Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت کی ’کاکروچ پارٹی‘ کا نیا دھمادھم مست قلندر،جن زی کی نئی بغاوت نے مودی حکومت کو ایک اور محاذ پر گھیر لیا

بھارت کی ’کاکروچ پارٹی‘ کا نیا دھمادھم مست قلندر،جن زی کی نئی بغاوت نے مودی حکومت کو ایک اور محاذ پر گھیر لیا

نئی دہلی: بھارت میں چند ماہ قبل ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم کے طور پر سامنے آنے والی کاکروچ جنتا پارٹی اب نوجوانوں کی ایک باقاعدہ احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے؟جن زی کی قیادت میں ابھرتی اس تحریک کے کارکنوں نے الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لاکھوں اہل ووٹروں کے حق رائے دہی کو متاثر کر سکتی ہیں
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے ہیں، جو بوسٹن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں،یہ تحریک مئی 2026 میں اس وقت شروع ہوئی جب بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک عدالتی ریمارک کو نوجوانوں کے لیے توہین آمیز سمجھا گیا،دپکے نے اسی ’’کاکروچ‘‘ کے لفظ کو مزاحیہ انداز میں اپنی سیاسی شناخت بنا لیا اور سوال اٹھایا کہ اگر نوجوانوں کو کاکروچ کہا جا رہا ہے تو پھر کیوں نہ ’’تمام کاکروچ ایک جگہ جمع ہو جائیں‘‘
چند ہی ہفتوں میں یہ مذاق ایک بڑے نوجوان پلیٹ فارم میں تبدیل ہوگیا،اس تحریک نے بے روزگاری، امتحانات میں پرچے لیک ہونے، تعلیمی نظام کے بحران اور نوجوانوں کے سیاسی طور پر نظر انداز کیے جانے جیسے مسائل کو اپنی مہم کا مرکز بنا لیا،دپکے کا کہنا ہے کہ روایتی سیاسی جماعتیں نوجوانوں کی بات نہیں سنتیں اور اسی خلا نے اس تحریک کو جنم دیا
اب یہ تحریک ایک نئے اور زیادہ حساس مسئلے میں داخل ہوگئی ہے،بھارت میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زیادہ نام حذف کیے جانے پر اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور شہری گروہوں نے سوالات اٹھائے ہیں،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد جعلی، دہری اور غیر اہل ووٹر اندراجات کو ختم کرنا ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس عمل میں حقیقی ووٹر بھی متاثر ہو سکتے ہیں
نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے ، کاکروچ جنتا پارٹی نے اسی معاملے کو اپنی نئی مہم کا مرکز بنا لیا ہے اور الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے،2 اکتوبر کو ممبئی میں سیکڑوں کارکنوں نے احتجاج کیا، جبکہ بنگلورو سمیت دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے،7 اکتوبر کو نئی دہلی میں اپوزیشن رہنما راہول گاندھی اور متعدد ارکان پارلیمنٹ بھی انتخابی فہرستوں کے معاملے پر احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے
کاکروچ تحریک کی خاص بات اس کا روایتی سیاسی زبان سے مختلف انداز ہے،نوجوانوں نے جس لفظ کو ان کے خلاف توہین کے طور پر استعمال کیا گیا، اسی کو اپنی شناخت بنا لیا،احتجاجی مظاہروں میں کاکروچ کے ماسک اور علامتیں استعمال کی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا میمز کو سیاسی احتجاج کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،تجزیہ کاروں کے مطابق یہی غیر روایتی انداز اس تحریک کو روایتی سیاسی جماعتوں سے مختلف بناتا ہے
اس تحریک کے لیے سب سے بڑا سوال اب یہ ہے کہ کیا کروڑوں سوشل میڈیا فالوورز اور آن لائن حمایت کو مستقل سیاسی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے،خود دپکے نے ابتدا میں کہا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے، جبکہ ان کا مقصد حکومت کو جواب دہ بنانے کے لیے ایک دباؤ گروپ تشکیل دینا تھا
لیکن سڑکوں پر بڑھتے ہوئے احتجاج نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے،امتحانی نظام سے شروع ہونے والی یہ نوجوان تحریک اب روزگار، سیاسی نمائندگی، ووٹر فہرستوں اور انتخابی عمل تک پہنچ چکی ہے،اس طرح ’’کاکروچ‘‘ کا مذاق بھارت کی نئی جن زی نسل کے لیے ایک وسیع تر سیاسی شناخت میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے
بھارت کی روایتی سیاست کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ یہ نوجوان صرف کسی ایک جماعت کے خلاف احتجاج نہیں کر رہے بلکہ وہ تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی اور اپنے ووٹ کے حق سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں نوجوان آبادی سیاسی مستقبل کا بڑا حصہ تشکیل دیتی ہے، کاکروچ جنتا پارٹی کا ابھرنا محض ایک انٹرنیٹ مہم نہیں بلکہ نئی نسل کے بڑھتے ہوئے سیاسی عدم اطمینان کا ایک نمایاں اظہار بن چکا ہے

قومی خبریں سے مزید