نانا پاٹیکر :ایک ایک کر کے وہ آوازیں خاموش ہو رہی ہیں، جو کردار ادا نہیں جیا کیا کرتے تھے ، ہندوستانی سنیما نے صرف ایک اداکار نہیں کھویا
رپورٹ:آفاق فاروقی
ممبئی: ممبئی کی فلمی دنیا میں آج ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جسے کسی نئی فلم، کسی نئے ستارے یا کسی بڑے باکس آفس سے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا،نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے،ان کی موت اگرچہ اس عمر میں غیر متوقع عمر کا سانحہ نہیں کہی جا سکتی، لیکن ان کا جانا اس لیے گہرا صدمہ ہے کہ ہندوستانی سنیما کی ایک ایسی نسل مسلسل ختم ہوتی جا رہی ہے جس کے اداکار صرف مشہور نہیں تھے بلکہ اپنے تجربے، مشاہدے، آواز، شخصیت اور فکری گہرائی سے پورے معاشرے کی یادداشت کا حصہ بن گئے تھے
نانا پاٹیکر کی کہانی دراصل فلموں سے پہلے شروع ہوتی ہے،یکم جنوری 1951 کو وشواناتھ پاٹیکر کے نام سے پیدا ہونے والے نانا نے مہاراشٹر کے ساحلی علاقے مروڈ میں بچپن گزارا،ان کے والد کپڑے پر مصوری کا کام کرتے اور چھوٹا کاروبار چلاتے تھے، مگر جب کاروبار تباہ ہوا تو خاندان کی مالی حالت اچانک بدل گئی،نانا اس وقت نویں جماعت میں تھے،صرف 13 برس کی عمر میں انہیں اسکول کے بعد فلموں کے پوسٹر پینٹ کرکے گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانا پڑا،ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس کام کے بدلے انہیں ماہانہ صرف 35 روپے اور ایک وقت کا کھانا ملتا تھا
شاید یہی وہ زندگی تھی جس نے بعد میں نانا پاٹیکر کو دوسرے اداکاروں سے الگ کیا،انہوں نے خود کہا تھا کہ بھوک، غربت اور ذلت نے انہیں وہ کچھ سکھایا جو کسی اداکاری کے اسکول سے نہیں سیکھا جا سکتا تھا،ان کی اداکاری میں اسی لیے مصنوعی پن کم اور زندگی کی تلخی، غصہ، بے بسی، مزاح اور انسان کی اندرونی کشمکش زیادہ دکھائی دیتی تھی،ان کے کردار ادا کیے ہوئے محسوس نہیں ہوتے تھے، جئے ہوئے محسوس ہوتے تھے
ان کی باقاعدہ تعلیم سِر جے جے اسکول آف آرٹ سے ہوئی جہاں انہوں نے فنون اور تجارتی مصوری کی تعلیم حاصل کی،لیکن ان کی اصل تربیت تھیٹر اور زندگی نے کی،اسکول کے زمانے ہی سے وہ مقامی تھیٹر میں کام کرنے لگے تھے،بعد میں اشتہاری ادارے میں بھی کام کیا، مگر اسٹیج سے تعلق ختم نہیں کیا،یہی تھیٹر ان کے فن کی وہ بنیاد بنا جس پر بعد میں ہندی اور مراٹھی سنیما میں ان کی منفرد شناخت قائم ہوئی
نانا پاٹیکر کے بارے میں سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ شہرت نے ان کی زندگی کا بنیادی مزاج نہیں بدلا،بالی ووڈ میں کروڑوں کمانے والے اداکار کے لیے دولت، مہنگی گاڑیاں، بڑے گھر اور آسائشیں کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہیں، مگر نانا اس دوڑ سے بڑی حد تک باہر رہے،انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی ضروریات محدود ہیں اور اگر ایک کروڑ روپے گاڑی پر خرچ کرنے کے بجائے کسی کسان کے چہرے پر مسکراہٹ لائی جا سکتی ہے تو وہ زیادہ اہم ہے
یہ محض الفاظ نہیں تھے،2015 میں انہوں نے مراٹھی اداکار مکرند اناسپورے کے ساتھ نام فاؤنڈیشن قائم کی، جس کا مقصد خشک سالی سے متاثرہ کسانوں اور دیہی خاندانوں کی مدد، پانی کے وسائل کی بحالی اور دیہات میں دوبارہ زندگی پیدا کرنا تھا؟اس کام کے پیچھے کسی فلمی تشہیر کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کا ذاتی تجربہ تھا جس نے غربت کو دور سے نہیں بلکہ اپنے گھر میں دیکھا تھا
شاید اسی لیے نانا پاٹیکر کو صرف ایک ’’سادہ زندگی گزارنے والا اداکار‘‘ کہنا بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی،ان کی سادگی دراصل ایک سوچ کا نتیجہ تھی،انہوں نے فلمی شہرت کو زندگی کا آخری مقصد نہیں بنایا،وہ کھیتی باڑی کرتے تھے، اپنے فارم ہاؤس پر عام زندگی گزارتے تھے اور کسانوں کے مسائل سے جڑے رہے،ان کے لیے کیمرے کے سامنے اداکاری اور کیمرے سے باہر انسان ہونا دو الگ چیزیں نہیں تھیں
