ہوتی ہے تو اس کے تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور مالیاتی منڈیوں پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں مصنوعی ذہانت ان واقعات کے درمیان تعلق کا جائزہ لے کر مختلف ممکنہ نتائج پیش کر سکتی ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ نظام مستقبل کے بارے میں یقینی فیصلہ سنا سکتا ہے
اس ٹیکنالوجی کے مالیاتی منڈیوں میں استعمال نے سرمایہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ وال اسٹریٹ میں کمپیوٹر پروگراموں کے ذریعے خرید و فروخت کے فیصلے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کیے جا رہے ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت ان فیصلوں کو مزید خودکار بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے سرمایہ کاری کے بڑے ادارے، خصوصاً ہیج فنڈز، ایسے نظاموں میں دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ وہ تیزی سے معلومات کا تجزیہ کرکے ممکنہ منافع کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں
پری سین نامی کمپنی کے شریک بانی وینیامین ویسلوفسکی کے مطابق کمپنی کے شریک بانی تھیو سمر نے امریکی پیش گوئی کے پلیٹ فارم کالشی پر مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرتے ہوئے 7 ماہ میں 35 ڈالر کو 19 لاکھ ڈالر تک پہنچایا یہ ایک غیر معمولی مثال ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ عام سرمایہ کار بھی اسی طرح منافع حاصل کر سکتے ہیں یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے سرمایہ کاری میں نقصان کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے
کالشی اور پولی مارکیٹ جیسے پلیٹ فارموں پر صارفین مختلف واقعات کے ممکنہ نتائج پر مالی شرطیں لگاتے یا ان کے امکانات کی بنیاد پر لین دین کرتے ہیں ان پلیٹ فارموں پر مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے سے یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ مہنگے اور طاقتور نظاموں تک رسائی رکھنے والے ادارے عام سرمایہ کاروں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ویسلوفسکی کے مطابق مستقبل میں ایسے پلیٹ فارموں پر مصنوعی ذہانت کے نظاموں کا غلبہ بڑھ سکتا ہے، جس سے محدود وسائل رکھنے والے افراد کے لیے منافع کمانا مشکل ہو سکتا ہے
اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ حکومتوں، بڑی کمپنیوں، سائنسی تحقیق اور انشورنس کے شعبوں میں بھی اس کے امکانات بڑھ رہے ہیں مثال کے طور پر کوئی کمپنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے یہ اندازہ لگا سکتی ہے کہ مستقبل میں اس کے شعبے سے متعلق قوانین میں کیا تبدیلیاں آ سکتی ہیں اور ان تبدیلیوں سے کاروبار پر کیا اثر پڑے گا۔ اسی طرح حکومتیں پالیسی سازی کے دوران مختلف ممکنہ حالات اور ان کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے ایسے نظام استعمال کر سکتی ہیں
منٹک نامی ایک اور کمپنی کے شریک بانی ٹوبی شیولین کے مطابق ان کے بعض صارفین کاروباری اور مالیاتی فیصلے کرتے وقت مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی پیش گوئیوں کو پہلے ہی استعمال کر رہے ہیں کمپنی ایک بڑی امریکی فرم کو اس کے شعبے میں ممکنہ قانونی اور ضابطہ جاتی تبدیلیوں کے مختلف منظرنامے فراہم کر چکی ہے اور برطانوی حکومت کے ساتھ بھی کام کر چکی ہے
طبی تحقیق میں بھی یہ ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے محققین مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ کن بیماریوں کے علاج پر تحقیق کے لیے وسائل خرچ کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے اس طرح محدود مالی وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے تاہم طبی فیصلوں میں ان پیش گوئیوں کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے سائنسی شواہد اور ماہرین کی رائے کے ساتھ جانچنا ضروری ہوگا
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اگر بڑی طاقتوں کے پاس مستقبل کے حالات کا اندازہ لگانے والے زیادہ جدید نظام ہوں تو انہیں عالمی معیشت، سلامتی اور سیاسی حالات کے بارے میں فیصلہ سازی میں برتری حاصل ہو سکتی ہے ویسلوفسکی نے خدشہ ظاہر کیا کہ روس یا چین کے پاس اگر زیادہ طاقتور نظام موجود ہوئے تو اس کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
ماہرین کے سامنے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی پیش گوئیوں پر کتنا اعتماد کیا جا سکتا ہے یہ نظام دستیاب معلومات اور ان کے درمیان تعلقات کی بنیاد پر امکانات کا اندازہ لگاتے ہیں، لیکن اچانک رونما ہونے والے واقعات، نامکمل معلومات اور انسانی فیصلے نتائج کو تبدیل کر سکتے ہیں اس لیے ان کی پیش گوئیوں کو یقینی مستقبل کے بجائے ممکنہ حالات کا اندازہ سمجھنا زیادہ درست ہے
مصنوعی ذہانت کے ذریعے مستقبل کا اندازہ لگانے کی ٹیکنالوجی کاروبار، حکومتوں اور مالیاتی منڈیوں میں فیصلہ سازی کے طریقوں کو تبدیل کر سکتی ہے اس کے ساتھ یہ چیلنج بھی بڑھ رہا ہے کہ جدید نظاموں تک رسائی چند بڑے اداروں تک محدود نہ رہے اور ان کی پیش گوئیوں کو جانچنے کے مؤثر طریقے موجود ہوں آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کا انحصار صرف پیش گوئیوں کی رفتار پر نہیں بلکہ ان کی درستگی، شفافیت اور عملی افادیت پر بھی ہوگا





