Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت کے ووٹ پر امریکی میڈیا کی یلغار، پاکستان کے لانگ مارچ پر خاموشی کیوں؟ امریکی صحافت کی ترجیحات نے نئی بحث کو جنم دیدیا

بھارت کے ووٹ پر امریکی میڈیا کی یلغار، پاکستان کے لانگ مارچ پر خاموشی کیوں؟ امریکی صحافت کی ترجیحات نے نئی بحث کو جنم دیدیا

بھارت میں ووٹر فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی کے خلاف احتجاج نے امریکی میڈیا میں نمایاں جگہ بنا لی ہے،نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل، سی این این سمیت امریکی میڈیا میں بھارت کے انتخابی بحران، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے، راہول گاندھی کی پولیس حراست اور انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام نکالے جانے پر مسلسل رپورٹنگ سامنے آ رہی ہے،وال اسٹریٹ جرنل نے اس معاملے کو انتخابی سالمیت اور ووٹ کے حق سے جوڑتے ہوئے بتایا کہ کروڑوں نام فہرستوں سے خارج کیے گئے ہیں اور ناقدین کے مطابق اس عمل سے حقیقی ووٹر بھی متاثر ہو سکتے ہیں
واشنگٹن پوسٹ نے بھی گزشتہ چند دنوں میں بھارت کے احتجاج کو مسلسل کوریج دی ہے،اس کی 8 اکتوبر کی رپورٹ میں بنگلورو کے احتجاج، راہول گاندھی کی پولیس حراست اور چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے مطالبے کو نمایاں کیا گیا، جبکہ اخبار نے بتایا کہ خصوصی انتخابی نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زیادہ نام نکالے جا چکے ہیں اور لاکھوں افراد نے ان اخراج کے خلاف اپیلیں کی ہیں
اسی دوران پاکستان میں خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف بڑھنے والا سیاسی لانگ مارچ ایک ایسے بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے جس میں بیک وقت سیاست، صوبائی خودمختاری، ریاستی طاقت، دہشت گردی، معیشت اور پاکستان کی فوجی سیاست کا سوال شامل ہے
عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا مارچ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا ہے،مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، حکومت نے اسلام آباد کے راستے کنٹینروں سے بند کر دیے ہیں اور وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ مظاہرین کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کرے گی
فارن پالیسی نے 7 اکتوبر کو اس بحران کو معمول کے سیاسی احتجاج سے کہیں زیادہ سنگین قرار دیا،جنوبی ایشیا کے ماہر مائیکل کوگل مین نے لکھا کہ عمران خان کے حامیوں کا اسلام آباد کی طرف مارچ حکومت کے لیے حالیہ مہینوں کے سب سے سنگین سیاسی چیلنجز میں شامل ہے،ان کے مطابق حکومت کے سامنے سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ اگر مظاہرین اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو طاقت استعمال کرنے کی صورت میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہوسکتا ہے
فارن پالیسی کی رپورٹ میں پاکستان کے موجودہ بحران کو محض عمران خان بمقابلہ حکومت کے طور پر نہیں دیکھا گیا،اس میں توانائی کی قلت، بھارت کے ساتھ کشیدہ سرحد، افغانستان کے ساتھ تنازعہ اور ایران کی جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی اسی پس منظر کا حصہ قرار دیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق پاکستان کی حکومت اس وقت خاص طور پر یہ نہیں چاہتی کہ اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ایسا تصادم ہو جس کا اثر پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ پر پڑے
یہاں سے امریکی میڈیا کی ترجیحات کا سوال پیدا ہوتا ہے
بھارت میں انتخابی فہرستوں کے خلاف احتجاج، جس میں اپوزیشن الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کر رہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن اور بھارتی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں، امریکی میڈیا کے لیے جمہوری اداروں، ووٹ کے حق اور انتخابی شفافیت کی بڑی کہانی بن چکا ہے
