ترقی کے دعوے، مگر غربت میں خوفناک اضافہ: عمران خان سے شہباز شریف تک پاکستان کی معیشت کی چھ سالہ کہانی
تجزیاتی رپورٹ: عامر آرائیں
اسلام آباد: پاکستان میں گزشتہ چھ برس کے دوران اقتدار بدلتا رہا، معاشی پالیسیاں بدلتی رہیں، وزرائے خزانہ بدلتے رہے اور ہر حکومت نے معیشت کو بحران سے نکالنے یا اسے ترقی کی راہ پر ڈالنے کا دعویٰ کیا، مگر تازہ سرکاری اعداد نے ان تمام دعووں کے درمیان ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے،اگر معیشت واقعی عوام کے لیے بہتر ہو رہی تھی تو غربت کیوں بڑھ گئی؟
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ Household Integrated Economic Survey 2024-25 کے مطابق قومی غربت کی شرح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی۔ یعنی چھ برس میں غربت میں 7 percentage points اضافہ ہوا،عالمی بینک کے مختلف بین الاقوامی غربت کے پیمانے پر بھی اسی عرصے میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے،عالمی بینک نے اپنی جامع Poverty, Equity and Resilience Assessment میں کہا کہ پاکستان میں 2018-19 تک کئی برس جاری رہنے والی غربت میں کمی کا رجحان 2020 کے بعد پلٹ گیا اور کورونا، مہنگائی، سیلاب اور مسلسل معاشی دباؤ نے غریب گھرانوں کو شدید متاثر کیا
یہ اعداد کسی ایک حکومت کے خلاف فرد جرم نہیں بلکہ 2018-19 سے 2024-25 تک پورے معاشی دور کی ایک ایسی تصویر ہیں جس میں ہر حکومت کے پاس اپنی کامیابی بیان کرنے کے لیے الگ اعداد موجود تھے، مگر عام گھرانے کے لیے نتیجہ کہیں زیادہ تلخ نکلا
2018-19 میں عمران خان کی حکومت اقتدار میں آچکی تھی اور اس دور کا بنیادی بیانیہ یہ تھا کہ سابق حکومتوں کی غلط معاشی پالیسیوں کے باعث ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ابتدا میں مشکل فیصلے ضروری ہیں، جن کے بعد معیشت مستحکم ہوگی اور ترقی کا راستہ کھلے گا،بعد میں حکومت نے بالخصوص 2020-21 اور 2021-22 کی بلند شرح نمو کو اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا
مئی 2021 میں حکومت نے اعلان کیا کہ پاکستان کی GDP شرح نمو 3.94 فیصد رہی ہے،اس وقت وزیراعظم عمران خان نے اسے اپنی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کورونا کے دوران پاکستان کی معیشت کی ’’V-shaped recovery‘‘ کا حوالہ دیا
اکتوبر 2021 میں عمران خان نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے عالمی بینک کے ایک مختلف بین الاقوامی غربت کے پیمانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ غربت FY2020 کے 5.3 فیصد سے کم ہو کر FY2021 میں 4.8 فیصد ہوگئی ہے اور 2023 تک 4 فیصد تک آنے کی توقع ہے،انہوں نے اسے حکومت کی ’’productivity-led growth‘‘ پالیسی کا نتیجہ قرار دیا
یہاں اصل مسئلہ اعداد کا نہیں بلکہ اعداد کے انتخاب کا ہے،عمران خان حکومت کے حامی آج بھی 2021-22 کی تقریباً 6 فیصد GDP growth کو اپنے دور کی معاشی کامیابی کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں،لیکن اسی دور کے اختتام پر معیشت کے اندر پیدا ہونے والے عدم توازن کو نظر انداز کرنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا،پاکستان کے Economic Survey 2021-22 نے خود 5.97 فیصد نمو کو ’’unsustainable growth‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں معاشی عدم توازن پیدا ہوا،IMF نے بھی FY2022 کی تیز رفتار توسیع کے ساتھ معیشت میں overheating کے آثار، درآمدات کے دباؤ اور بڑھتے ہوئے current account deficit کی نشاندہی کی تھی
