اسپین:ستاسی سالہ ماری کارمن کو اسٹریچر پر گھر سے نکالا گیا، عوام سڑکوں پر آگئے، وزیراعظم نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کردیا
یہ کہانی صرف ایک بزرگ خاتون کے گھر سے بے دخل کیے جانے کی نہیں، بلکہ اس سوال کی ہے کہ ایک ریاست اپنے سب سے کمزور شہری کے ساتھ کس حد تک کھڑی ہوتی ہے
میڈرڈ میں 87 سالہ ماری کارمن اباسکال کو گزشتہ ماہ اس اپارٹمنٹ سے اسٹریچر پر نکال کر ایمبولینس میں منتقل کردیا گیا جہاں وہ تقریباً 70 سال سے رہ رہی تھیں،ان کے والد نے یہ مکان 1956 میں کرائے پر لیا تھا اور والدین کے انتقال کے بعد ماری کارمن اسی گھر میں کرایہ دار کی حیثیت سے رہتی رہیں،وہ ریٹائرڈ اور جسمانی طور پر معذور تھیں اور اپنی پنشن پر زندگی گزار رہی تھیں
پھر اس گھر کی ملکیت تبدیل ہوگئی،سرمایہ کاری کے ایک ادارے نے اپارٹمنٹ خرید لیا اور ماری کارمن کا ماہانہ کرایہ، جو تقریباً 500 یورو تھا، اچانک بڑھا کر 2,650 یورو کردیا گیا،بعد میں یہ رقم کم کرکے 1,650 یورو کردی گئی، مگر ایک ریٹائرڈ خاتون کے لیے یہ رقم بھی ناقابل برداشت تھی
23 ستمبر کو جب انہیں گھر سے نکالا گیا تو یہ منظر کیمروں نے ریکارڈ کرلیا،ایک 87 سالہ خاتون، جو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسی گھر میں گزار چکی تھیں، اسٹریچر پر اپنے گھر سے باہر لائی جارہی تھیں،وہ منظر اسپین کے لوگوں کے دل کو چھو گیا اور ہاؤسنگ کا مسئلہ اچانک صرف کرایوں اور مکانوں کی قیمتوں کا معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک انسانی المیہ بن گیا
لوگ ماری کارمن کی مدد کے لیے سڑکوں پر نکل آئے،میڈرڈ کے مرکزی پورتا ڈیل سول چوک میں احتجاجی کیمپ قائم ہوگیا،دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے،ہفتوں سے بڑھتے ہوئے کرایوں اور قابل برداشت گھروں کی کمی پر عوام میں غصہ موجود تھا، لیکن ماری کارمن کی بے دخلی نے اس غصے کو ایک چہرہ، ایک نام اور ایک انسانی کہانی دے دی
ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر آگئے،ہفتے کے روز میڈرڈ میں ہونے والے مظاہرے میں حکام نے تقریباً 70 ہزار افراد کی شرکت بتائی جبکہ منتظمین کا دعویٰ تھا کہ تعداد 5 لاکھ تک پہنچی،مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت ایسے قوانین بنائے جن سے عام شہری اپنے گھر سے محض اس لیے محروم نہ ہوجائے کہ کسی سرمایہ کاری کمپنی نے جائیداد خرید لی ہے
عوامی دباؤ کے بعد اسپین کی حکومت نے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا،حکومت نے کمزور اور خطرے سے دوچار کرایہ داروں کو بے دخلی سے تحفظ 2030 تک بڑھانے، عارضی اور کمرہ وار کرایوں کو منظم کرنے اور قیاس آرائی پر مبنی جائیداد کی خریداری کو محدود کرنے سمیت مختلف اقدامات تجویز کیے،حکومت نے یہ بھی کہا کہ ماری کارمن جیسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے ریاست کو مداخلت کرنا ہوگی
اور پھر ماری کارمن کی کہانی میں ایک غیرمعمولی موڑ آیا
عوامی احتجاج اور سیاسی دباؤ کے بعد سرمایہ کاری کمپنی کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت ماری کارمن دوبارہ اپنے گھر واپس جاسکیں گی،ان کا کرایہ ان کی آمدن کے 30 فیصد تک محدود کردیا گیا، جس کا مطلب تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تقریباً 500 یورو ماہانہ ادا کریں گی، یعنی تقریباً وہی رقم جو وہ پہلے ادا کررہی تھیں،ان کی وکیل کے مطابق ماری کارمن اس فیصلے سے بہت خوش تھیں