پاکستان میں دوسری طرف ایک سابق وزیراعظم، جو اب بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی طاقتوں میں سے ایک کے طور پر موجود ہیں، تین سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں،ان کی جماعت کی حکومت خیبر پختونخوا میں قائم ہے، اسی صوبے سے ہزاروں حامی وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کر رہے ہیں، حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور ریاست پہلے ہی یہ اعلان کر چکی ہے کہ اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کو روکا جائے گا،فارن پالیسی نے خود اس صورتحال کو ریاست اور خاص طور پر طاقتور فوجی ادارے کے درمیان ایک سنگین تصادم کے طور پر بیان کیا ہے
یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں افغانستان، ایران، سعودی عرب اور بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات براہ راست امریکی اسٹریٹیجک مفادات سے جڑے ہوئے ہیں،فارن پالیسی نے اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدے کے تحت حوثی حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کی مدد کے لیے فوجی دستے اور صلاحیتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے
یعنی پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسلام آباد خود مشرق وسطیٰ، ایران، سعودی عرب اور افغانستان کے درمیان بدلتے ہوئے طاقت کے توازن میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے
اسی لیے پاکستان میں بعض سیاسی مبصرین اور ناقدین ایک بنیادی سوال اٹھا رہے ہیں،کیا عالمی طاقتوں کے لیے پاکستان کی جمہوری سیاست کی اہمیت اس وقت کم ہوجاتی ہے جب ملک کی فوجی اور جغرافیائی اہمیت زیادہ ہوجاتی ہے؟
یہ سوال نیا نہیں،پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردار پر امریکہ میں برسوں سے بحث ہوتی رہی ہے،فارن پالیسی کی موجودہ رپورٹ بھی واضح کرتی ہے کہ عمران خان اور پاکستانی فوج کے درمیان تنازعہ موجودہ بحران کی بنیادی تہوں میں شامل ہے،رپورٹ کے مطابق خان نے 2022 میں اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد فوج پر الزامات عائد کیے، فوج نے ان الزامات کی تردید کی، اور 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد فوجی تنصیبات پر حملوں نے ریاست اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلقات کو مزید شدید بنا دیا
موجودہ بحران میں ایک اور حساس پہلو عمران خان کی صحت اور ان سے خاندان کی ملاقاتوں کا مسئلہ ہے،فارن پالیسی کے مطابق خان کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی صحت خراب ہو رہی ہے اور انہیں خاندان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ صحت مند ہیں اور انہیں مناسب سہولتیں حاصل ہیں
اس کے ساتھ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،حکومت لانگ مارچ روکنے کے لیے سکیورٹی خطرات کا حوالہ دے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے اپنے سیاسی مطالبات کو دبانے کی کوشش قرار دیتی ہے،یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سیاسی احتجاج اور ایک سکیورٹی بحران کے درمیان لکیر دھندلی ہو جاتی ہے
اگر مارچ اٹک کے بعد اسلام آباد کی طرف بڑھتا ہے اور ریاستی ادارے اسے روکنے کے لیے طاقت استعمال کرتے ہیں تو معاملہ صرف ایک ریلی کے منتشر ہونے تک محدود نہیں رہے گا،اس میں وفاقی حکومت، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت، پی ٹی آئی کارکنوں، پولیس، نیم فوجی فورسز اور ممکنہ طور پر فوج کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے،فارن پالیسی کے مطابق حکومت پہلے ہی اس خدشے سے دوچار ہے کہ مظاہرین کو طاقت سے روکنے کی صورت میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہوسکتا ہے