یعنی عمران خان دور کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ معیشت میں کوئی ترقی ہوئی ہی نہیں،ترقی کے اعداد موجود تھے، صنعت اور خدمات میں اضافہ ہوا اور کورونا کے بعد معیشت نے تیزی سے بحالی دکھائی،لیکن یہ کہنا بھی مکمل تصویر نہیں کہ بلند GDP growth لازماً عام پاکستانی کی معاشی حالت بہتر ہونے کا ثبوت تھی،خود IMF کے مطابق اسی رفتار کے ساتھ overheating اور بیرونی عدم توازن بڑھ رہا تھا
اپریل 2022 میں حکومت تبدیل ہوئی اور شہباز شریف کی قیادت میں نئی اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معاشی بحران پہلے ہی گہرا ہوچکا تھا،نئی حکومت نے سابق حکومت پر معاشی بدانتظامی کا الزام لگایا، جبکہ اپنے فیصلوں کو ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیا،2022-23 میں صورتحال مزید خراب ہوئی،سرکاری Economic Survey کے مطابق GDP growth صرف 0.29 فیصد رہی جبکہ مہنگائی تقریباً 29.2 فیصد تک پہنچ گئی،حکومت نے سیلاب، عالمی اجناس کی قیمتوں، روس یوکرین جنگ اور سابقہ معاشی عدم توازن کو بحران کی بڑی وجوہات میں شمار کیا
پھر 2023 میں شہباز حکومت کے بعد نگران حکومت آئی،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور ان کی معاشی ٹیم نے اپنی توجہ ’’معاشی استحکام‘‘، IMF پروگرام کی تکمیل، روپے کو مستحکم کرنے، سرمایہ کاری اور SIFC کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ لانے پر مرکوز کی،ستمبر 2023 میں کاکڑ حکومت نے IMF کے 3 ارب ڈالر کے Stand-By Arrangement کو معیشت کے استحکام اور بحالی کے لیے اہم قرار دیا،حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انتظامی اقدامات کے نتیجے میں روپے اور بیرونی کھاتے میں بہتری آ رہی ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہو رہا ہے
لیکن نگران حکومت کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ اسے عوام کو طویل المدت معاشی خوشحالی دینے کے بجائے فوری طور پر ایک ایسے نظام کو سنبھالنا تھا جو شدید زرمبادلہ اور مہنگائی کے بحران سے گزر رہا تھا،خود نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے IMF پروگرام، مالیاتی اقدامات، ٹیکس اصلاحات اور circular debt جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا
2024 میں شہباز شریف دوبارہ وزیراعظم بنے تو معاشی بیانیہ ایک بار پھر تبدیل ہوا،اب حکومت کا مرکزی دعویٰ تھا کہ ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل چکا ہے، IMF پروگرام بحال ہوچکا ہے، مہنگائی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور معیشت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے،سرکاری Economic Survey کے مطابق FY2023-24 میں GDP growth 2.38 فیصد رہی، جبکہ شہری مہنگائی مئی 2023 کے 48.1 فیصد سے اپریل 2024 میں 11.3 فیصد تک آگئی۔ حکومت نے اسے معاشی استحکام کی علامت قرار دیا
2024-25 میں حکومت کے پاس اپنے دعوے کے لیے ایک اور مضبوط عدد آگیا: مہنگائی نمایاں طور پر کم ہوگئی،حکومت کے مطابق FY2024-25 میں اوسط مہنگائی تقریباً 4.7 فیصد رہی جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد تک آیا،وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے جون 2025 میں اعلان کیا کہ پاکستان نے IMF شرائط پوری کرتے ہوئے معاشی استحکام حاصل کرلیا ہے اور حکومت کا ہدف موجودہ IMF پروگرام کو ملک کا ’’آخری‘‘ پروگرام بنانا ہے
