Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دنیا جنگوں میں جل رہی ہے اور ممدانی گڑھے بھر رہے ہیں، نیویارک کے میئر نے سیاست کی بنیاد ہی بدلنے کا نسخہ پیش کردیا

دنیا جنگوں میں جل رہی ہے اور ممدانی گڑھے بھر رہے ہیں، نیویارک کے میئر نے سیاست کی بنیاد ہی بدلنے کا نسخہ پیش کردیا

نیویارک: دنیا کے بڑے رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگوں، آمریت، موسمیاتی تباہی اور عالمی بحرانوں پر طویل تقاریر کر رہے تھے، مگر نیویارک کے میئر زوہرن ممدانی نے بڑھتی ہوئی آمریت اور جمہوریت پر عوام کے اعتماد کے بحران کا ایک ایسا حل پیش کیا جس نے روایتی عالمی سیاست کے برعکس سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی
ممدانی کا جواب تھا: گڑھے بھریں
نیویارک ٹائمز کی کالم نگار لیڈیا پولگرین کے مطابق ممدانی نے دنیا بھر کے بڑے شہروں کے میئرز کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ اگر سیاست آپ کے گھر کے باہر موجود سڑک کا ایک گڑھا بھی نہیں بھر سکتی تو شہری اس بات پر کیوں یقین کریں گے کہ حکومت ان کے بڑے مسائل حل کر سکتی ہے؟
ممدانی کے مطابق حکومت پر اعتماد بڑے عالمی نعروں سے نہیں بلکہ شہری کی روزمرہ زندگی میں نظر آنے والی چھوٹی تبدیلیوں سے پیدا ہوتا ہے،ان کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت ایک نیویارکر کا سفر قدرے آسان بنا سکتی ہے تو وہ شہری کو یہ یقین بھی دلا سکتی ہے کہ حکومت اس کے دوسرے بڑے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے
یہ محض سیاسی بیان نہیں تھا،ممدانی انتظامیہ نے گڑھوں کی مرمت کو شہری حکومت کی کارکردگی کی نمایاں علامت بنا دیا ہے،نیویارک سٹی کے مطابق رواں سال شہر میں 200,000 گڑھوں کی مرمت کا سنگ میل ستمبر میں عبور کیا گیا،اپریل میں پہلے 100 دنوں کے دوران 100,000 گڑھے بھرنے کا سنگ میل بھی حاصل کیا گیا تھا
ممدانی کے اس تصور کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب اسے دنیا بھر میں جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد میں کمی کے تناظر میں دیکھا جائے،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنما یوکرین، ایران، غزہ، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آمریت جیسے بڑے بحرانوں پر گفتگو کرتے ہیں، لیکن عام شہری کے لیے حکومت کی کامیابی کا پیمانہ اکثر اس کے گھر، سڑک، ٹرانسپورٹ، رہائش اور روزمرہ اخراجات جیسے مسائل ہوتے ہیں
یہی وہ خلا ہے جسے ممدانی اپنی سیاست کے ذریعے پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ان کے نزدیک عالمی سطح پر بڑے سیاسی دعوے کرنے سے پہلے حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے شہریوں کی روزمرہ زندگی بہتر بنا سکتی ہے
ممدانی کی حکمت عملی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ معمولی نظر آنے والے شہری مسائل کو بڑے سیاسی سوال سے جوڑتے ہیں،ایک گڑھا بظاہر سڑک کا مسئلہ ہے، لیکن ان کے سیاسی تصور میں یہ حکومت کی ساکھ کا مسئلہ بن جاتا ہے،جب شہری بار بار خراب سڑک، ناقص ٹرانسپورٹ یا دوسرے بنیادی مسائل کا سامنا کرتا ہے تو اس کے لیے حکومت کے بڑے وعدوں پر اعتماد کرنا مشکل ہو سکتا ہے
اسی لیے ممدانی کے نزدیک حکومت کی کارکردگی صرف بجٹ، قوانین یا عالمی سفارت کاری سے نہیں ناپی جانی چاہیے بلکہ اس سوال سے بھی ناپی جانی چاہیے کہ کیا عام شہری اپنی روزمرہ زندگی میں حکومت کی موجودگی محسوس کر رہا ہے؟
یہ تصور ممدانی کی وسیع تر حکمرانی کی حکمت عملی سے بھی جڑا ہوا ہے،ان کی انتظامیہ نے سڑکوں، ٹرانسپورٹ، برف ہٹانے، عوامی سہولتوں اور رہائش جیسے مسائل کو حکومت کی عملی کارکردگی کے مرکز میں رکھا ہے،اپریل میں میئر کے دفتر نے بتایا تھا کہ پہلے 100 دنوں میں 100,000 گڑھے بھرنے کے ساتھ شہر نے لاکھوں پاؤنڈ برف صاف کی، ہزاروں بس اسٹاپ اور کراس واکس بحال کیے اور نکاسی آب کے نظام میں سرمایہ کاری شروع کی
ممدانی کے اس نقطۂ نظر کا اصل سیاسی سوال تاہم نیویارک سے کہیں بڑا ہے،اگر شہری حکومت ایک گڑھا بھرنے، بس بہتر کرنے یا رہائش کا مسئلہ حل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو کیا اس سے جمہوریت پر اعتماد بھی مضبوط ہو سکتا ہے؟ اور اگر حکومت یہ معمولی کام بھی مؤثر طریقے سے نہ کر سکے تو کیا بڑے سیاسی وعدے شہریوں کو دوبارہ جمہوری نظام پر یقین دلا سکتے ہیں؟
نیویارک ٹائمز کا تجزیہ اسی بنیادی تضاد کی طرف اشارہ کرتا ہے،دنیا عالمی بحرانوں کے حل کے لیے بڑے اداروں اور بڑی تقریروں کی طرف دیکھ رہی ہے، جبکہ ممدانی سیاست کی ساکھ کو ایک بالکل مختلف سطح پر جانچنے کی بات کر رہے ہیں،آپ کے گھر کے باہر سڑک کیسی ہے؟
ممدانی کا پیغام دراصل یہ ہے کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے ہمیشہ بڑی تقریر کی ضرورت نہیں ہوتی،کبھی کبھی حکومت کو صرف یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ شہری کی زندگی میں ایک چھوٹا سا مسئلہ واقعی حل کر سکتی ہے،اور شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے عالمی بحرانوں کے درمیان نیویارک کے گڑھے بھرنے کی مہم ایک معمولی شہری منصوبے کے بجائے سیاست، حکومت اور عوام کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد پر ایک بڑی بحث بن گئی ہے

قومی خبریں سے مزید