یہی وہ پس منظر ہے جس میں بھارت اور پاکستان کی امریکی میڈیا کوریج کا تقابلی جائزہ اہم بن جاتا ہے
بھارت میں احتجاج بڑھتا ہے تو امریکی میڈیا اسے انتخابی جمہوریت، ووٹ کے حق اور الیکشن کمیشن کی ساکھ کے بحران کے طور پر دیکھتا ہے،پاکستان میں ایک صوبائی حکومت کی حمایت رکھنے والی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کرتی ہے، حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہوتے ہیں، سکیورٹی فورسز کی تعیناتی بڑھتی ہے اور ملک کے پہلے سے موجود عسکریت پسندی کے بحران کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، لیکن امریکی مین اسٹریم میڈیا میں اس کی کوریج نسبتاً محدود ہی نہیں نہ ہونے کے برابر رہتی ہے، جبکہ نیویارک ٹائمز جیسے جمہوریت پسند اخبار میں بھارت میں ہونے والے احتجاج پر ایک ہی شمارے میں چار مختلف خبروں کے ذریعے تفصیل سے معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور پاکستان جو ان دنوں امریکہ ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے اور امریکہ کے ایک اہم اتحادی سعودی عرب کی یمنی حوثیوں سے جنگ میں امریکہ کے دوسرے اتحادی اور نیٹو کے ممبر ترکیہ کے ہمراہ جنگ میں شامل ہے وہاں جمہوریت ہی نہیں ملکی سلامتی بقا معشیت سب ہی کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے ، نیویارک ٹائمز سمیت تمام بڑے امریکی میڈیا نے چپ سادھ لی ہے
یہ فرق بذات خود کسی امریکی پالیسی یا فوجی حمایت کا قطعی ثبوت نہیں،میڈیا کوریج کا حجم خبر کی نوعیت، دستیاب رپورٹرز، ادارتی ترجیحات اور بین الاقوامی نیوز سائیکل سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوتا ہے،لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی جغرافیائی اور سکیورٹی اہمیت اس کے جمہوری بحران کو امریکی میڈیا میں کم ترجیح دینے کا ایک عنصر بن رہی ہے؟
یہ سوال ایران اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ کے تناظر میں مزید حساس ہو جاتا ہے،پاکستان اس وقت سعودی عرب کے دفاع، حوثی حملوں، ایران سے تعلقات، افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعہ سمیت کئی محاذوں کے درمیان کھڑا ہے،ایسے ماحول میں واشنگٹن کے لیے پاکستان کی ریاستی مشینری اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بڑھ سکتی ہے،لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی برقرار رہتا ہے کہ جب ریاستی استحکام اور جمہوری جواب دہی ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو ترجیح کس کو ملتی ہے
پاکستان کا موجودہ لانگ مارچ اسی تضاد کو دوبارہ سامنے لے آیا ہے
ایک طرف عمران خان کے حامی اسے اپنے سیاسی قائد کی رہائی اور عوامی مینڈیٹ کی جنگ قرار دے رہے ہیں،دوسری طرف حکومت اسے ایسے وقت میں سکیورٹی اور امن عامہ کے لیے خطرہ سمجھ رہی ہے جب خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی پہلے ہی سنگین مسئلہ ہے،اور تیسری طرف عالمی میڈیا کے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ کیا پاکستان کا سیاسی بحران واقعی محض ایک داخلی سیاسی تنازعہ ہے یا یہ اس خطے میں طاقت، فوج، جمہوریت اور امریکی مفادات کے بدلتے ہوئے تعلقات کی بڑی کہانی کا حصہ ہے؟
بھارت میں ووٹر فہرستوں کے بحران نے یہ سوال امریکی میڈیا کے صفحۂ اول تک پہنچا دیا ہے،پاکستان کا لانگ مارچ ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا،لیکن اگر اٹک سے آگے بڑھنے والی سیاسی کشیدگی اسلام آباد میں ریاست اور مظاہرین کے درمیان بڑے تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ آج کا محدود میڈیا بحران کل ایک بین الاقوامی خبر بن جائے
اور اس وقت اصل سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ اسلام آباد میں کیا ہوا، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ دنیا نے اسے کب دیکھا، کیسے دیکھا اور کیوں دیکھا؟

قومی خبریں سے مزید