یہاں ایک بار پھر اعداد کا تضاد سامنے آتا ہے
مہنگائی کم ہوئی، لیکن غربت بڑھ گئی،GDP مثبت ہوئی، لیکن غربت 21.9 فیصد سے 28.9 فیصد ہوگئی
روپیہ نسبتاً مستحکم ہوا، لیکن کم آمدنی والے گھرانوں کی مجموعی فلاح بحال نہ ہوسکی
اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں حکومتوں کے معاشی دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان سب سے بڑا سوال پیدا ہوتا ہے
عمران خان حکومت اپنے دور کی بلند GDP growth دکھاتی ہے،شہباز شریف حکومت مہنگائی میں کمی اور IMF کے بعد استحکام دکھاتی ہے،نگران حکومت روپے، IMF پروگرام اور سرمایہ کاری کے امکانات کو اپنی کامیابی بتاتی رہی،لیکن غربت کا تازہ سرکاری پیمانہ ان تمام ادوار کو ملا کر دیکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان مجموعی قومی غربت 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں 2001-02 سے 2018-19 تک غربت مسلسل کم ہوتی رہی اور قومی غربت 64.3 فیصد سے گھٹ کر 21.9 فیصد تک آگئی تھی۔ یعنی 2018-19 وہ مقام تھا جہاں دو دہائیوں کی مجموعی غربت میں کمی کے بعد رجحان تبدیل ہوا،عالمی بینک کے مطابق 2020 کے بعد کورونا، مہنگائی، سیلاب اور macroeconomic stress نے اس پیش رفت کو الٹنا شروع کیا
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ موجودہ غربت کے تمام اضافے کا الزام صرف عمران خان، صرف شہباز شریف یا صرف نگران حکومت پر ڈالنا اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا،عالمی بینک خود متعدد مشترکہ جھٹکوں کی نشاندہی کرتا ہے،لیکن یہی حقیقت ان تمام حکومتوں کے معاشی دعووں کو مزید سخت سوال کے سامنے کھڑا کرتی ہے،اگر ہر دور میں معیشت کسی نہ کسی مرحلے پر ’’بحال‘‘، ’’مستحکم‘‘ یا ’’ترقی کی راہ پر‘‘ تھی تو اس بحالی کا فائدہ غریب گھرانوں تک کیوں نہیں پہنچ سکا؟
پاکستان کی معاشی بحث میں شاید سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی پسند کے ایک یا دو اعداد اٹھا کر پورے دور کو کامیاب یا ناکام ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں،عمران خان کے حامی 5.97 فیصد GDP growth دکھاتے ہیں، شہباز شریف کی حکومت 4.7 فیصد مہنگائی دکھاتی ہے، نگران حکومت IMF اور روپے کے استحکام کو سامنے رکھتی ہے، مگر عام شہری کے لیے اصل سوال GDP کی شرح یا IMF کی قسط سے زیادہ بنیادی ہے،اس کی آمدنی، روزگار اور خریدنے کی طاقت میں کیا ہوا؟
تازہ HIES کے اعداد کا جواب آسان نہیں مگر واضح ضرور ہے۔ 2018-19 میں 21.9 فیصد قومی غربت کے مقابلے میں 2024-25 میں 28.9 فیصد غربت کا مطلب ہے کہ پاکستان نے اس عرصے میں معاشی استحکام کے کئی مرحلے دیکھے، مگر غربت میں کمی کی پائیدار رفتار واپس حاصل نہیں کی
یوں چھ برس کی یہ کہانی کسی ایک سیاسی جماعت کی فتح یا شکست کی کہانی سے زیادہ پاکستان کے معاشی ماڈل کی ناکامی کا سوال بن جاتی ہے،حکومتیں GDP، IMF، زرمبادلہ، شرح سود اور مہنگائی کے اعداد کو کامیابی کے طور پر پیش کرتی رہیں، لیکن جب گھرانوں کی حقیقی فلاح کو غربت کے پیمانے پر ناپا گیا تو نتیجہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ غریب پاکستان کی صورت میں سامنے آیا






