Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملے کی برسی پر ممدانی کا بیان، نیویارک میں غصہ بھڑک اٹھا، یہودی قیادت اور ڈیموکریٹس بھی سامنے آگئے

اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملے کی برسی پر ممدانی کا بیان، نیویارک میں غصہ بھڑک اٹھا، یہودی قیادت اور ڈیموکریٹس بھی سامنے آگئے

نیویارک:اسرائیل پر 7 اکتوبر دو ہزار تئیس کے حماس حملے کی تیسری برسی پر نیویارک کے میئر زوہرن ممدانی کے بیان نے شہر میں پہلے سے موجود اسرائیل اور غزہ کے تنازع پر سیاسی اور سماجی تقسیم کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے،ممدانی نے حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں اور یرغمال بنائے گئے افراد کے غم کا اعتراف کیا، لیکن اپنے بیان کا بڑا حصہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو ’’جاری نسل کشی‘‘ قرار دینے اور امریکی حکومت پر اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے تنقید پر صرف کیا، جس پر یہودی تنظیموں، اسرائیلی حکام اور بعض ڈیموکریٹس کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا
ممدانی نے کہا کہ 7 اکتوبر کا دن نیویارک کے بہت سے شہریوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے،انہوں نے کہا کہ حماس نے اس روز 1,100 سے زیادہ اسرائیلیوں کو ہلاک کیا اور 251 افراد کو یرغمال بنایا، اور انہوں نے اس نقصان پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ غم کا اظہار کیا،تاہم اس کے فوراً بعد انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی تکلیف 7 اکتوبر سے شروع ہوئی اور نہ ہی اسی دن ختم ہوئی، بلکہ غزہ میں اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کے دوران جاری رہی
ممدانی نے غزہ کی صورتحال کو ’’تباہ کن، جاری نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی بمباری، ڈرون حملوں اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹوں پر شدید تنقید کی،انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرکے ان کارروائیوں میں شریک ہے،ان کے بیان میں اسرائیلی قبضے اور نسل پرستی کے خاتمے اور ہر شخص کے لیے آزادی، تحفظ اور وقار کی بات کی گئی
یہی اندازِ بیان تنازعہ کا مرکز بن گیا،نیویارک کی یہودی قیادت اور اسرائیل کے حامی حلقوں نے اعتراض کیا کہ 7 اکتوبر کی برسی بنیادی طور پر اسرائیلی شہریوں کے قتل اور یرغمال بنائے جانے کی یاد کا دن ہے اور ممدانی نے اس موقع پر غزہ کی جنگ پر تفصیلی سیاسی مؤقف اختیار کرکے یہودی نیویارکرز کے غم کو ثانوی بنا دیا،نیویارک ٹائمز سے منسوب رپورٹنگ کے مطابق بعض یہودی رہنماؤں نے ان کے بیان کو یہودی برادری کے درد کے حوالے سے بے حس قرار دیا، جبکہ بعض ترقی پسند یہودی گروہوں نے ممدانی کے مؤقف کا دفاع بھی کیا
تنازعہ صرف یہودی تنظیموں تک محدود نہیں رہا،سی بی ایس نیوز کے مطابق بعض ڈیموکریٹس نے بھی ممدانی کے بیان پر تنقید کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اور غزہ کا معاملہ اب ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی شدید اختلاف کا باعث بن چکا ہے،ممدانی طویل عرصے سے اسرائیلی حکومت کی غزہ پالیسی کے ناقد اور اسرائیل کے لیے امریکی امداد کے مخالف رہے ہیں، جبکہ وہ اس مؤقف کو یہود دشمنی سے الگ قرار دیتے ہیں
دوسری طرف ممدانی کو بائیں بازو کے فلسطین حامی حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا،ایک احتجاجی اجتماع میں بعض مظاہرین نے ان پر اسرائیل کے حوالے سے اپنے انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا اور ان کے خلاف نعرے لگائے،یعنی 7 اکتوبر کی برسی پر ممدانی خود دونوں جانب سے دباؤ کا مرکز بن گئے
یہ تنازعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ممدانی کے لیے یہ نیویارک کے میئر کی حیثیت سے 7 اکتوبر کی پہلی برسی ہے،نیویارک امریکہ میں سب سے بڑی یہودی آبادیوں میں سے ایک رکھتا ہے اور شہر کی سیاست میں اسرائیل، فلسطین، یہود دشمنی اور مسلم و فلسطینی شہریوں کے حقوق پہلے ہی انتہائی حساس سیاسی موضوعات ہیں
ممدانی کے بیان نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لا کر کھڑا کردیا ہے کہ ایک میئر ایسے شہر میں جہاں مختلف مذہبی اور نسلی برادریاں آباد ہیں، 7 اکتوبر جیسے انتہائی حساس دن پر اسرائیلی متاثرین کے غم اور غزہ میں فلسطینیوں کی تکلیف کے درمیان کس طرح سیاسی توازن قائم کرے
اس معاملے میں ممدانی کا مؤقف واضح ہے،وہ 7 اکتوبر کے حملے کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی متاثرین کے غم کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس دن کو غزہ میں ہونے والی تباہی سے الگ نہیں کیا جا سکتا،ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ برسی کے دن دونوں معاملات کو ایک ساتھ پیش کرنے سے اسرائیلی اور یہودی شہریوں کے مخصوص غم کی اہمیت کم ہوتی ہے، جبکہ ان کے حامیوں کے نزدیک فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو نظر انداز کرکے 7 اکتوبر کو یاد کرنا تصویر کا صرف ایک حصہ پیش کرنا ہوگا
یوں 7 اکتوبر کی تیسری برسی نے نیویارک میں صرف تین سال پرانے ایک حملے کی یاد تازہ نہیں کی بلکہ ممدانی کی میئر شپ کے ایک بڑے سیاسی چیلنج کو بھی نمایاں کر دیا ہے،ایک ایسے شہر میں جہاں یہودی، مسلم، فلسطینی اور دیگر برادریاں غزہ جنگ کے بارے میں شدید مختلف جذبات رکھتی ہیں، کیا ممدانی ایسی زبان اختیار کر سکتے ہیں جو متاثرین کے مختلف تجربات کو تسلیم کرے، یا ان کا مؤقف شہر کی پہلے سے موجود سیاسی اور سماجی خلیج کو مزید گہرا کرے گا

قومی خبریں سے مزید