موت کے بارے میں بھی ان کا رویہ غیر معمولی طور پر حقیقت پسندانہ تھا،ایک پرانے انٹرویو میں انہوں نے اپنی آخری رسومات کے لیے لکڑی تک کا ذکر مزاحیہ انداز میں کیا تھا،ان کے لیے موت زندگی کا ایسا موضوع نہیں تھی جس سے بھاگا جائے بلکہ ایک ایسی حقیقت تھی جسے قبول کرکے زندگی کو زیادہ معنی خیز بنایا جا سکتا ہے
اسی لیے نانا پاٹیکر کے انتقال کا غم صرف ایک اداکار کی موت کا غم نہیں،یہ اس سوال کا غم بھی ہے کہ کیا موجودہ ہندوستانی سنیما میں ایسے کردار، ایسی آوازیں اور ایسے انسان دوبارہ پیدا ہوں گے؟
اس سے پہلے امریش پوری چلے گئے، جن کی آواز اور شخصیت نے ولن کے تصور کو ہی بدل دیا،اوم پوری چلے گئے، جنہوں نے آرٹ سنیما کو عالمی سطح تک پہنچایا اور عام آدمی کے دکھ کو پردے پر غیر معمولی وقار دیا،قادر خان چلے گئے، جو صرف اداکار نہیں بلکہ ہندوستانی فلمی مکالمے کے بڑے معماروں میں سے تھے،دلیپ کمار، دھرمیندر ،امریش پوری، اوم پوری، قادر خان سے اب نانا پاٹیکر کی رخصتی تک کو اگر صرف الگ الگ اموات سمجھا جائے تو شاید اس نقصان کی اصل نوعیت سامنے نہ آ سکے
یہ دراصل ایک ایسی فلمی نسل کا بتدریج رخصت ہونا ہے جس نے غربت، تھیٹر، ادب، سیاست، سماج اور حقیقی زندگی کو قریب سے دیکھا تھا،ان لوگوں کے پاس صرف اداکاری کی تکنیک نہیں تھی، ان کے پاس زندگی کا تجربہ تھا،اسی تجربے نے ان کے چہروں کو کردار دیا، ان کی آواز کو وزن دیا اور ان کے چند جملوں کو کئی نسلوں کی یادداشت بنا دیا
نانا پاٹیکر کا سب سے بڑا سرمایہ شاید یہی تھا کہ وہ خود کو اسٹار بنائے رکھنے کے بجائے کردار کو بڑا بناتے تھے،کبھی ’’پریندا‘‘ کا تلخ اور خوفناک کردار، کبھی ’’کرانتی ویر‘‘ کا بے چین اور جذباتی انسان، کبھی ’’خاموشی‘‘ کی اندرونی دنیا اور پھر ’’ویلکم‘‘ کا اودے شیٹی، ان کے اندر موجود اداکار ہر بار ایک مختلف شکل میں سامنے آیا،ان کی شدت اتنی ہی حقیقی تھی جتنی ان کی مزاحیہ اداکاری بے ساختہ تھی
اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج ان کے جانے کے بعد لوگ صرف ان کی فلمیں یاد نہیں کر رہے بلکہ ان کا لہجہ، ان کی گفتگو، ان کی بے ساختگی اور وہ چہرہ یاد کر رہے ہیں جس پر مصنوعی مسکراہٹ کے بجائے زندگی کی پوری کہانی لکھی ہوئی دکھائی دیتی تھی
نانا پاٹیکر کی آخری فلموں میں سے ایک ’’شکتی شالنی‘‘ ہے، جس کی شوٹنگ وہ مکمل کر چکے تھے۔ یہ فلم 24 دسمبر 2026 کو ریلیز ہونے والی ہے اور اب اس میں ان کی موجودگی ایک فلمی کردار سے بڑھ کر ایک آخری یاد بن جائے گی،ان کے کئی دوسرے مکمل یا تقریباً مکمل منصوبے بھی آنے والے عرصے میں ناظرین تک پہنچ سکتے ہیں
لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ نانا پاٹیکر کی آخری فلم کون سی ہوگی،اصل سوال یہ ہے کہ ان کے بعد ہندوستانی سنیما میں وہ جگہ کون پُر کرے گا جہاں ایک ایسا اداکار موجود تھا جو غربت کو جانتا تھا، تھیٹر سے نکلا تھا، فنون کی تعلیم حاصل کی تھی، شہرت کے باوجود سادگی میں رہا، کسان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اور موت کو بھی زندگی کی طرح بے تکلفی سے دیکھنے کی کوشش کی
بڑے فنکار مرتے ہیں تو صرف ایک شخص نہیں مرتا،اس کے ساتھ ایک مخصوص زمانے کی زبان، لہجہ، تجربہ اور سوچ بھی آہستہ آہستہ دنیا سے رخصت ہونے لگتی ہے،نانا پاٹیکر کا جانا اسی خاموش ہوتی ہوئی دنیا کی ایک اور بڑی آواز کا خاموش ہو جانا ہے
اور شاید آنے والی نسلیں ان کے بارے میں یہی کہیں گی کہ اداکار تو بہت تھے، مگر نانا پاٹیکر جیسے انسان دوبارہ پیدا ہونا آسان نہیں