لیکن اس وقت تک یہ مسئلہ صرف ماری کارمن کا نہیں رہا تھا،اسپین کے لاکھوں شہریوں کا سوال بن چکا تھا کہ اگر کئی دہائیوں سے ایک گھر میں رہنے والی 87 سالہ ریٹائرڈ خاتون بھی بڑھتے ہوئے کرائے سے محفوظ نہیں تو عام آدمی اپنے مستقبل کو کیسے محفوظ سمجھے؟
یہی غصہ بالآخر اسپین کی پارلیمنٹ تک پہنچا،وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی حکومت نے ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے کے لیے دو ہنگامی حکمنامے پارلیمنٹ میں پیش کیے، جن میں بے دخلیوں کو محدود کرنے اور جائیداد میں قیاس آرائی کو روکنے کے اقدامات شامل تھے۔ مگر گزشتہ ہفتے دائیں بازو کی جماعتوں نے متحد ہوکر حکومت کی تجاویز کو شکست دے دی
اور پھر اسپین کے وزیراعظم نے وہ فیصلہ کردیا جو ترقی یافتہ جمہوریتوں میں عوامی دباؤ اور پارلیمانی شکست کے درمیان سیاسی جواب دہی کی ایک مثال بن گیا
پیڈرو سانچیز نے پیر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسپین میں 29 نومبر کو قبل از وقت عام انتخابات ہوں گے،ان کی حکومت کو انتخابات اگلے سال کرانے تھے، لیکن ہاؤسنگ بحران، عوامی احتجاج اور پارلیمنٹ میں شکست کے بعد انہوں نے عوام سے دوبارہ فیصلہ لینے کا راستہ اختیار کیا
یہ واقعہ ایک بڑے سوال کو بھی جنم دیتا ہے،اسپین کوئی غریب یا جنگ زدہ ملک نہیں؟یہ یورپ کا ایک ترقی یافتہ، جدید اور جمہوری ملک ہے،وہاں حکومت کو ایک ایسے مسئلے پر سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے جسے دنیا کے بہت سے ممالک میں شاید حکومت کے لیے انتہائ معمولی انتظامی مسئلہ سمجھا جاتا ہے
ایک بزرگ خاتون کا گھر چھن گیا، عوام سڑکوں پر آگئے، حکومت نے ہنگامی قانون سازی کی، پارلیمنٹ نے اسے مسترد کردیا اور وزیراعظم نے عوام کے پاس واپس جانے کا فیصلہ کرلیا
یہی وہ فرق ہے جس پر ترقی پذیر دنیا کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے
یورپ اور امریکہ کی ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط معیشتوں یا سڑکوں اور پلوں کی وجہ سے نہیں ہوئی،ان معاشروں کی طاقت کا ایک بنیادی حصہ اخلاقی جواب دہی، قانون کی بالادستی، اداروں کی ذمہ داری اور عوام کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس بھی ہے
وزیراعظم ہو یا وزیر، گورنر ہو یا صدر، جب حکومت کسی بڑے عوامی مسئلے پر اعتماد کھو بیٹھے یا پارلیمانی حمایت کھو دے تو وہاں اقتدار کو ذاتی ملکیت سمجھ کر کرسی سے چمٹے رہنا جمہوریت کا معمول نہیں سمجھا جاتا،عوام کو فیصلہ واپس دینے کا راستہ موجود رہتا ہے
اس کے مقابلے میں تیسری دنیا کے بہت سے معاشروں میں اصل مسئلہ صرف غربت، مہنگائی یا وسائل کی کمی نہیں بلکہ اخلاقی جواب دہی کا فقدان بھی ہے،اشرافیہ اقتدار کو عوام کی امانت کے بجائے اپنا حق سمجھنے لگے تو ادارے کمزور، قانون دوہرا اور عوام بے اختیار ہوجاتے ہیں
اسپین میں ماری کارمن اباسکال کا گھر واپس مل گیا، مگر ان کی کہانی نے ایک پورے ملک کو یہ سوال ضرور دے دیا کہ ریاست کس کے لیے ہے
اور اسی سوال نے ایک بزرگ خاتون کے گھر سے نکل کر اسپین کے وزیراعظم کو دوبارہ عوام کے دروازے تک پہنچا دیا ہے
29 نومبر کو اسپین کے عوام فیصلہ کریں گے کہ ہاؤسنگ بحران، مہنگے کرایوں اور حکومت کی کارکردگی پر وہ کس کو ذمہ دار سمجھتے ہیں





